تبلیغی جماعت اور دعوت الی اللہ✍️ حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
امت محمدیہؐ دعوت الی اللہ کیلئے یہ امت امت دعوۃ ہے یعنی دعوۃ الی اللہ اس امت کی بنیادی ذمہ داری ہے، ارشاد خداوندی ہے وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ (آل عمران: آیت:104)
ترجمہ: اورتم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اورایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہوں گے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا۔ وَقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔ (حم سجدۃ: آیت:33)
پہلی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مسلمان صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ رکھیں۔دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان کے کلام میں سب سے افضل و احسن وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوت حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الی اللہ کی سب صورتیں داخل ہیں، زبان سے تحریر سے یا کسی اور عنوان سے۔
رسول اللہ کے زمانہ سے لے کر آج تک ہردور میں امت مسلمہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اس فریضہ کو انجام دیتی رہی ہے۔ تعلیم و تدریس، وعظ و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تزکیہ و احسان یہ سب ہی امر بالمعروف، نہی عن المنکر کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے طرق ہیں۔
تبلیغی جماعت بھی دعوتی جماعت ہے
تبلیغی جماعت جس کو حضرت جی مولانا الیاس صاحب کاندھلوی h نے قائم فرمایا ہے یہ بھی دعوت الی اللہ کا ایک طریقہ ہے جس سے بے نمازی نماز کے پابند اور مسجد سے دور رہنے والے مسجد میں حاضر باش ہونے لگتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر یقین اوراس کے فیصلوں پر یقین اور آخرت پر یقین پیدا کرنے کی محنت کی جاتی ہے جو ایمان کی بنیاد ہے۔ اور ہرمومن کے لیے ضروری ہے۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہ ِ۔ (سورہ آل عمران، آیت: 110)
تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کیلئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے، حضور نبی اکرم نے فرمایا: میری طرف سے (ہر بات لوگوں تک) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ (بخاری)
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لئے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (مسلم)
تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں کہاں تک؟
محمد الیاس کاندھلویؒ کی قائم کردہ تبلیغی جماعت جو 1926ء میں قائم کی گئی۔ بنیادی طور پر فقہ حنفی کے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ برصغیر پاک وہند کے علاوہ دنیا کے ہر ملک اور ہر خطے میں سرگرمِ عمل ہے۔ اس جماعت سے وابستہ دینی جذبہ رکھنے والے افراد کی اکثر آبادی جن ممالک میں پائی جاتی ہے ان میں بنگلادیش، پاکستان، بھارت، مملکت متحدہ، انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی افریقا، سری لنکا، ترکی، یمن، کرغیزستان، روس، صومالیہ، نائجیریا، ریاستہائے متحدہ، کینیڈا، میکسیکو، چین (ہانگ کانگ)، فرانس، جرمنی، تنزانیہ، برازیل، فلپائن، ویسٹ انڈیز، قطر، اردن، موریتانیہ، مراکش، الجزائراور آذربائیجان شامل ہیں۔
جماعت کے اصول
تبلیغی جماعت کے بنیادی چھ اصول ہیں (۱) ایمان(۲) نماز(۳) علم و ذکر(۴) اکرام مسلم (۴) اخلاص نیت (۵) دعوت و تبلیغ (۶) اور لایعنی امور سے اجتناب۔ جن میں سے کوئی بھی اصول دین کے منافی نہیں، بلکہ عین دینی امور میں شامل ہے۔
جماعت کسے کہتے ہیں؟
جماعت اس تحریک کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کئی افراد ایک مخصوص مدّت کے لیے دین سیکھنے اور سکھانے کی خاطر کسی گروہ کی شکل میں کسی جگہ کا سفر کرتے ہیں۔ ان کے دورے کی مدّت تین دن، چالیس دن، چار ماہ اور ایک سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ افراد اس دوران علاقے کی مسجد میں قیام کرتے ہیں۔
گشت کیا ہے؟
کسی بھی جگہ کے دورے میں اپنے قیام کے دوران یہ افراد گروہ کی شکل میں علاقے کا دورہ کرتے اور عام افراد خصوصاً دکان دار حضرات کو دین سیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے مسجد میں مدعو کیا کرتے ہیں۔ اس عمل کو جماعت کی اصطلاح میں ‘گشت’ کہا جاتا ہے۔
تبلیغی جماعت کی تعلیم
عموماً چاشت کے وقت اور ظہر کی نماز کے بعد مسجد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد ایک کونے میں مرتکز ہوجاتے ہیں اور کوئی ایک فرد فضائل اعمال کا مناسب آواز میں مطالعہ کرتا ہے تاہم اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کہ نماز و تلاوت میں مشغول افراد کے انہماک میں خلل نہ پڑے۔
فضائل اعمال کی تعلیم کا مقصد: اس کتاب کی تعلیم کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں۔ 1۔ فضائل سن کر اعمال کا شوق پیدا ہو جائے۔ 2۔ علم اور عمل میں جوڑ پیدا ہوجائے۔ 3۔ مال سے ہٹ کر اعمال پر یقین بن جائے۔ 4۔ سب کے دل قرآن و حدیث سے اثر لینے والے بن جائیں۔
سالانہ عالمی اجتماعات
رائے ونڈ اجتماع پاکستان ، بنگلہ دیش اجتماع، بھوپال اجتماع بھارت۔ یہ تین بڑے اجتماعات سال میں ایک یا دو مرتبہ منعقد کئے جاتے ہیں جس میں دس دس بیس بیس لاکھ افراد ملک وبیرون ملک سے جمع ہوکر اپنی اور دوسروں کی دینی اصلاح کا سبب بنتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کے بیرونی اور اندرونی مکمل حالات سے آگاہی حاصل کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ جماعت خالصتاً للہ فی اللہ دعوت الی اللہ کا کام انجام دے رہی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ (آل عمران: آیت:104)
ترجمہ: اورتم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اورایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہوں گے۔
مولانا الیاسؒ کی دینی تڑپ
بانیٔ تبلیغی جماعت مولانا الیاس صاحب h کے متعلق حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی h اپنی کتاب ’’مولانا الیاس اور انکی دینی دعوت‘‘ میں ابتدائی حالات اور آپ کے علم وفضل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’شوال 1344ھ میں آپ دوسرے حج کے لئے روانہ ہوئے، خلیل احمد صاحب کی ہم رکابی حاصل تھی۔
مدینہ منورہ میں قیام کا زمانہ ختم ہوا اور رفقاء پہلے چلنے کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے مولانا کو عجیب بے چینی اور اضطراب میں پایا۔ آپ کسی طرح مدینہ منورہ سے جدا ہونے کو تیار نہ تھے۔ رفقاء نے خلیل احمد سہارنپوری سے اسکا ذکر کیا تو مولانا الیاس کی حالت دیکھ کر انہیں فرمایا کہ مولانا سے چلنے پر اصرار مت کرو ان پر ایک حالت طاری ہے۔ خود تمہارے ساتھ چلے جائیں یا تم چلے جاؤ یہ بعد میں آجائیں گے تاہم رفقاء ٹھہر گئے۔
مولانا الیاسؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے اس قیام کے دوران میں مجھے اس کام کے لیے امر ہوا اور ارشاد ہوا کہ ہم تم سے کام لیں گے۔کچھ دن میرے اس بے چینی میں گزرے کہ میں ناتواں کیا کرسکوں گا کسی عارف سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ پریشانی کی کیا بات ہے۔ یہ تو نہیں کہا گیا کہ تم کام کرو گے، یہ کہا گیا کہ ہم تم سے کام لیں گے پس کام لینے والے لے لیں گے۔اس سے بڑی تسکین ہوئی اور آپ نے مدینہ منورہ سے مراجعت فرمائی۔ 5 مہینے حرمین میں قیام رہا۔ 13 ربیع الثانی 1345ھ کاندھلہ واپسی ہوئی۔
حج سے واپسی پر آپ نے تبلیغی گشت شروع کر دیا۔ آپ نے دوسروں کو بھی دعوت دی کہ عوام میں نکل کر دین اسلام کے اولین ارکان و اصول (کلمہ توحید و نماز) کی تبلیغ کریں۔ لوگوں کے کان اس دعوت سے آشنا تھے لیکن دین کی تبلیغ کے لیے یوں زبان کھولنا پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔ چند آدمیوں نے بڑی شرم و حیاء اور رکاوٹ کے ساتھ خدمت انجام دی۔ چند برسوں میں دور دور تک تبلیغی جماعتیں جانے لگیں اور پورے برصغیر میں اصلاح و تبلیغ کا کام ہونے لگا۔ آپ کی ساری زندگی اس تحریک کی نذر ہو گئی۔
آپؒ کا گھرانہ
آپ جس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اس کے علم وفضل اور تقویٰ کے سبھی معترف تھے۔ حضرت جی h کے بھتیجے شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ زکریا صاحب h (جب میں گنگوہ میں قیام پذیر تھا) ایک مرتبہ میرے استاد محترم بحر العلوم حضرت مولانا حکیم عبد الرشید محمود نبیرہ حضرت گنگوہی کے پاس تشریف لائے۔ آمد کی پہلے سے اطلاع تھی اس لئے حکیم صاحب سراپا نظریں بچھائے منتظر تھے۔ پالکی میں حضرت شیخ الحدیثؒ کو حکیم صاحب کے مطب میں لایا گیا۔
شیخ کی خصوصی خاطر تواضع کا اہتمام تھا۔ بندۂ ناچیز نے وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حکیم صاحبؒ جب بھی شیخ کو پکارتے تو شیخ الحدیث کو فوراً جواب میں کہتے ’’لبیک یاسیدی‘‘ چونکہ حکیم صاحب مولانا گنگوہی کے نبیرہ اور شیخ الحدیث مولانا گنگوہی کے مرید خاص حضرت مولانا یحییٰ صاحبؒ کے فرزندِ ارشد تھے۔
ہر چند کہ شیخ کا مقام اس وقت پورے ایشیاء میں بلند تھا لیکن اس کے باوجود شیخ اپنے پیر زادے کی توقیر کے لئے ہر آواز پر یہی فرماتے ’’لبیک یا سیدی‘‘ یہ وہ زمانہ تھا کہ پوری دنیا سے اہل ایمان کشاں کشاں مظاہر علوم سہارنپور کا رخ کرتے اور وہاں پہونچ کر کئی کئی گھنٹوں تک انتظار کرکے لائن میں لگ لگ کر کھڑے کھڑے شام کردیتے کہ کسی طرح شیخ الحدیثؒ سے مصافحہ کا شرف حاصل ہوجائے۔ بعض اوقات دو ہزار تین ہزار اور بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ لوگ لائن سے مصافحہ کرتے تھے۔
شیخ الحدیثؒ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مقبولیت عطا فرمائی تھی کہ زمانۂ قریب کے کسی شیخ کو ایسی مقبولیت نہ مل سکی۔ تاریخ میں شیخ بہاؤ الدین ملتانیؒ کا ذکر ملتا ہے کہ آپ اپنی خانقاہ کی چھت پر بیٹھ جاتے اور اپنا عمامہ اوپر سے نیچے کی طرف لٹکا دیتے، لوگ آتے اور عمامہ سے اپنا ہاتھ مس کرلیتے اور چلے جاتے یہ سلسلہ آٹھ آٹھ دن چلتا تھا۔ کچھ ایسی ہی مقبولیت کا نمونہ شیخ الحدیثؒ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے اکابر کی برکات سے عطا فرمایا تھا۔
تبلیغی جماعت کی اہمیت
بہر حال تبلیغی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے جس میں بہت سے مسالک کے لوگ لگے ہیں اور کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ ان میں شوافع بھی ہیں۔ حنبلی بھی، حنفی بھی ہیں اور جماعتِ اسلامی کے بھی، اہل حدیث بھی اس کام میں لگے ہیں۔ اور غیر مقلدین بھی، غرض ہر مسلک کا مسلمان اس جماعت سے جڑا ہوا ہے۔ اور فضائل اعمال کی خصوصیت بھی یہی ہے کہ اس میں مسائل کو نہیں مسالک کو نہیں بلکہ فضائل کو برائے ترغیب بیان کیا گیا ہے تاکہ ان فضائل کی برکت سے اعمالِ صالحات کی توفیق مل جائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیثؒ کو پوری امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور دعوت وتبلیغ کے اس مبارک عمل کو تا قیامت باقی رکھے۔ آمین!٭



