
مہاراشٹر میں ڈاکٹروں پر حملوں سے سپریم کورٹ برہم، سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لینے کی ہدایت
ڈاکٹروں پر حملے ناقابل قبول، سیاسی رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی ضروری۔
ممبئی، 7 ستمبر 2026 (اردودنیانیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انہیں حراست میں لیا جائے۔
عدالت کے یہ اہم ریمارکس شیوسینا کے کونسلر رمیش مہاترے کی اس درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے جس میں انہوں نے کلیان کے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹروں پر حملے کے معاملے میں عائد ضمانت کی شرائط کو چیلنج کیا تھا۔
سماعت کے دوران مہاترے کے وکیل مکل روہتگی نے درخواست واپس لے لی۔ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے رمیش مہاترے کی ضمانت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 28 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل پالگھر ضلع کے ایک اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر مبینہ حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
الزام ہے کہ شیوسینا کے کچھ عہدیدار اتوار کی صبح اسپتال پہنچے اور وہاں موجود ڈاکٹروں اور عملے کے ساتھ جھگڑا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دہی ہانڈی کے تہوار کے دوران زخمی ہونے والے ایک شخص کو اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے معاملے پر تنازع شروع ہوا، جس کے بعد اسپتال کی گیلری میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پالگھر پولیس نے اس معاملے میں کم از کم 17 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان میں شیوسینا کے ایکناتھ شندے دھڑے سے وابستہ کچھ افراد بھی شامل ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایک شخص کو اسپتال کے ریسپشنسٹ کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک خاتون ملازم نے مداخلت کی کوشش کی تو اسے بھی دھمکیاں دی گئیں۔
اسپتال کے ایک ملازم کی شکایت کے مطابق شیوسینا کے ضلعی سربراہ کندن سانکھے، شہر کے سربراہ راہول گھرت اور دیگر افراد اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور ڈاکٹروں سے بحث کرنے لگے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ مداخلت کی کوشش کرنے والے ایک ریسپشنسٹ کو تھپڑ مارا گیا۔
اس سے قبل 6 جولائی کو تھانے کے کلیان-ڈومبیوالی میونسپل کارپوریشن (KDMC) کے شاستری نگر اسپتال میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔
الزام کے مطابق شیوسینا (شندے دھڑے) کے کارپوریٹر رمیش مہاترے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسپتال پہنچے تھے۔ اسپتال میں NICU بیڈ کی عدم دستیابی اور ایک حاملہ خاتون کے علاج کے معاملے پر بحث کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
الزام ہے کہ اس دوران ایک خاتون ڈاکٹر سمیت تین ڈاکٹروں اور اسپتال کے دیگر عملے پر حملہ کیا گیا۔
اسی معاملے میں ضمانت کی شرائط کو چیلنج کرنے والی رمیش مہاترے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔



