سرورققومی خبریں

پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی

اپنے شدید علیل والد سے ملاقات کے لیے عدالت سے عارضی رہائی کی اپیل کی تھی

نئی دہلی 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ انہوں نے اپنے شدید علیل والد سے ملاقات کے لیے عدالت سے عارضی رہائی کی اپیل کی تھی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

خصوصی جج (این آئی اے) پرشانت شرما نے ملزم کے وکیل اور قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے خصوصی سرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ این آئی اے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری ضمانت کی مخالفت کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ملزم کو کسٹڈی پیرول دی جا سکتی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اگر انجینئر رشید کو محدود مدت کے لیے کسٹڈی پیرول دیا جائے تو ایجنسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس، دفاعی وکیل وکھیات اوبرائے نے خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر ہونے والی مخالفت کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی رپورٹ اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک اسے ملزم کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رشید کے والد وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔

وکیل نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ماضی میں عدالت نے انجینئر رشید کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عبوری ضمانت فراہم کی تھی، اس لیے موجودہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست کو مسترد کرنا مناسب نہیں۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں عدالت نے 20 اپریل کو این آئی اے کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تفصیلی سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل سنے گئے۔

انجینئر رشید اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ایک مقدمے میں تہاڑ جیل میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ ان کی مستقل ضمانت کی درخواست پہلے ہی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس سے قبل انہیں پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے لیے کسٹڈی پیرول دی جا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button