فرمان الٰہی سورہ الانعام آیت ١٦٢ مفہوم ہے ” رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کہ دو میری نماز میری عبادت، و قربانی، میرا جینا اور مرنا اللہ کے لئے جو رب العالمین ہیں” آیت واضح طور پر بیان کر رہی ہے، ایمان والوں کا جینا اور مرنا صرف اللہ کے لئے ہونا ضروری ہے، تاہم کرہ ارض پر بسنے والے کم وبیش ستاون اسلامی ممالک میں اسلام دین کے طور پر نافذ نہیں ہے۔
باظاہر تو یہ اسلامی ممالک کہلاتے ہیں، تاہم اس طرز نظام میں دجالی شکل لامحالہ موجود ہیں، تمام اسلامی ممالک میں نماز، روزے زکوٰۃ، حج کا اہتمام پابندی سے کیا جاتا ہے حتیٰ کہ غیر اسلامی ممالک میں رہنے والے اسلام کے پیروکار کو ابھی اس ارکان ادایگی پر روک نہیں ہے، تاہم اس ارکان سے تجاوز کرتے ہوئے اگر کسی اسلامی ممالک نے شریعت کے مکمل نفاذ کے سمت پیس رفت کی اس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دنیا پوری میں اسلام دین کو ماننے والوں کے لئے دین کا تصور کچھ اسی طرح کا ہے اسلام مطلب ایک اللہ کو ماننا نیز نماز روزہ حج زکوٰۃ کی ادائیگی تک ہی محدود ہے، جینا اور مرنا صرف اپنے خاطر نہ کہ خالق کائنات کی خوشنودی کے لئے، ممبر ومحراب سے اس آیت کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا۔
کیوں زبانیں خاموش ہے اس اہم ترین بیان کو بیاں کرنے سے اللہ کا دین اللہ کی زمین پر غالب کون کریگا صرف اللہ کے دین کو ماننے والا اللہ ہی کو اس کے لئے کوشاں رہنا ہے، اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل امر نہیں اس کے خزانے میں ایسے بھی ماننے والوں کے لشکر ہونگے جو یہ کام کو انجام تک رسائی دینگے۔
اللہ فرماتے ہیں سورہ عمران آیت ٧٥ ” جو کوئ اللہ کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا ایسے لوگ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگے” دین اسلام ہی اللہ نے پسند فرمایا ہے انسانوں کی فلاح و بہبود اسلام دین سے ہی ہے، اس کا اظہار اللہ نے کردیا، اسلام دین پر چل کر آؤ گے تو مقام قبولیت کو جاؤ گے اب کسی اور دین پر چل کر اللہ کی قربت ممکن نہیں تمام دروازے بند کر دیے گئے۔
تاہم اس کرہ ارض پر بسے کثیر تعداد اللہ کے کلمے کو پڑھ کر دین اسلام کے پیروکار ہیں، تاہم طرز زندگی میں اسلام کی جھلک نماز، روزہ، حج زکوٰۃ تک محدود رہ گئی، حکومتی نظام سے دین اسلام کو بے دخل کردیا گیا نیز ایسے نظام کو طرز زندگی میں شامل کیا جسے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کے قائم کردہ نظام سے کوئی سروکار نہیں، کرہ ارض پر موجود تمام ممالک میں نظام محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے خالص شکل میں موجود نہیں ہے۔
عبادت گاہ، درس گاہ میں گویا کہ اسلام کو مقید کر دیا گیا، ہر ملک کی پارلیمنٹ میں اپنا مرتب کردہ آئن جس پر اس ملک کی حکومت گامزن ہوتے ہوئے حکومت کے فرائض دجالی ایماء پر کرتی نظر آتی ہے، غرض کے اللہ کی ہدایات اب انسان نے کنارے کرکے اپنے مرتب کردہ آئن کو نصب العین بنا رکھا ہے۔
ایسا آئن جس کا مصنف دجال ہے ہر ملک کے پارلیمنٹ کی زینت بنا بیٹھا ہے، اس کے تحت فحاشی، سود پر مشتمل کاروبار، مرد کی مرد و عورت کی عورت سے شادی جائز، شراب خانہ عام ، کاغذی کرنسی پر مبنی معیشت، بہر کیف خلافت عثمانیہ کے زوال پر ساری دنیا میں دجالی نظام قائم کردیا گیا، اس زہر آلودہ نظام نے دنیا کے تمام ممالک کو اپنے زد میں لے رکھا ہے۔
نظام باطل نے دنیا کی بیشتر آبادی کو غربت ذدہ کردیا کاغذی کرنسی نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، کسی بھی ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کرنا اب کوئی مشکل امر نہیں ہے، ١٩٩١ میں سویت یونین کو اسی حکمت عملی کے تحت تقسیم کردیاگیا جس کے نتیجے میں کہی ممالک وجود میں آئے، نہ کوئی جنگ نہ کوئی آسمانی آفت، سویت یونین میں ہر شے اپنی روز مرہ کی طرح جاری وساری تھی۔
سرکاری دفتروں میں کام جاری تھا، سڑکوں پر حسب معمول ٹریفک جاری تھی، بنک اپنے کام میں مصروف تھے تاہم ملک بحران کا شکار ہو کر رہ گیا، سری لنکا کی صورتحال بھی کم وبیش اسی طرح کی کردی گئی حکومت کے پاس زرمبادلہ باقی نہیں رہا گویا حکومت دیوالیہ ہوچکی حکومت کے پاس اتنا روپیہ ہی نہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر خریدوفروخت کر سکے ۔
نتیجہ مہنگائی افق پر پہنچ چکی عوام پریشان بے یارومددگار سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آنے لگے، مزید کاروبار و حیات جاویدان مفلوج ہو کر رہ گئی، کاغذی کرنسی پر مشتمل معیشت کے ذریعے ملکوں کو زبوحالی تک پہچانا دجالی ہداف میں شامل ہے، بہر کیف امیر ترین ملکوں کو یہ جنگیں برپا کر کے ختم کرتے ہیں، عراق، لبیا، شام، یمن، لبنان، مصر کو مکمل نست ونابود کر چکے گویا خلیجی ممالک میں ایک بحران کا سماں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اپنے طے شدہ اغراض و مقاصد کو حاصل کرنا دجالی نظام کا نصب العین ہے، دجالی نظام کے مد مقابل کسی قسم کا رخنہ ناقابل برداشت تصور کیا جاتا ہے، افغانستان نے ایک طویل جنگ امریکہ و اتحادیوں کے خلاف معرکہ آرائی سے جیتی تھی، بعدازاں شکست امریکہ و اتحادیوں نے حکومت افغانستان کو نہ خود اور نہ کسی دوسرے ممالک کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کی اجازت دی، تسلیم نہ کرنے کی واحد وجہ افغانستان کا یہ اعلان کہ ملک میں شریعت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نفاذ ہوگا۔
امریکہ و اتحادیوں کو خدشہ لاحق ہوگیا گر دنیا اس خوبصورت و با برکت نظام محمد مصطفیٰ ﷺ سے واقف ہوگی پھر ان کا جاری کردہ نظام ء باطل کا قلع قمع ہونا یقینی ہے، لہذا اس شرعی نظام کو تسلیم ہی نہ کیا جائے، حتیٰ کہ ستاون اسلامی ممالک بھی اسے تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
اسی اثناء ہمسایہ ملک میں انتشار برپا کر کے حکومت تبدیل کرنے کا ارادہ وہ کرچکے، رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے، دجال اپنے ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے ہوگا جسے لوگ پانی سمجھے گے دراصل وہ آگ ہوگی، اور جسے آگ سمجھے گے وہ پانی ہوگا، جسے چاہے دجال خوشحالی عطا کرے گا، دراصل وہ خوشحالی ایک عذاب ہوگی ، سری لنکا و ہمسایہ ملک پاکستان میں دجال متحرک ہے یہ ممالک بحران کی ذد میں آچکے یا انہیں لایا گیا ہے۔
ہم فرمان الٰہی کو فراموش کر چکے ہمارے ممبر و محراب خاموش ایک ایسی فضاء جہاں سچ کا گذر نہیں قائم کردی گئی، عدالتیں انصاف کو قائم رکھنے میں نا کامیاب ہے، بہر کیف ہماری تاریخ میں چھترپتی شیواجی مہاراج بہادری کی علامت کو ظاہر کرتے ہوئے دلیر انسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
شیواجی مہاراج کی مکمل تصویر میں ہمیشہ اسی طرح دیکھی گئی، موصوف کے ہاتھ تلوار سے کبھی خالی نظر نہیں آتے تصویر میں ہمیشہ جارہانہ انداز ہی ہوتاہے، کیا پیغام شیواجی مہاراج کی تصویر اپنے ماننے والے یا اپنی قوم کے لوگوں کو دیتی ہیں، دھرم کی رکھشا صرف تلوار ہی کرسکتی ہے، لہٰذا دھرم پر کوئی حملہ ناقابل قبول ہوگا اسے برداشت نہیں کیا جاے گا۔
دین اسلام کے پیروکار اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کا دیا نظام مزید قرآن کے احکامات کو فراموش کر چکے۔ انہیں کے لئے قرآن میں اللہ نے لکھ چھوڑا ہے سورہ فرقان آیت ٣٠ ” اور رسول فرمائیں گے اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو ہنسی سمجھ کر چھوڑ دیا تھا”



