دلچسپ خبریںسرورق

گرفتاری کے خوف میں شامی شہری 13 سال دیوار کے پیچھے چھپا رہا ، بچے والد کو مردہ سمجھتے رہے

گرفتاری سے بچنے کے لیے شامی شہری 13 سال تک دیوار کے پیچھے چھپا رہا

  لاذقیہ، 25 ستمبر 2026 (اردودنیانیوز/ایجنسیز) شام کے شہر لاذقیہ سے تعلق رکھنے والے محمد زکور کی زندگی کی کہانی ان واقعات میں شامل ہو گئی ہے جس میں ایک شخص نے گرفتاری کے خوف سے اپنے ہی خاندان کے گھر میں 13 سال سے زائد عرصہ انتہائی محدود جگہ میں چھپ کر گزار دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس دوران ان کے بچے یہ سمجھتے رہے کہ ان کے والد دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ وہ حقیقت میں ان سے محض چند میٹر کے فاصلے پر زندہ تھے۔

زکور کے مطابق ان کی مشکلات کا آغاز شام کے انقلاب کے ابتدائی برسوں میں ہوا، جب سکیورٹی اداروں نے انہیں دو مرتبہ گرفتار کیا۔ رہائی کے بعد ایک رشتہ دار نے انہیں خبردار کیا کہ سکیورٹی ادارے دوبارہ ان کی تلاش میں ہیں۔ زکور کو خدشہ تھا کہ تیسری گرفتاری ان کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے انہوں نے عوامی زندگی سے مکمل طور پر غائب ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے لاذقیہ میں واقع اپنے دادا کے گھر کو ہی اپنی پناہ گاہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اپنی اہلیہ کی مدد سے تعمیراتی سامان حاصل کرکے انہوں نے گھر کے اندر ایک ایسی دیوار بنائی جس کے پیچھے انتہائی تنگ جگہ موجود تھی۔ یہی جگہ اگلے 13 برس سے زیادہ عرصے تک ان کی دنیا بن گئی۔ یہ کوئی باقاعدہ قید خانہ نہیں تھا، لیکن حالات نے اسے ان کے لیے ایک خود ساختہ قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

زکور کی زندگی کا راز صرف ان کی اہلیہ کو معلوم تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے انہیں کھانا، پانی، کپڑے اور ضرورت کی ادویات پہنچاتی تھیں۔ جب زکور بیمار پڑتے تو اپنی اہلیہ کو علامات بتاتے، جو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ان کے لیے دوا لے آتیں۔ اس طرح گھر کے اندر موجود ایک انتہائی محدود جگہ میں ان کی زندگی کئی برس تک خاموشی سے جاری رہی۔

سب سے مشکل صورتحال ان کے بچوں کے حوالے سے تھی۔ زکور اور ان کی اہلیہ کو خوف تھا کہ اگر بچوں کو والد کے زندہ ہونے اور گھر میں چھپے رہنے کا علم ہوگیا تو راز کسی نہ کسی طرح باہر نکل سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بچوں کو حقیقت سے لاعلم رکھا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے والد کو وفات پا جانے والا شخص سمجھنے لگے۔

رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں مقیم زکور کے بھائی نے بھی ان کی موت سمجھ کر تعزیتی مجلس منعقد کرلی تھی۔ دوسری طرف زکور اسی خاندان کے گھر میں موجود تھے اور دیوار کے دوسری جانب اپنے بچوں کی آوازیں سنتے رہے۔ وہ اپنے بچوں کو بڑا ہوتے ہوئے سن سکتے تھے، لیکن خود ان کے سامنے آنے سے قاصر تھے۔

زکور نے بتایا کہ جب وہ روپوش ہوئے تو ان کا بڑا بیٹا ابھی بچہ تھا، لیکن جب وہ اپنی چھپی ہوئی جگہ سے باہر نکلے تو ان کا بیٹا جوان ہو چکا تھا۔ اس طرح 13 سال سے زیادہ کا عرصہ صرف دنیا سے دور رہنے میں نہیں گزرا بلکہ وہ اپنے بچوں کے بچپن اور جوانی کے اہم لمحات سے بھی محروم رہے۔

زکور کی طویل روپوشی کا خاتمہ 8 دسمبر 2024 کو ہوا۔ صبح کے وقت انہیں گھر کے باہر لوگوں کی جانب سے تکبیرات کی آوازیں سنائی دیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ بشار الاسد کی حکومت ختم ہو چکی ہے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ خطرہ جس کی وجہ سے وہ برسوں سے چھپے ہوئے تھے، اب موجود نہیں رہا۔ اس کے بعد وہ 13 سال سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ اپنی چھپی ہوئی جگہ سے باہر آئے۔

گھر سے ان کے باہر آنے کا منظر ان کے بچوں کے لیے بھی ناقابل یقین تھا۔ ان کی اہلیہ نے بچوں سے کہا کہ اس جگہ کے سامنے رکھا ہوا فریج ہٹائیں جس کے پیچھے دیوار میں موجود راستہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بچوں کو بتایا کہ ان کے والد زندہ ہیں اور اسی گھر میں اتنے برسوں سے چھپے ہوئے تھے۔ ابتدا میں بچوں کو اپنی والدہ کی بات پر یقین نہیں آیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد زکور ان کے سامنے موجود تھے۔

محمد زکور کی کہانی شام کے طویل سیاسی بحران کے دوران خوف، خاندان سے جدائی اور برسوں تک چھپی ہوئی زندگی کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے اہل خانہ سے صرف چند قدم کے فاصلے پر موجود تھا، 13 سال سے زیادہ عرصے تک ان کے لیے عملاً غائب رہا اور اپنے بچوں کو دوبارہ دیکھنے کے لیے ایک ایسے دن کا انتظار کرتا رہا جب اسے اپنی جان کے لیے چھپنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button