
اوریکل میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں، 30 سالہ تجربہ رکھنے والے ملازمین بھی فارغ
30 ہزار ملازمین کو ای میل کے ذریعے نوکری سے برطرف کر دیا گیا
نئی دہلی 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی Oracle Corporation میں حالیہ دنوں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے پوری ٹیک انڈسٹری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس بار حیران کن بات یہ ہے کہ کمپنی نے ان سینئر ملازمین کو بھی فارغ کر دیا جنہوں نے اپنی زندگی کے 30 سے 33 سال تک ادارے کی خدمت کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق 30 ہزار ملازمین کو ای میل کے ذریعے نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ ان متاثرین میں ایک سیکیورٹی پروفیشنل نینا لیوس بھی شامل ہیں، جنہوں نے اوریکل میں 33 سال سے زائد عرصہ گزارا۔
نینا لیوس نے LinkedIn پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "اوریکل میں 30 سال سے زیادہ خدمات انجام دینے کے بعد آج مجھے تقریباً 30 ہزار دیگر افراد کے ساتھ نکال دیا گیا۔ میرے کئی بہترین ساتھیوں کو بھی فارغ کیا گیا ہے۔”
انہوں نے برطرفی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے یہ عمل کسی الگورتھم کی بنیاد پر کیا گیا ہو، جس میں خاص طور پر سینئر ملازمین اور درمیانے درجے کے مینیجرز کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں غیر یقینی کا اظہار بھی کیا۔
نینا لیوس نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں اوریکل میں شمولیت اختیار کی تھی اور اپنے کیریئر کا بیشتر حصہ ڈیٹا بیس اور سیکیورٹی کے شعبے میں گزارا۔ وہ 2012 سے مارچ 2026 تک سیکیورٹی الرٹ مینیجر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں، جہاں ان کا کام صارفین کو سیکیورٹی خطرات اور کمزوریوں سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔
اس سے قبل وہ ایک اخلاقی ہیکر اور سیکیورٹی تجزیہ کار کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے پیچیدہ سیکیورٹی مسائل کو سادہ زبان میں بیان کرنے میں مہارت حاصل کی۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے ڈیٹا بیس سیکیورٹی ڈیزائن میں بھی اہم کردار ادا کیا اور چار پیٹنٹس حاصل کیے۔
اس واقعے نے ٹیکنالوجی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ اوریکل کی ایک اور سابق ملازم ڈیبی سٹینر نے بھی اپنی برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 30 سالہ کیریئر اچانک ختم ہو گیا۔ انہوں نے نینا لیوس کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی کامیاب رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی بڑے پیمانے کی چھانٹیاں نہ صرف ملازمین بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک تشویشناک رجحان ہیں، جہاں تجربہ کار افراد بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔



