قومی خبریں

میرٹھ سانپ قتل کیس: جیل میں پہلی رات ملزمہ کی حالت غیر، مبینہ عاشق سے ملاقات کی خواہش

سانپ کے ذریعے مبینہ شوہر کے قتل کیس میں گرفتار خاتون جیل میں پہلے دن مسلسل روتی رہی۔

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں سانپ کے ذریعے مبینہ طور پر شوہر کو قتل کرنے کے سنسنی خیز مقدمے میں گرفتار خاتون نے جیل میں اپنی پہلی رات روتے ہوئے گزاری اور بار بار جیل حکام سے اپنے مبینہ عاشق سے ملاقات کرانے کی درخواست کی۔ تاہم جیل انتظامیہ نے ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کر دی۔

جیل حکام کے مطابق خاتون گرفتاری کے بعد سے انتہائی افسردہ دکھائی دے رہی ہے، کم بولتی ہے اور کئی مرتبہ اپنے بچوں اور خاندان کو یاد کرکے آبدیدہ ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسے جیل کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق خاتون کو خواتین بیرک میں میرٹھ کے ہی مشہور "بلو ڈرم قتل کیس” کی مرکزی ملزمہ مسکان رستوگی کے ساتھ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ جیل انتظامیہ انتظامی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً قیدیوں کی بیرکیں تبدیل کرتی رہتی ہے۔

پولیس کے مطابق مقتول آتل پنوار، جو ہستیناپور میں ایک اسکول کے مالک تھے، اپنی اہلیہ اور اسکول کے ڈرائیور کے درمیان مبینہ تعلقات میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ الزام ہے کہ اسی وجہ سے ان کے قتل کی سازش تیار کی گئی تاکہ تقریباً 20 لاکھ روپے کی لائف انشورنس رقم بھی حاصل کی جا سکے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے کئی ہفتوں تک منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ پہلے آتل پنوار کو ایک جعلی سڑک حادثے میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ بچ گئے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر زہریلے سانپ کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔

پولیس کے مطابق واردات کی رات مقتول کو پہلے بے ہوش کرنے والی دوا دی گئی، جس کے بعد ایک زندہ زہریلا سانپ ان کے بستر پر چھوڑ دیا گیا۔ ابتدائی طور پر واقعہ عام سانپ کے ڈسنے سے موت معلوم ہوا، جس کے باعث قتل کا شبہ فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔

بعد ازاں فرانزک شواہد، موبائل فون ریکارڈ، اہل خانہ اور دیگر افراد سے پوچھ گچھ کے دوران کئی تضادات سامنے آئے، جس کے بعد پولیس نے مقتول کی اہلیہ، اس کے مبینہ عاشق اور دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے قتل کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا، جبکہ شریک ملزمان کو مبینہ طور پر انشورنس کی رقم میں حصہ دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق زہریلے سانپ کے ذریعے قتل جیسے مقدمات انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور ان کی تفتیش میں فرانزک، ڈیجیٹل اور مالیاتی شواہد کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاکہ حادثاتی سانپ کے ڈسنے اور منصوبہ بند قتل میں فرق ثابت کیا جا سکے۔

فی الحال چاروں ملزمان عدالتی تحویل میں ہیں جبکہ پولیس مزید فرانزک، مالیاتی اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ استغاثہ کی جانب سے عدالت میں مبینہ سازش ثابت کرنے کے لیے سائنسی شواہد پر انحصار کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button