نفرت انگیز تقاریر کیس: سپریم کورٹ نے نیا قانون بنانے سے انکار کر دیا
قانون بنانا عدالت کا نہیں، پارلیمنٹ کا اختیار ہے
نئی دہلی 29 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جرم کی تعریف اور اس کے لیے سزا مقرر کرنا عدالت نہیں بلکہ مقننہ کا اختیار ہے۔ عدالت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ نیا قانون بنانے یا سزا کا تعین کرنے کے دائرے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ججز کا بنیادی کام قانون کی تشریح کرنا ہے، نہ کہ قانون سازی کرنا۔ آئین کے تحت اختیارات کی تقسیم کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ عدلیہ، مقننہ اور ایگزیکٹو کے درمیان واضح حدبندیاں موجود ہیں اور ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
سماعت کے دوران نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت اور نئے قوانین بنانے کی مانگ کرنے والی درخواستوں کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی قانونی خلا موجود نہیں جس کی بنیاد پر عدالتی مداخلت ضروری ہو۔ عدالت کے مطابق موجودہ قوانین، بشمول بی این ایس Bharatiya Nyaya Sanhita، اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں، ضرورت صرف ان کے مؤثر نفاذ کی ہے۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بدلتے سماجی حالات کے پیش نظر نئے قوانین یا پالیسی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کا فیصلہ عوام کے منتخب نمائندے، یعنی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں ہی کریں گی۔ عدالت کسی پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر تشویش بڑھ رہی ہے اور سخت قوانین کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ عدالت کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ اب ذمہ داری انتظامیہ اور تحقیقاتی ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ موجودہ قانونی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔



