راجیہ سبھا میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن کا نیا نوٹس، 73 ارکان کی حمایت
73 ارکان میدان میں، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف راجیہ سبھا میں تازہ کارروائی
نئی دہلی 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک نیا اور مفصل نوٹس پیش کر دیا ہے، جس پر 73 ارکان کے دستخط درج ہیں۔یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس سے قبل جمع کرایا گیا نوٹس مسترد کر دیا گیا تھا۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نیا نوٹس آئینی دفعات کے تحت مزید مضبوط قانونی بنیادوں کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوٹس میں آئین کے آرٹیکل 324(5) اور آرٹیکل 124(4) کے ساتھ ساتھ 2023 کے متعلقہ قانون اور ججوں کی جانچ کے قانون 1968 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نو مخصوص الزامات کو دستاویزی شواہد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ گیانیش کمار اپنے عہدے پر رہتے ہوئے حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، خصوصاً وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے اثر و رسوخ میں کام کر رہے ہیں، جو انتخابی نظام کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اس سے قبل 12 مارچ کو بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ایک مشترکہ نوٹس پیش کیا گیا تھا، جس پر دونوں ایوانوں کے ارکان کے دستخط تھے، تاہم 6 اپریل کو اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپوزیشن نے نئی حکمت عملی کے تحت مزید شواہد اور تفصیل کے ساتھ دوبارہ نوٹس جمع کرایا ہے۔
اپوزیشن نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران خصوصی نظرثانی کے نام پر بڑی تعداد میں ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا، جس سے انتخابی شفافیت متاثر ہوئی۔
اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ نیا نوٹس منظور کیا جاتا ہے یا اسے بھی سابقہ نوٹس کی طرح مسترد کر دیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آئندہ دنوں میں پارلیمانی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔



