سرورققومی خبریں

گیان واپی مسجد کے معاملہ پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا:جمعیۃ علماء ہند

نئی دہلی، 2 فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گیان واپی مسجد کے معاملہ پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔جمعیۃ علماء ہند نے جمعہ کو راجدھانی میں ایک بڑا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ وارانسی کی ضلعی عدالت نے ہندو فریق کو گیان واپی مسجد میں واقع تہہ خانے میں پوجا کرنے کا حق دیا تھا۔ وہاں 31 سال بعد پہلی بار پوجا کی گئی۔ مسلم فریق اب اس کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے تہہ خانے میں عبادت پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا ہے۔پریس کانفرنس میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ،مسلم ملک کی آزادی کے بعد اب ملک اس مسئلے میں گھرا ہوا ہے۔ دہلی سے لے کر یوپی تک اس طرح کے کئی مسائل اٹھائے جا رہے ہیں۔ عدالت کی سستی کی وجہ سے عبادت گاہوں پر قبضہ کرنے والوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ 1991ے فیصلے میں بابری کو دور رکھنا بھی درست نہیں تھا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے راستہ دکھایا ہے۔سپریم کورٹ کو بابری مسجد کے سلسلے میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنا تھا لیکن سپریم کورٹ نے بابری مسجد ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بھی محض ’آستھا‘ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا جس کی وجہ سے آج کل عدالتوں سے اس طرح کے فیصلے صادر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے بابری مسجد کے سلسلے میں دلائل کی بنیاد پر فیصلہ قبول کرنے کی بات کہی تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ہم نے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے وکلاء اور دانشوروں نے بھی اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہاکہ صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ جس عدالت میں بھی عقیدت کا معاملہ آئے گا وہاں ’آستھا‘ کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں اگر یہی روش ہوگی تو خواہ جین ہو یا عیسائی، پارسی ہو یا سکھ کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ملک کے لئے بڑا المیہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں عدالتیں ہی مظلوموں کی داد رسی کاآخری سہارا ہوتی ہیں اور اگر وہ جانبداری کرنے لگیں تو انصاف کی دہائی کس سے لگائی جائے گی۔مولانا ارشد مدنی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ملک مذہبی عقائد کی بنیاد پر چلے گا تو ملک کیسے چلے گا؟یہ ایک مفروضہ ہے کہ اس ملک میں جہاں اکثریت مذہبی عقائد کی بنیاد پر کوئی مسئلہ اٹھائے گی وہاں سچائی اور ثبوت کو کارآمد نہیں سمجھا جائے گا۔ وہاں دیکھا جائے گا کہ اکثریت بھی عقیدت مند سے کیا چاہتی ہے اس کے سامنے پیش کیا جائے لیکن اس سے ملک کیسے چلے گا یہ بات سوچنے کی ہے۔ ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ روش یہی چلے گی تو کوئی بھی اقلیت خواہ وہ سکھ ہو، جین ہو، مسلمان ہو یا عیسائی ہو، اسے کسی بھی معاملے پر فیصلہ نہیں ملے گا،۔اگر معاملہ میں تناؤ ہے اور اس میں عقیدت کی بنیاد پر اکثریت کا دخل ہوگا تو پھر آپ کو کبھی انصاف نہیں ملے گا۔

پھر اکثریت کے عقائد کو ترجیح دی جائے گی۔ وہیں مولانا سیف اللہ رحمانی نے گیان واپی مسجد کے بارے میں کہا کہ گیان واپی کیس میں کل جو واقعہ سامنے آیا اس نے 20 کروڑ مسلمانوں اور تمام انصاف پسند شہریوں کو چونکا دیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت افسوسناک ہے۔ اسی طرح ہندو اور سکھ بھی مانتے ہیں کہ یہ ملک مذاہب کا گلدستہ ہے۔ وہ سب حیران ہیں۔ گیان واپی اور ایک مسجد کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، جہاں ایک مندر کو گرا کر مندر بنایا گیا تھا، غلط ہے۔ اسلام میں چھینی ہوئی زمین پر مسجد نہیں بن سکتی۔ پہلی مسجد جو بنائی گئی تھی وہ بھی خریدی گئی۔انہوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے پیش کیا گیا فیصلہ دکھ دیتا ہے۔ اس سے 20 کروڑ مسلمانوں کو صدمہ پہنچا ہے۔ وہ ہندو اور سکھ بھی جو اس ملک کو مذاہب کا گلدستہ مانتے ہیں بھی اس فیصلے سے حیران ہیں۔مولانا سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں یہاں تک کہا کہ اگر اس پر زبردستی قبضہ کیا جاتا تو کیا اتنے مندر ہوتے؟انھوں نے کہا کہ ،ہمیں تاریخ کی تاریخی سچائی کو سمجھنا چاہیے۔ انگریزوں نے اس ملک میں آکر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی۔

1857 میں اس نے دیکھا کہ عبادت کرنے والے اور خدا کی عبادت کرنے والے دونوں ملک کے لیے متحد ہیں۔ اس کے بعد اس نے دونوں برادریوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے یعنی ان کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کا کام کیا۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مزید کہنا تھا کہ ،اگر مسلمان دوسروں کی عبادت گاہوں پر زبردستی قبضہ کرنے کا سوچتے تو کیا اتنے مندر ہوتے؟ جس عجلت کے ساتھ عدالت نے اپنا فیصلہ لیا اور پوجا کی اجازت دی، اس نے دوسرے فریق کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے انصاف فراہم کرنے والی عدالتوں پر اعتماد کم ہوا ہے۔مولانا سید محمود مدنی نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے ہندوستانی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ یکطرفہ طور پر کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ عدالت عالیہ تکنیکی بنیاد پر دخل دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہم کہاں جائیں گے کس سے کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بات اس حد تک نہیں بڑھنے دینا چاہئے کہ ملک کے حالات خراب ہوجائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا سب کی ذمہ داری ہے،جس کی لاٹھی اس کا بھینس کا قانون چل رہا ہے۔جمعیۃ اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے کہاکہ عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے وہ کسی پروسیزر پر عمل کئے بغیر ہے ،بلکہ 1991عبادت گاہ قانون کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ کو اچھی طرح اٹھائے امن و قانون برقرار رکھتے ہوئے اس مسئلے کو اجاگر کرے۔اس موقع پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اور نائب ترجمان کمال فاروقی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں کاشی وشوناتھ مندر کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور آچاریہ وید ویاس پیٹھ مندر کے چیف پجاری شلیندر کمار پاٹھک کو فریق بنایا گیا تھا۔

وارانسی کی عدالت کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 کے تحت یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔ نیز ویاس خاندان کی ملکیت یا پوجا وغیرہ کے لیے رکھے جانے کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی، جیسا کہ موجودہ فیصلے میں کہا گیا ہے۔ اپیل میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ دائر کرنے کا بنیادی مقصد گیانواپی مسجد کے آپریشن کو لے کر ایک مصنوعی تنازعہ کھڑا کرنا ہے، جہاں نماز باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button