
SIR نے 35 سال بعد بچھڑے دو بھائیوں کو ملایا، اسکول میں گلے لگ کر رو پڑے
میں اسے پچھلے 35 سال سے تلاش کر رہا ہوں، ہاں وہ میرا بھائی ہے۔
نئی دہلی ، 7 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ملک گیر سطح پر جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر تصدیق کا ایک معمول کا عمل اس وقت انتہائی جذباتی منظر میں تبدیل ہوگیا، جب ہریانہ کے جند میں 35 سال سے بچھڑے دو بھائی اچانک دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا تو اسکول میں موجود لوگ بھی جذباتی ہوگئے۔
یہ واقعہ جند کے منوہر پور کے گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول میں پیش آیا۔ دونوں بھائی تقریباً 35 سال سے ایک دوسرے سے الگ تھے اور ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں تھے۔ معمول کی تصدیق کے دوران ان کا دوبارہ ملنا ممکن ہوا۔
اطلاعات کے مطابق سیتا رام اپنا ایس ایل سی لینے اسکول پہنچے تھے۔ اس دوران وہاں موجود بی ایل او نے ان سے ان کے گاؤں، والد کا نام اور بھائی کا نام پوچھا۔ جب سیتا رام نے اپنے بھائی کا نام بتایا تو بی ایل او نے تصدیق کے لیے فون پر ان کے بھائی سے رابطہ کیا۔
فون پر بھائی نے سیتا رام کی شناخت کرتے ہوئے کہا، "ہاں، وہ میرا بھائی ہے۔ میں اسے پچھلے 35 سال سے تلاش کر رہا ہوں۔”
جب اسے معلوم ہوا کہ سیتا رام ابھی اسکول میں ہی موجود ہیں تو وہ فوری طور پر وہاں پہنچ گیا۔ کئی دہائیوں کے بعد دونوں بھائی ایک دوسرے کے سامنے آئے تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ دونوں روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر اسکول میں موجود افراد بھی آبدیدہ ہوگئے۔
موقع پر موجود ایڈیشنل اے ای آر او ڈاکٹر رمیش کمار نے دونوں بھائیوں کے اس جذباتی ملاپ کو یادگار تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف انتظامی تصدیق تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل او کی چوکسی اور معمول کی ایک سادہ تصدیق نے برسوں سے ایک دوسرے سے جدا دو بھائیوں کو دوبارہ ملانے میں اہم کردار ادا کیا۔



