(۱) سورۂ عنکبوت کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ تلاوت اور نماز کا حکم
۲۔ نماز کی فضیلت (کہ یہ برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے)
۳۔ معاندین اور ان کی ہٹ دھرمیوں کا ذکر
۴۔ دنیا کی بے ثباتی
(۲) سورۂ روم میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ دو پیش گوئیاں:
1۔ نو سال کے اندر اندر روم کے اہل کتاب (عیسائی) ایران کے بت پرستوں کو شکست دے دیں گے۔
2۔ اسی عرصے میں مسلمان مشرکینِ قریش پر فتح کی خوش منارہے ہوں گے۔ (یہ بدر کی صورت میں ظاہر ہوئی)
۲۔ توحید کے ضمن میں اللہ کی عظمت کی سات نشانیاں:
1۔اشیاء کو اضداد سے پیدا کرنا (زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے)
2۔ انسان کی پیدائش مٹی سے
3۔ زوجین کی محبت
4۔ زمین و آسمان کی پیدائش
5۔ رات اور دن کی نیند اور روزگار کی تلاش
6۔ بجلی کی چمک ، بارش اور اس سے غلے کی پیداوار
7۔ زمین اور آسمان کا مستحکم نظام
(۳) سورۂ لقمان میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید (اللہ کی قدرت کے چار دلائل)
1۔ بغیر ستون کا آسمان
2۔ مضبوط و محکم پہاڑ
3۔ رینگنے والے مویشی اور حشرات
4۔ برسنے والی بارش
۲۔ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو پانچ وصیتیں:
1۔ شرک نہ کرو۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹی بڑی چیز اور عمل کو آخرت میں سامنے لے آئیں گے۔
3۔ نماز ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، آزمائش میں صبر۔
4۔ عاجزی اختیار کرو ، تکبر سے بچو۔
5۔ معتدل چلو ، مناسب آواز میں بات کرو۔
۳۔ توحید کے ضمن میں یہ بتایا گیا کہ پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے:
1۔ بارش کہاں اور کتنی برسے گی؟
2۔ قیامت کب آئے گی؟
3۔ پیٹ میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے؟
4۔ موت کب اور کہاں آئے گی؟
5۔ انسان کل کیا کرے گا؟
(۴) سورۂ سجدہ میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ قرآن کی عظمت
۲۔ توحید (آسمان و زمین کا خالق وہی ہے ، ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے، پانی کے ایک حقیر قطرے سے مختلف مراحل طے کرانے کے بعد انسان کو وجود بخشا پھر اسے انتہائی پر کشش صورت اور متناسب قدوقامت والا بنایا۔)
۳۔ قیامت (مجرم اس دن سرجھکائے کھڑے ہوں گے، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ، وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے، مومنین جو دنیا میں اللہ کے لیے اپنی راحتوں کو قربان کرتے ہیں ، اللہ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنھیں کوئی نہیں جانتا۔)
۴۔ رسالت (حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دیے جانے کا ذکر ہے۔)
(۵) سورۂ احزاب کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ زمانۂ جاہلیت کے تین غلط خیالات کی تردید کی گئی ہے:
1۔ ان کا خیال تھا کہ بعض لوگوں کے سینے میں دو دل ہوتے ہیں ، بتایا کہ دل تو بس ایک ہی ہوتا ہے ، یا اس میں ایمان ہوگا ، یا کفر ہوگا۔
2۔ کلماتِ ظہار کہنے سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوتی بلکہ کفارہ دینے سے حلال ہوجائے گی۔
3۔ منہ بولا بیٹا شرعی احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔
۲۔ دو غزووں (غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ) کا ذکر ہے۔
بائیسواں پارہ
اس پارے میں چار حصے ہیں:
۱۔ سورۂ احزاب (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ سبا (مکمل)
۳۔ سورۂ فاطر (مکمل)
۴۔ سورۂ یٰس (ابتدائی حصہ)
(۱) سورۂ احزاب کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
ازواج مطہرات کے لیے سات احکام :
1۔نزاکت کے ساتھ بات نہ کریں۔
2۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔
3۔ زمانۂ جاہلیت کی خواتین کی طرح اپنی زینت اور ستر کا اظہار کرتے ہوئے باہر نہ نکلیں۔
4۔ نماز کی پابندی کریں۔
5۔ زکوٰۃ دیا کریں۔
6۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔
7۔ قرآنی آیات کی تلاوت اور احادیث کا مذاکرہ کیا کریں۔
۲۔ مسلمانوں کی دس صفات
۳۔ نکاحِ رسول: جب حضرت زید بن حارثہ اور آپ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے درمیان نباہ نہ ہوسکا اور ان کے درمیان جدائی واقع ہوگئی تو اللہ کے حکم سے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا۔
۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا حکم
(۲) سورۂ سبا میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا قصہ
۲۔ اہل سبا کے غرور و تکبر کا واقعہ
(۳) سورۂ فاطر میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید کے دلائل
۲۔ مسلمانوں کے تین گروہ (1۔وہ مسلمان جن کے گناہ زیادہ ہوں 2۔ نیکیاں اور گناہ برابر 3۔ نیکیاں زیادہ ہوں)
(۴) سورۂ یٰس کے ابتدائی حصے میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ رسالت
۲۔ قریش کی مذمت
تیئیسواں پارہ
اس پارے میں چار حصے ہیں:
۱۔ سورۂ یٰس (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ صافات (مکمل)
۳۔ سورۂ ص (مکمل)
۴۔ سورۂ زمر (ابتدائی حصہ)
(۱) سورۂ یٰس کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ حبیب نجار کا قصہ (ایک بستی والوں نے اپنے تین انبیاء کو جھٹلایا ، ان کی قوم کا ایک شخص جس کا نام حبیب نجار تھا نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے شہید کردیا ، جنت میں جاکر بھی اس نے تمنا کی کاش! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ مجھے کیسی نعمتیں ملی ہیں۔)
۲۔ اللہ کی قدرت کے دلائل (1۔مردہ زمین جسے بارش سے زندہ کردیا جاتا ہے۔ 2۔لیل و نہار اور شمس و قمر کا نظام۔ 3۔کشتیاں اور جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔)
۳۔ قیامت (محشر کی ہولناکیاں ، صور پھونکے جانے کا تذکرہ ، اس دن مجرموں کے مونہوں پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔)
(۲) سورۂ صافات میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ جہنمیوں کا باہم لعن طعن اور جنتیوں کا خوشگوار مکالمہ
۲۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے (حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوتِ توحید ، انھیں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم اور اس کی تعمیل ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا قصہ ، حضرت الیاس علیہ السلام کا قصہ جنھیں شام میں ایک ایسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا جو "بعل” نامی بت کی عبادت کرتی تھی، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی شہوت پرستی کا قصہ ، حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں ہونے کا قصہ۔)
(۳) سورۂ ص میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ توحید (تمام انسانوں اور موت و حیات کے پورے نظام کے لیے ایک اللہ ہی کافی ہے۔)
۲۔ رسالت (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ، قریش کی مذمت ، تسلی کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کے شکر کا قصہ اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا قصہ اور دیگر انبیائے کرام کے قصے)
(۴) سورۂ زمر کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ قرآن کی عظمت
۲۔ توحید (اللہ تعالیٰ انسان کو ماں کے پیٹ میں تین تاریکیوں میں پیدا فرماتے ہیں۔ مشرک کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کے کئی آقا ہوں اور موحد کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کا ایک ہی آقا ہو۔ )
چوبیسواں پارہ
اس میں تین حصے ہیں :
1 -سورہ زمر ( بقیہ حصہ )
2 -سورہ مؤمن (مکمل )
3 -سورہ حم السجدة ( ابتدائی حصہ )
سورہ زمر کے بقیہ حصے میں کئی باتیں ہیں
1 – الله کی ربوبیت کا بیان,آسمان وزمین تمام کا خالق صرف اللہ ہی ہے اس کے قائل تمام انسان ہیں
2 – الله کی رحمت کی وسعت کا بیان,انسان کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے
3- جہنمیوں اور جنتیوں کے جہنم اور جنت میں داخل ہونے کی کیفیت کا بیان
سورہ مؤمن میں کئی باتوں کا بیان ہے
1- مومن کا بیان
جب موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی سازش فرعون کے دربار میں ہورہی تھی تو ایک مومن جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا اس نے کہا اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله اس فرعون اور اس کے درباروں کو موسی علیہ السلام کے قتل سے ڈرایا اور کہا کہ اس کا انجام بہت برا ہوگا
2- فرعون کے کبر و غرور کا بیان ہے کہ اس نے رب العزت کو دیکھنے کی ناپاک جسارت کرتے ہوئے ہامان کو ایک محل کی تعمیر کا حکم دیا
3- الله سے اعراض کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے سیدخلون جهنم داخرین
4- انسان کی تخلیق کا بیان۔انسان کبھی مٹی تھا پھر نطفہ بنا پھر علقہ بنا پھر بچہ بنا پھر جوان ہوا پھر بوڑھا ہوا پھر مرا
سورہ حم السجدة میں کئی باتیں ہیں
1 -آسمان و زمین کی تخلیق۔اللہ نے زمین اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چار دن میں بنایا اور آسمان کو دو دن میں بنایا
2- کافروں کی شرارت کا ذکر کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو یہ لوگ شور مچا تے تاکہ لوگ تلاوتِ قرآن مجید کو نہ سن سکیں
3- داعي کا بیان کہ اس سے بہتر بات کسی کی نہیں ہوسکتی اور داعی کو کون سا اسلوب استعمال کرنا چاہیے اس کا بیان ہے
پچیسواں پارہ
اس میں کل پانچ حصے ہیں
١ حم السجده (بقیہ حصہ)
۲ سورہ شورى (مكمل)
٣ سوره زخرف (مکمل)
۴ سورہ دخان (مکمل)
۵ سورہ جاثیہ (مکمل)
حم السجدة کے بقیہ حصہ اس بات کا بیان ہے کہ اللہ ہی عالم الغیب ہے جسے قیامت کا علم شگوفے میں کیا گیا ہے اس کا علم حمل میں کیا ہے اور وضع حمل کب ہو گا ان تمام باتوں کا علم اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے
سورہ شوری میں کئ باتیں ہیں
۱ اللہ تعالیٰ تمام خزانوں کا مالک ہے مقاليد السموات والأرض يبسط الرزق لمن يشاء و يقدر
٢ اللہ کی قدرت کی بہت ساری نشانیاں ہیں بارش کا نزول آسمان و زمین کی تخلیق جانوروں کی پیدائش سمندر کی پیٹھ پر کشتیوں کا چلانا وغیرہ
۳ اولاد دینے کی طاقت صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے وہ جسے چاہے صرف لڑکی دے جسے چاہے لڑکا دے اور جسے چاہے دونوں دے اور جسے چاہے بانجھ کردے
سورہ زخرف میں بھی کئ باتوں کا بیان ہے
۱ گذشتہ اقوام کا اپنے آباؤاجداد کی تقلید اور اس کے نبی کی تکذ یب
۲ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ
۳ جنتیوں اور جہنمیوں کا بیان کہ یہ دونوں اپنے اپنے ٹھکانے میں کس طرح زندگی گزار ہے ہوں گے
سورہ دخان میں کئ باتیں ہیں۔
۱ قرآن مجید کے نزول کا بیان
۲ شب قدر کا تزکرہ کہ اس میں تمام مظبوط امر کا فیصلہ ہوتا ہے
۳ اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کہ نبوت کی نشانی دیکھنے کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے اور کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا مجنوں ہے
٤. شجرة الذقوم کا بیان کہ یہ مجرموں کھانا ہوگا
سورہ جاثیہ میں بھی بہت سی باتیں ہیں
۱ اللہ کی نشانیوں کا تزکرہ ہے کہ آسمان وزمین،انسان،جانور،رات و دن کا آجانا بارش کا نزول اور ہواؤں کا اللہ کی قدرت کا ملہ کی نشانی ہیں
۲ اللہ کی آیات کا مزاق اڑانے والے قیامت کے دن فراموش کر دئیے جائیں گے اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا ئے گی۔
اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں