
سوہیت کے سین
رواں سال کے آغاز کی طرف واپس جاتے ہیں۔ بی جے پی اور اس کی حکومت ایسا لگتا ہے کہ انتخابی کامیابیوں کو لے کر پرامید ہے حالانکہ کووڈ۔ 19 عالمی وباء سے نمٹنے میں اس کی نااہلی منظر عام پر آچکی ہے اور پھر اس کے باوجود جب کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اس کی شرح میں کچھ کمی آئی، تب# وزیراعظم #نریندر #مودی کی زیرقیادت #بی جے پی نے ببانگ دہل وائرس پر فتح کا اعلان کردیا اور پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے حکومت نے دنیا کو یہ بتانا شروع کردیا کہ #ہندوستان نے #کورونا #وائرس پر فتح پالی ہے اور اس مہلک وائرس پر فتح پانے کے معاملے پر عالمی سطح پر ہندوستان ایک مثالی #ملک بن چکا ہے۔
مودی حکومت نے اگرچہ غلط بیانی سے کام لیا تھا، لیکن وائرس پر فتح جیسے دعوؤں میں اسے بہار میں جنتا دل (یونائٹیڈ) اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ بہار #اسمبلی انتخابات میں کامیابی دلائی۔ یہ #انتخابات نومبر 2020ء میں منعقد ہوئے تھے اور کورونا وباء کے بیچ میں ان کا انتخاب عمل میں آیا اور اُس وقت مودی حکومت کی ناقص پالیسی کے نتیجہ میں نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کا خطرناک بحران بھی سامنے آیا تھا،
لیکن بہار میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس معاملے میں اپوزیشن جماعتوں نے جو الزامات عائد کئے، ان الزامات کی حقیقت سب پر عیاں ہیں۔ بہار میں لاکھ کوششوں کے باوجود بی جے پی کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو 243 رکنی اسمبلی میں 125 نشستوں پر کامیابی ملی۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ بی جے پی نے اپنی طاقتور حلیف نتیش کمار کی جنتا دل (یو) کے مقابل بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے 74 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
جبکہ نتیش کمار کی پارٹی کو صرف 43 نشستوں پر کامیابی ملی۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل رہا اور اس نے ریاست میں تمام جماعتوں سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جیسا کہ راقم الحروف نے بتایا کہ بی جے پی کو 74 نشستیں حاصل ہوئی جبکہ 75 نشستیں حاصل کرتے ہوئے آر جے ڈی ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔
بہرحال 2019ء کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی؍ این ڈی اے کیلئے بہار کی کامیابی کو پہلی بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے جس سے مرکز میں زیراقتدار پارٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بی جے پی کو مغربی بنگال میں ہوئی شکست نے پریشان کررکھا ہے، ان حالات میں وہ کسی بھی طرح اپنی کامیابی کے سلسلے کو روکنا نہیں چاہتی۔ ایسے میں آئندہ سال کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ فروری ۔ مارچ میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات ہوں گے اور پھر گجرات کے عوام اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے۔
ان دو ریاستوں میں بی جے پی نے خصوصی توجہ دے رکھی ہے۔ اترپردیش اور گجرات کے گوا، منی پور اور #اُتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ یہ ایسی ریاستیں ہیں ، جہاں بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی حکومتیں ہیں جبکہ پنجاب جیسی ریاست میں بھی انتخابات منعقد کئے جائیں گے جہاں کانگریس کی حکومت ہے۔دوسری طرف ہماچل پردیش جیسی بی جے پی زیرقیادت ریاست میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں، تاہم #جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ وہاں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل جاری ہے۔
بی جے پی کیلئے بُری خبر یہ ہے کہ #کورونا #وائرس کی عالمی وباء کے دوران عوام نے اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا، وہ منفی ہے۔ مثال کے طور پر بی جے پی کی زیرقیادت تمام ریاستوں اور ملک بھر میں کورونا وباء سے نمٹنے میں جس قسم کی تساہل برتا گیا، اس سے عوام میں برہمی کی لہر پائی جاتی ہے۔ خود بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں عوام ناراض ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم عوام پر ایک مثبت تاثر چھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ کورونا کی عالمی وباء سے نمٹنے میں حکومت ناکام رہی اور اپنی نااہلی کا ثبوت دیا جس کے نتیجہ میں ہی کورونا نے سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مودی کے یہاں عوام کے سوالات کے جوابات نہیں۔ پہلے تو انہوں نے عجیب و غریب خاموشی اختیار کی اور پھر عوامی برہمی کا دھواں اُٹھنے لگا تب وہ کچھ حرکت میں آئے۔ اس کے باوجود بہت کم لوگ بے وقوف بنے ہیں۔ ٹیکہ اندازی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مودی حکومت نے اس تعلق سے بھی بار بار رُخ بدلا اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی۔ اس طرح ٹیکہ اندازی پروگرام کو موثر انداز میں چلانے کے معاملے میں بھی وہ ناکام رہی۔
مثال کے طور پر ٹیکوں کی تیاری ، قیمتوں کا تعین اور تقسیم کے بارے میں کوئی ابتدائی تیاریاں نہیں کی گئیں جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاسی طور پر بی جے پی ایسے چیلنجس کا سامنا کررہی ہے جن چیلنجوں نے اس پر خوف طاری کر رکھا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے اترپردیش جیسی بڑی ریاست کی اسمبلی میں غیرمعمولی برتری حاصل ہے، اس نے پچھلے انتخابات میں وہاں تقریباً 75% نشستیں حاصل کی تھیں اور 2019ء کے عام انتخابات میں ریاست کی 80 لوک سبھا نشستوں میں سے 62 نشستوں پر اسے کامیابی ملی لیکن آج اُترپردیش میں بی جے پی کی حالت وہ نہیں جو 2017ء کے اسمبلی انتخابات اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں تھی۔
اب وہ کئی سنگین مسائل کا سامنا کررہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی یونٹ میں داخلی خلفشار پایا جاتا ہے۔ مودی اور چیف منسٹر یوگی کے درمیان رسہ کشی بھی شروع ہوچکی ہے حالانکہ کورونا وباء سے نمٹنے میں دونوں کو ناکام قرار دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب یوپی بی جے پی میں سنگین پھوٹ ہے، یہ اور بات ہے کہ جھوٹ کو پھیلانے والی فیکٹری کسی بھی طرح اسے پھیلائے، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ریاست یو پی میں جس طرح بڑے پیمانے پر کورونا اموات ہوئی ہیں،
اس کے بارے میں بی جے پی کو عوام کے سامنے وضاحت کرنے میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں ابھی بھی گنگا میں تیرتی نعشوں کے مناظر قید ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ نعشیں اس بات کو کھول کھول کر بیان کررہی ہیں کہ ریاستی حکومت نے کورونا اموات کی حقیقی تعداد چھپائی ہے۔ حالیہ دنوں میں عوامی برہمی کا نتیجہ اترپردیش پنچایت انتخابات میں نظر آیا۔ جاریہ سال مئی میں جبکہ کورونا کی وباء نقطہ عروج پر پہنچ چکی تھی، ان انتخابات کا اہتمام کیا گیا۔
پنچایت انتخابات کے نتائج نے یقینا بی جے پی کو یہ احساس دلایا ہوگا کہ اسے جو عوامی تائید حاصل تھی، اس میں گراو ٹ آنے لگی ہے۔ ان انتخابات میں سماج وادی پارٹی(ایس پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ ضلع پریشد انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے 3,050 وارڈس ؍ نشستوں میں سے 1,000 سے زائد نشستیں حاصل کی اور بی جے پی کو 9,000 سے کچھ زائد نشستیں حاصل ہوئیں، چونکہ یہ انتخابات سرکاری طور پر پارٹی سطح یا پارٹی نشان پر نہیں لڑے گئے تھے ایسے میں کس پارٹی نے کتنے حلقوں میں کامیابی حاصل کی،
یہ کہنا مشکل ہے۔ خاص طور پر شیتریہ پنچایت (بلاک کی سطح پر 75,852 وارڈس ؍ سیٹس) یا گرام پنچایت گاؤں کی سطح پر (7 لاکھ 32 ہزار وارڈس ؍ سیٹس )ان بلاکس ؍ وارڈس اور نشستوں پر بے شمار آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع سطح پر کامیاب آزاد امیدواروں کی تعداد 1000 سے زائد رہی۔ ان تمام نتائج سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ بی جے پی کیلئے مجوزہ انتخابات آسان نہیں ہے۔
دوسری طرف اس کیلئے کسانوں کا احتجاج بھی ایک خطرہ بنا ہوا ہے۔ یہ احتجاج شروع ہوئے 6 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے ، خاص طور پر مغربی اُترپردیش میں کسان ، بی جے پی سے بہت ناراض ہیں، کیونکہ مرکز نے کسانوں سے بات چیت کیلئے معمولی کوششیں کی ہیں۔ ان تمام نقائص یا کمزوریوں کے ساتھ ساتھ یوگی اور مودی میں بھی اقتدار کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔
کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے میں ناکامی کیلئے مرکزی حکومت نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو ذمہ دار قرار دینے کی کوششیں کی ہیں، حالانکہ ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں اس کیلئے ذمہ دار ہیں۔ مودی کو اپنے خاص بلکہ بااعتماد آدمی اے کے شرما کو اترپردیش میں لانے کیلئے سخت کوشش کرنی پڑی۔ خاص طور پر ریاستی کابینہ میں ان کی شمولیت کیلئے۔ آدتیہ ناتھ نے بڑی کامیابی سے مودی کی کوشش کو ناکام بنادیا جس پر اے کے شرما کو مجبوراً بی جے پی کی ریاستی یونٹ کا نائب صدر بنایا گیا جبکہ دیگر دو قائدین کو وزارت میں شامل کیا گیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ پر نکیل کسنے مودی اور امیت شاہ کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یوگی یوپی میں مضبوط موقف رکھتے ہیں اور انہیں بہ آسانی ہٹایا نہیں جاسکتا۔
اسی طرح بی جے پی کی ایک اور حلیف ایل جے پی میں بھی قیادت کا جھگڑا زور پکڑ لیا اور پھر یہ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ رام ولاس پاسوان ایل جے پی کے بانی ہیں اور 8 اکتوبر 2020ء کو ان کا انتقال ہوا۔ چراغ پاسوان کی قیادت میں ایل جے پی ایک نشست بھی حاصل کرنے سے قاصر رہی لیکن اس نے کئی نشستوں پر جنتا دل یو کی ناکامی کو یقینی بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ چراغ پاسوان کو بی جے پی کی درپردہ حمایت حاصل تھی جس کے نتیجہ میں ہی بی جے پی، جنتا دل یو سے زائد نشستیں حاصل کرسکی۔



