راج دیپ سردیسائی
ہندوستان میں فی الوقت نریندر مودی اور ان کی حکومت جاسوسی #اسکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ویسی بھی ہمارے ملک میں سیاست دانوں اور مخالف سیاسی قائدین یہاں تک کہ خود اپنی ہی پارٹی یا جماعت کے قائدین کی #جاسوسی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جہاں تک نہرو ۔ گاندھی خاندان کا سوال ہے، یہ خاندان سیاسی لحاظ سے ملک کا سب سے بااثر خاندان تسلیم کیا جاتا رہا ہے لیکن اندرا گاندھی جیسی طاقتور لیڈر نے بھی جاسوسی کروائی تھی۔
انٹلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر ایم کے دھر نے اپنی کتاب ’’اوپن سیکریٹس : انڈیا انٹلیجنس اَن ویلڈ (کھلے راز ہندوستان کے خفیہ معلومات کا انکشاف) میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم آنجہانی #وزیراعظم اندرا #گاندھی نے اپنی بہو #منیکا گاندھی کی سرگرمیوں کا پتہ چلانے کیلئے اُن کی جاسوسی کا حکم دیا تھا۔
ایم کے دھر نے اپنی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کیسے راجیو گاندھی حکومت نے اُس وقت کے صدرجمہوریہ گیانی ذیل سنگھ کی جاسوسی کروائی تھی۔ جس کے نتیجہ میں #گیانی ذیل سنگھ اپنے دفتر میں تمام شخصی اجلاس منعقد کرنے کے بجائے #راشٹرپتی بھون کے سرسبز و شاداب ’مغل گارڈن‘ میں شخصی ملاقاتوں کا اہتمام کرنے پر مجبور ہوئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تب بھی جاسوسی ہوئی تھی تو پھر اب کیوں ہنگامہ برپا ہے۔
مودی حکومت، اسرائیلی کمپنی ’’این ایس او‘‘ کے تیار کردہ اسپائی ویر کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین ، صحافیوں ، سماجی جہد کاروں، حقوق انسانی کے کارکنوں ، اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے موبائیل فونس کی ہیکنگ کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ جہاں تک جاسوسی کا معاملہ ہے یہ غیرقانونی کام ہے۔ بی جے پی قائدین اپنی حکومت کا دفاع کررہے ہیں، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ماضی میں جو جاسوسی کی گئی اور اب فونس کی جو ہیکنگ کی جارہی ہے۔
#ماضی میں جو جاسوسی ہوا کرتی تھی، وہ محدود پیمانے پر ہوتی تھی اور جاسوسی کا کام جاسوسوں (ڈیٹیکٹیوز) کو تفویض کیا جاتا تھا۔ ان کیلئے ایک ہدف ہوتا اور اس ہدف کے پیچھے یہ جاسوس لگادیئے جاتے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جاسوس اپنے ہدف کو اس انداز میں پکڑ لیتے کہ وہ جوابدہ ہوتا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ لینڈ لائن فون کالس کی بھی ریکارڈنگ کی جاتی تھی تاہم یہ ریکارڈنگ بھی دن میں چوبیس گھنٹے ممکن نہیں تھی، لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔
اسمارٹ فونس لوگوں کی زندگیوں میں آگئے ہیں۔ یہ ایسے فونس ہیں جو انسان کے ذہن اور جسم میں ایک طرح سے جڑ گئے ہیں۔ #اسمارٹ فونس کے ساتھ ہی فون کی ہیکنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ کوئی بھی، کسی کی بھی نجی زندگی اور کام کی بہ آسانی جاسوسی کرسکتا ہے۔ پیگاسس جاسوسی سافٹ ویر اب تک فونوں میں داخل کیا جارہا ہے اور اس جاسوسی ویر کی دراندازی کا احساس بھی فون استعمال کرنے والوں کو نہیں ہوتا۔
پہلے جوابدہی کا تصور ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ تصور ختم ہوچکا ہے، یہ اور بات ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے، کیونکہ آج ایک ٹیکنالوجی منظر عام پر آتی ہے تو کچھ عرصہ بعد اس سے کہیں زیادہ عصری #ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ٹیکنالوجی کا مقابلہ ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ پیگاسس جاسوسی سافٹ ویر کے معاملے میں کی گئی تحقیقات کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں کم سے کم 300 شخصیتوں کے فونس کی جاسوسی کئے جانے کا امکان ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ایک شخص کے فون کی بھی جاسوسی یا اس کی #ہیکنگ بادی النظر میں ایک غیرقانونی حرکت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے، تو ایسے میں حکومت یا سرکاری ایجنسیاں فونس کی ہیکنگ یا اُن کی جاسوسی پر مجبور ہوسکتی ہے اور اسے منصفانہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن حکومتیں اور سرکاری ایجنسیوں، اپوزیشن قائدین، سماجی و حقوق انسانی کے جہد کاروں ، صحافیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کی جاسوسی کے الزامات میں گھری ہے۔
ایک بات اہم ہے کہ جب جاسوسی کا یہ عمل ایک ایسے نکتہ پر پہنچا ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر سیاسی حلقوں، مرکزی وزراء، صحافیوں، ججس، حقوق انسانی کے جہد کاروں، الیکشن کمشنران، تاجرین و صنعت کاروں یہاں تک کہ سائنس دانوں کی جاسوسی کی مرتکب ہوتی ہے، تب اس بات کو یقین کرنے کی وجہ پائی جاتی ہے کہ کسی شخص کے حقوق خلوت (پرائیویسی) کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
یہی نہیں بلکہ #دستوری جمہوریت خود تباہ ہورہی ہے اور حد تو یہ ہے کہ حکومت نے واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے انکار و تردید کا ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس نے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث یا پھر عدالت کی زیرنگرانی تحقیقات کرنے سے بھی انکار کردیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مودی حکومت کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے اور اسی اکثریت کے بل بوتے سیاسی قیادت یہ سمجھنے لگی ہے کہ اسے برتری حاصل ہے اور اس کی برتری کو ایک کمزور اپوزیشن چیلنج نہیں کرسکتی اور پارلیمنٹ کے اندر چیخ و پکار بھی ہوجائے تو اسے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے اور چیخ و پکار کا پارلیمنٹ کے باہر کوئی ماحولیاتی اثر بھی پڑنے والا نہیں۔
یہاں یہ تذکرہ اہم ہوگا کہ ہم خود کو ایک عظیم #مہذب سماج قرار دیتے ہیں، لیکن اس مہذب سماج میں ہیکنگ کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہندوستان کے متوسط طبقہ کے #اجتماعی ضمیر کو کیا ہوگیا ہے، آیا پیگاسس بحران پر مودی حکومت ، عوام، خاص طور پر متوسط طبقہ کا امتحان لے رہی ہے۔ ویسے بھی پہلے سے ہی ہندوستانی کووڈ۔ 19 اور اقتصادی مسائل کے دور سے گذر رہے ہیں۔
#مہنگائی میں بھی زبردست اضافہ ہوا جس نے عام ہندوستانیوں کی کمر توڑکر رکھ دی ہے۔ ان حالات میں فونس کی ہیکنگ تنازعہ کی گونج نے ایک عجیب ہلچل پیدا کردی ہے۔ کسی طرح ایسا لگ رہا ہے کہ حق خلوت (پرائیویسی) اس طرح مضبوط و مستحکم نہیں ہے جو دوسری شخصی آزادیوں سے متعلق حقوق مضبوط ہوتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو بحران سے نمٹنے کا جو مینجمنٹ فارمولہ ہے، وہ ٹال دینا، انکار کرنا، توجہ ہٹانا ہے چنانچہ حکومت نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ آکسیجن کی قلت کووڈ۔ 19 اموات کا باعث بنی، حکومت نے اس بات پر اصرار کیا کہ پچھلے سال نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے بحران کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا گیا۔ اس نے لوگوں کے روزگار سے محرومی کو بھی قبول نہیں کیا۔
اس نے تو یہ بات بھی قبول کرنے سے انکار کیا کہ معیشت کرتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ حکومت نے چین کی جانب سے ہندوستانی سرحدوں میں دراندازی کا ثبوت بھی مسترد کردیا۔ ان حالات میں حکومت پارلیمنٹ میں پیگاسس جاسوسی معاملہ پر بحث کیوں کرے گی یا پھر عدالت کی زیرنگرانی تحقیقات کیلئے راضی ہوگی۔ ویسے بھی پیگاسس کیا ہے۔
ایک پروں والا دیومالائی گھوڑا اور جاسوسی و ہیکنگ بھی تو #دیومالائی تصورات ہیں۔ آپ کو بتادوں کو 2021ء دہلی سے بہت پہلے 2008-09ء میں گاندھی نگر بھی تھا جس کا میں نے اپنی کتاب ’’2019ء مودی نے ہندوستان کیسے جیتا‘‘ میں ذکر کیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ گجرات کے سینئر آئی پی ایس عہدیداروں کو عصری اسرائیلی جاسوسی ویئر کے تجرباتی مظاہرہ کے مشاہدہ کیلئے طلب کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ تمام موبائل بات چیت بہ آسانی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ آیا جاسوسی سافٹ ویئر عملاً خریدا گیا اور استعمال بھی کہا گیا یا نہیں لیکن اس دن سے اکثر عہدیداروں نے دو فونس استعمال کرنے شروع کردیئے۔ ایک سرکاری سطح پر اور دوسرا نجی سطح پر استعمال کرنا شروع کیا۔



