قومی خبریں

بی جے پی نے 18 ریاستوں کے ’فتح‘ کا بنایا ماسٹر پلان، نئی پالیسیاں یہ ہیں

نئی دہلی ،3جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بی جے پی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو میٹنگ حیدرآباد میں جاری ہے۔ آج اجلاس کا دوسرا دن ہے۔ اس میٹنگ میں بی جے پی نے اگلے دو سالوں میں 18 ریاستوں میں کامیابی کے ساتھ ساتھ لگاتار تیسری بار مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کا ماسٹر پلان تیار کرلیا ہے۔ اگر یہ ماسٹر پلان کام کرتا ہے تو بی جے پی 11 ریاستوں میں اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہیں اسے سات نئی ریاستوں کا اقتدار بھی ملے گا، جہاں اس وقت بی جے پی مخالف سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ 2022 کے آخر تک گجرات اور ہماچل پردیش میں انتخابات ہوں گے ، ان دونوں ریاستوں میں فی الحال بی جے پی کی حکومت ہے۔

ایسے میں پارٹی نے الیکشن کی تیاریاں زور و شور سے شروع کر دی ہیں۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک دونوں ریاستوں کا مسلسل دورہ کر رہے ہیں۔ کئی مرکزی وزراء سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان دو ریاستوں پر توجہ مرکوز کریں۔ گجرات اور ہماچل پردیش کے بعد 2023 میں ملک کی نو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوں گے ، ان میں تریپورہ، میگھالیہ، ناگالینڈ، کرناٹک، چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش، میزورم اور تلنگانہ شامل ہیں۔ سب سے پہلے تریپورہ، میگھالیہ اور ناگالینڈ میں انتخابات ہوں گے۔یہاں فروری 2023 میں موجودہ حکومتوں کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔تریپورہ میں بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت میں ہے ،جبکہ میگھالیہ اور ناگالینڈ میں اس کا اتحاد ہے۔ اس کے بعد کرناٹک میں اپریل-مئی 2023 تک، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم، راجستھان اور تلنگانہ میں اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں انتخابات ہوں گے۔ مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں بی جے پی برسراقتدار ہے جبکہ چھتیس گڑھ، راجستھان میں کانگریس برسراقتدار ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی حکومت ہے۔ میزو نیشنل فرنٹ (MNP) کی میزورم میں حکومت ہے۔

تاہم ایم این پی کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد ہے۔ یعنی بی جے پی بھی میزورم حکومت کا حصہ ہے۔ 2024 میں سات ریاستوں میں انتخابات ہوں گے۔ ان میں آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، اڈیشہ، سکم، ہریانہ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ ان میں سے ہریانہ، مہاراشٹر کے علاوہ کہیں بھی بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔18 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی نظریں 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات پر بھی ہیں۔ بی جے پی مسلسل تیسری بار مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی کوشش کر ے گی ، اور اس کے لیے تیاری شروع کر دی گئی ہے۔

بی جے پی کا ماسٹر پلان نمبروار یہ ہے۔

1: ترنگا تحریک: بی جے پی نے پورے ملک میں ترنگا تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ذریعے بی جے پی ملک کے نام نہاد قوم پرست لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا کام کرے گی۔ خاص طور پر نوجوان جو پہلی بار اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ حالانکہ ترنگا یاترا ملک کے ہر ضلع میں نکالی جائے گی، لیکن سب سے زیادہ توجہ ان ریاستوں پر مرکوز رہے گی، جہاں آنے والے دو سال میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پارٹی نے اس یاترا کے ذریعے 20 کروڑ لوگوں کو جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

2.: ہر بوتھ، 200 کارکن: میرا بوتھ، سب سے مضبوط کے بعد، بی جے پی نے اب ہر بوتھ، 200 ورکرز مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے تحت 200 ایسے کارکنوں کا انتخاب کیا جائے گا، جو فعال ہوں گے۔ جس بوتھ پر بی جے پی کمزور ہوگی اس پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ پارٹی نے اس کے لیے 50 ہزار بوتھ کی بھی نشاندہی کی ہے۔ یہ 200 فعال بوتھ ورکرس مرکز میں اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہونے پر ریاست کی پالیسیوں اور اسکیموں کو عام لوگوں تک پہنچائیں گے۔ انہیں اپنے بوتھ کے تحت آنے والے مکانات کی مکمل معلومات رکھنی ہوں گی۔ ان کارکنوں کو بوتھ کے نیچے رہنے والے لوگوں کی ہر خوشی اور غم سے گزرنا پڑے گا۔ ان کے لیے کام کرنا پڑے گا۔ ان کی مدد کرنی پڑے گی۔

3. :دیہی علاقوں پر نظر رکھنا: بی جے پی جانتی ہے کہ شہری علاقوں میں اس کی گرفت اچھی ہے۔ ایسے میں اب پارٹی نے دیہی علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے پارٹی کے بڑے لیڈر گاؤں گاؤں کا سفر کریں گے۔ ایک سے دو دن گاؤں میں رہ کر عام لوگوں سے تعلقات مضبوط کریں گے۔ اس کے ذریعے مرکزی حکومت کی اسکیموں کی تشہیر بھی کی جائے گی۔

4. :ذات پات کی مساوات کو مضبوط بنانے پر توجہ: بی جے پی نے 2017 میں رام ناتھ کووند کی شکل میں ملک کو ایک دلت صدر دیا۔اس بار پارٹی نے دروپدی مرمو کے روپ میں ایک قبائلی خاتون کو میدان میں اتارکر سیاست میں خود ’اشوک سمراٹ‘بننے کا خواب دیکھا ہے۔ راجیہ سبھا اور الگ الگ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بی جے پی کے زیادہ تر امیدوار دلت اور پسماندہ طبقات سے تھے۔ پارٹی نے اس پالیسی کو مضبوط قوت کے ساتھ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دلت اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کو پارٹی سے جوڑنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کی ذمہ داری دلت اور پسماندہ طبقات سے آنے والے بڑے لیڈروں کو دی گئی ہے۔ اس کے لیے وہ ڈور ٹو ڈور مہم چلائیں گے۔

5.: بی جے پی سرکاری اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی مدد کرے گی: ملک بھر میں 30 کروڑ سے زیادہ لوگ ہیں، جنہیں مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کا فائدہ مل رہا ہے۔ ان میں صفائی مشن کے تحت اجولا گیس اسکیم، پردھان منتری آواس یوجنا، مفت راشن، ہر گھر نل یوجنا، کسان سمان ندھی یوجنا، بیت الخلا سمیت کئی اسکیموں کے مستفیدین شامل ہیں۔ بی جے پی ان فائدہ اٹھانے والوں کو ووٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے لیے بی جے پی لیڈر اور کارکنان ان کے ساتھ بوتھ سطح پر بات چیت کریں گے۔ بی جے پی نے ’بھاجپا کو جانیں ‘ نامی مہم بھی شروع کی ہے۔ اس کے ذریعے دیگر ممالک کی حکمران جماعت کے رہنماؤں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کو پارٹی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ پارٹی بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ کو مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے،تاکہ بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کے ساتھ اچھا رابطہ قائم کیا جاسکے۔

پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اب تک 40 سے زیادہ ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے۔ نیز اس کے علاوہ بی جے پی اپنے مخصوص فرقہ وارانہ ایجنڈے جیسے سرجیکل اسٹرائیک، جموں و کشمیر سے 370 کی منسوخی ، رام مندر کی تعمیر کے معاملے پر عوام سے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیز پارٹی ان ایشوز کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنائے گی۔ پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو میٹنگ میں بھی ان مسائل پر غور کیا گیا۔

بی جے پی نے ہر ضلع میں وقتاً فوقتاً روشن خیال طبقات کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت شہر اور گاؤں کے ڈاکٹر، تاجر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، تاجر، انجینئر، ریٹائرڈ افسران، ملازمین، ریٹائرڈ فوجی جوان، خواتین، اساتذہ کو جوڑا جائے گا۔نیز بی جے پی اپنے تیر بہدف یعنی آئی ٹی سیل کے ذریعہ سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو رجھانے کی کوشش کرے گی ۔ خیال رہے کہ آئی ٹی سیل کے ذریعہ اپنے فرضی پروپیگنڈہ کے تحت کئی بار بی جے پی کو ملک کے عوام کے سامنے شرمسار بھی ہونا پڑا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button