بین الاقوامی خبریںسرورق

سعودی عرب میں بغیر لائسنس حجاج کی خوراک تیار کرنے پر سخت سزائیں

حجاج کی خوراک اور دوا کے معیار میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی

ریاض 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب نے حج کے دوران حجاج کرام کی خوراک اور ادویات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت قانونی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بغیر سرکاری لائسنس کسی بھی قسم کی غذائی اشیاء کی تیاری یا ذخیرہ اندوزی سنگین جرم تصور ہوگا۔ ان خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ ریال تک جرمانہ یا دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق نئے ضوابط کے تحت خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کو نہ صرف مالی اور قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ انہیں 180 دن تک کسی بھی غذائی سرگرمی سے روکا جا سکتا ہے، ان کے لائسنس منسوخ یا ایک سال سے زائد عرصے کے لیے معطل بھی کیے جا سکتے ہیں۔

اتھارٹی نے تمام فوڈ فیکٹریوں، گوداموں اور کیٹرنگ اداروں کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ فوڈ سسٹم کے قواعد و ضوابط پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی صورت میں بغیر قانونی اجازت خوراک کی تیاری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ حکام نے خبردار کیا کہ حجاج کی خوراک اور دوا کے معیار میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

مزید ہدایات میں یہ بھی شامل ہے کہ لائسنس یافتہ تنصیبات کے باہر خوراک ذخیرہ نہ کی جائے، بند کیے گئے مراکز کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی دوبارہ کھولا جائے اور اس کے لیے اتھارٹی کی پیشگی منظوری لازمی ہو۔ ان اقدامات کا مقصد غذائی اشیاء کے معیار کو بہتر بنانا اور عوام تک محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

حج سیزن کے دوران نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سرحدی راستوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی گزرگاہوں پر خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں جہاں حجاج کے ساتھ آنے والی خوراک اور ادویات کی کھیپوں کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشاعر مقدسہ میں واقع کچنز اور کیٹرنگ کمپنیوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ صحت کے اصولوں اور معیار کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایک جامع حکومتی نظام کے تحت کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد حجاج کرام کو محفوظ، معیاری اور سہل سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں ڈیجیٹل خدمات کو بھی فروغ دیا گیا ہے جس کے ذریعے اندرون و بیرون ملک سے آنے والے حجاج آسانی سے اپنے اجازت نامے حاصل کر سکتے ہیں اور مناسک حج کی ادائیگی کو بہتر انداز میں منظم کر سکتے ہیں۔

یہ تمام اصلاحات ویژن 2030 کے تحت جاری پروگراموں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ضیوف الرحمن کی خدمت کے معیار کو عالمی سطح پر مزید بہتر بنانا ہے۔ سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ہر سال حج کے انتظامات میں جدت اور بہتری لا کر حجاج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button