عام آدمی پارٹی میں بغاوت، راگھو چڈھا سمیت کئی رہنما بی جے پی میں شامل
راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل کی بی جے پی میں شمولیت
نئی دہلی، 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک کی سیاست میں ایک بڑا ہنگامہ اس وقت برپا ہوا جب راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ ان کے ساتھ سندیپ پاٹھک اور اشوک متل سمیت کئی اراکین نے بھی پارٹی قیادت کے خلاف کھل کر بغاوت کر دی۔
پریس کانفرنس میں راگھو چڈھا نے دعویٰ کیا کہ راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے دو تہائی سے زیادہ ارکان ان کے ساتھ ہیں اور دستخط شدہ دستاویزات پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال، راجندر گپتا، وکرم جیت ساہنی اور دیگر رہنما بھی اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی آئین ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت خود کو بی جے پی میں ضم کر رہے ہیں۔ بعد ازاں راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک پارٹی ہیڈکوارٹر پہنچے جہاں انہیں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔
بی جے پی کے سربراہ نتن نوین نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائدین وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ترقی یافتہ ہندوستان کے مقصد کے لیے کام کریں گے۔
راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے کل 10 ارکان تھے، جن میں سات پنجاب اور تین دہلی سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم تازہ استعفوں کے بعد اب پارٹی کے پاس صرف تین ارکان رہ گئے ہیں، جن میں سنجے سنگھ، این ڈی گپتا اور بلبیر سنگھ سیچیوال شامل ہیں۔
راگھو چڈھا نے اپنی تقریر میں کہا کہ عام آدمی پارٹی، جس کے لیے انہوں نے برسوں محنت کی، اب اپنی بنیادی اقدار اور اصولوں سے دور ہو چکی ہے اور ذاتی مفادات کے گرد سمٹ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے وہ خود کو ایسے ماحول میں محسوس کر رہے تھے جہاں اصولی سیاست کی گنجائش کم ہوتی جا رہی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی بغاوت نے نہ صرف عام آدمی پارٹی کی پارلیمانی طاقت کو کمزور کیا ہے بلکہ اس کے تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کے لیے یہ ایک بڑی سیاسی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ سارا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کے دوران بعض اہم رہنماؤں کو فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا، جس کے باعث ناراضگی میں اضافہ ہوا۔ اب اس بغاوت نے ان اندرونی اختلافات کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔



