قومی خبریں

لبلبے کے کینسر کی ویکسین: خطرناک ترین کینسر کے خلاف نئی امید

اس ویکسین کا فیز 2 ٹرائل جاری ہے

نئی دہلی 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لبلبے کے کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جدید سائنسی تحقیق نے ایک نئی ویکسین کے ذریعے اس مہلک بیماری کے خلاف امید پیدا کر دی ہے۔ لبلبے کا کینسر ایک تیزی سے بڑھنے والا اور انتہائی خطرناک کینسر ہے، جو عموماً ابتدائی مرحلے میں تشخیص نہیں ہو پاتا، جس کے باعث اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق لبلبہ انسانی جسم کا ایک اہم عضو ہے جو ہاضمے کے خامروں اور انسولین جیسے ہارمونز کی پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کینسر کی علامات ابتدا میں واضح نہیں ہوتیں اور مریض کو پیٹ درد، وزن میں کمی اور ہاضمے کے مسائل جیسے عام مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جس سے بروقت تشخیص ممکن نہیں ہو پاتی۔

حالیہ تحقیق میں Autogene Sevumeron نامی ایک جدید ویکسین نے توجہ حاصل کی ہے، جو mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ ویکسین ہر مریض کے ٹیومر کی جینیاتی ساخت کے مطابق تیار کی جاتی ہے اور مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کو پہچاننے اور ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کلینکل ٹرائلز کے ابتدائی مرحلے میں 16 مریضوں کو اس ویکسین کے ساتھ کیموتھراپی اور امیونو تھراپی دی گئی۔ نتائج کے مطابق آٹھ مریضوں میں مدافعتی ردعمل بہتر رہا، جن میں سے سات مریض 4 سے 6 سال تک زندہ رہے۔ جبکہ جن مریضوں میں ویکسین نے اثر نہیں دکھایا، ان میں زندہ رہنے کی شرح کم رہی۔

ان حوصلہ افزا نتائج کے بعد اب اس ویکسین کا فیز 2 ٹرائل جاری ہے، جس میں مزید مریضوں پر اس کی افادیت اور حفاظت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ تحقیق امریکہ کے معروف طبی ادارے Memorial Sloan Kettering Cancer Center سمیت دیگر مراکز میں جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے مراحل میں بھی یہی مثبت نتائج برقرار رہے تو یہ ویکسین کینسر کے علاج میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے اور لاکھوں مریضوں کے لیے نئی زندگی کی امید بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button