مغربی بنگال میں ایس آئی آر تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا، ٹی ایم سی نے سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگایا
الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر پر وضاحت دینا ہوگی، سپریم کورٹ
نئی دہلی 12/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کے عمل کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اس معاملے میں ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پیر کے روز سپریم کورٹ میں ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سینا کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر سے متعلق اہم ہدایات واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے جاری کی جا رہی ہیں، جو ادارہ جاتی شفافیت کے خلاف ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ بی ایل اوز کو باضابطہ تحریری احکامات کے بغیر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ٹی ایم سی کی جانب سے یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی جانچ کے دوران منطقی تفاوت کے نام پر ایک نیا زمرہ متعارف کرایا ہے، جو غیر واضح اور من مانی بنیادوں پر مبنی ہے۔ کپل سبل نے بنچ کو بتایا کہ بنگال میں کئی ووٹروں کی غلط شناخت کی گئی اور انہیں سماعت کے لیے طلب کیا گیا، حالانکہ جن تضادات کی نشاندہی کی گئی وہ حقیقت میں غیر منطقی ہیں۔
درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ ابتدائی طور پر کمیشن نے جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت مانگا، تاہم بنچ نے ہدایت دی کہ اس ہفتے کے اندر بیانِ حلفی جمع کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے کی جائے گی۔
یہ معاملہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی جانچ اور انتخابی شفافیت سے جڑا ہونے کے باعث سیاسی طور پر بھی خاصا حساس مانا جا رہا ہے، جہاں ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان تنازع مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔



