مشرکین کا حرم میں داخلہ ممنوع✍️مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی۔ حیدرآباد
آئندہ کیلئے ان کا حج اور ان کی زیارت ہی بند نہیں بلکہ مسجد حرام کے حدود میں ان کا داخلہ بھی بند ہے تا کہ شرک و جاہلیت کے اعادہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے
اسلام کا آغاز سرزمین عرب مکہ سے ہوا اور سرکار دو عالم، رحمت عالم ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ قیادت میں مکہ سے وسعت کرتے ہوئے عرب کے دیگر علاقوں تک پہنچا ۔ آپ کی پاکیزہ سیرت اور آپ ؐ کے شب و روز کے اعمال کو دیکھ کر لوگ آپ کی دعوت حق پر لبیک کہتے رہے لیکن اس دوران نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی طرح سے مشقتیں اٹھانی پڑیں اور آپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی کئی طرح سے اذیتیں عرب کے کفار و مشرکین کی طرف سے پہنچائیں گئی۔ مشرکین اور کفار قریش کے نزدیک اہل ایمان ( صحابہ کرامؓ) کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اللہ کو الٰہ واحد مان لیا اور توحید خالص کے مرکز (خانہ خدا )میں رکھے گئے تین سو ساٹھ معبودان باطل کا اپنے عقیدہ و عمل سے انکار کیا۔
اپنے مراسم عبودیت (قدیم بنیاد) (اسلامی طریقہ اور اللہ کے آخری نبی و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ادا کرنے لگے۔ اس طرح نبی محترم رسول برحق داعی اعظم قائد کامل کی اس صالح تحریک کو فروغ پاتا دیکھ کر ادیان باطل کے حاملین (کفار و مشرکین) نے اہل ایمان اور ان کے قائد محترم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمن ہوگئے۔ مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا اور انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا، رحمت عالم نبیؐ محترم کے پیچھے آوارہ اور اوباش لونڈوں کو لگایا گیا کہ آپؐ پر پتھر برسائیں جس کی و جہ سے آپ ؐ کا جسم اطہر لہو لہان ہوگیا تھا۔ ان حالات میں آپ ؐ کو ہجرت کرنی پڑی اور (کارکنان اسلامی) صحابہ کرام ؓ کو بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ شریف کو اپنا مسکن بنانا پڑا۔ اس طرح یہ دعوت اسلامی تحریک اسلامی مکہ سے نکل کر مدینے پہنچی، اس کے بعد اور بھی زیادہ نفوس اس دعوت اسلامی کو قبول کرتے رہے اور اس میں شامل ہوتے رہے۔
اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کفاران قریش چراغ پا ہوئے اور ان کے اندر اہل ایمان کا خوف طاری ہوگیا۔ انہوں نے سوچا کہ اپنی طاقت کو یکجا کر کے مدینہ پر حملہ کیا جائے۔ اس طرح انہوں نے مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی۔ اس کے بعد کئی مراحل آئے، یعنی ایک طرف یہود و نصاریٰ کی شرارتیں دوسری طرف منافقین کی کارستانیاں وغیرہ لیکن ہر بار کامیابی اہل ایمان کی ہوتی رہی، اسلام کا پرچم روز بروز بلند ہوتا رہا کفر و شرک کے کالے بادل چھٹتے رہے، اسلام کی طاقت ابھرنے لگی، کفار و مشرکین کا قلع قمع یقینی ہوچکا لیکن اس کیلئے اہل ایمان کو اپنی جان کی بازی لگانی پڑی اور کئی صحابہ کرامؓ شہید ہوئے اور خود سرکار دوجہاں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے مگر اللہ تعالیٰ جو عزیز و جبار ہے اس کی نصرت و امداد سے اہل ایمان کے ہاتھوں کئی کفار و مشرکین بڑی ہی ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔ اس طرح کی کئی معرکہ آرائی کے دوران اسلام عرب کے ایک بڑے حصہ پر غالب آگیا اور سرزمین کی فضاؤں میں یہ آواز گونجی کہ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔
حق آگیا اور باطل مٹ گیا باطل تو نا بود ہونے کیلئے ہے۔ اس طرح خانہ کعبہ سے بتوں کا صفایا ہوچکا اور عرب کا نظم و نسق ایمانداروں کے ہاتھ آگیا اور تمام طاقتیں جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنا کرتی رہیں وہ سب کے سب انتہائی بے بسی کے عالم میں آگئیں۔ غرض کہ عرب میں شرک و کفر کا سارا زور ٹوٹ چکا الا یہ کہ جاہلیت قدیم کے چند ایک عناصر عرب کے مختلف مقامات پر پراگندہ حالت میں باقی رہ گئے۔’’کعبہ کا انتظام اہل ایمان کے ہاتھ آجانے کے بعد یہ بالکل نا مناسب تھا کہ جو گھر خالص خدا کی پرستش کیلئے وقف کیا گیا تھا اس میں بدستور شرک ہوتا رہے اور اس کی تولیت بھی مشرکین کے قبضہ میں رہے ۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ آئندہ کعبہ کی تولیت بھی اہل توحید کے قبضہ میں رہنی چاہئے اور بیت اللہ کے حدود میں شرک و جاہلیت کی تمام رسمیں بھی ضرور بند کردینی چاہئیں بلکہ اب مشرکین اس گھر کے قریب پھٹکنے بھی نہ پائیں تا کہ اس بنائے ابراہیمی کے آلودہ شرک ہونے کا کوئی امکان باقی نہ رہے ۔
آئندہ کیلئے ان کا حج اور ان کی زیارت ہی بند نہیں بلکہ مسجد حرام کے حدود میں ان کا داخلہ بھی بند ہے تا کہ شرک و جاہلیت کے اعادہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے ’’ناپاک‘‘ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ بذات خود ناپاک ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعتقادات ، ان کے اخلاق ،ان کے اعمال اور ان کے جاہلانہ طریق زندگی ناپاک ہیں اور اسی نجاست کی بناء پر حدود حرم میں ان کا داخلہ بند کیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ حج اور عمرہ اور مراسم جاہلیت ادا کرنے کیلئے حدود حرم میں نہیں جاسکتے ۔ امام شافعیؒ کے نزدیک اس حکم کا منشا یہ ہے کہ وہ مسجد حرام میں جاہی نہیں سکتے اور امام مالک ؓ یہ رائے رکھتے ہیں کہ صرف مسجد حرام ہی نہیں بلکہ کسی مسجد میں بھی ان کا داخل ہونا درست نہیں ۔ لیکن یہ آخری رائے درست نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں ان لوگوں کو آنے کی اجازت دی تھی ۔
’’معاشی بدحالی کی فکر نہ کرو‘‘:حج بیت اللہ کے موقع پر خوب تجارت ہوا کرتی تھی اس طرح کاروباری پہلو سے بھی دیکھا جائے تو اس کی بڑی اہمیت تھی ، جب اہل ایمان کو حکم ہوا کہ مشرکین کو آئندہ سال سے بیت اللہ میں داخل ہونے نہ دیں تو جو لوگ کاروباری تھے ان کو اس کا اندیشہ ہوا کہ اس طرح مشرکین کو روک دیا گیا تو ہماری تجارت کا کیا ہوگا ۔ لہذا اللہ تبارک تعالیٰ اس اندیشہ کا ازالہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمارہے ہیں ۔اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے ۔ مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی ؒاس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں ۔
’’اب اسلام کے دور میں آکر جب یہ اعلان ہوا کہ آئندہ مشرکین حج کیلئے نہیں آسکتے تو ان لوگوں کو تشویش لاحق ہوئی جو کاروباری زندگی سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہو ںنے خیال کیا کہ مشرکین کو روک دینے سے کاروبار اور تجارت پر بڑا اثر پڑے گا ۔ جس سے مسلمانوں کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوجائے گی ۔ ان لوگوں کو مطمئین کرنے کیلئے فرمایا کہ معاشی بدحالی کا غم نہ کرو ۔ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا۔ (تدبر قرآن )اسلامی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ،غیر مسلمین سے برات اور انہیں حرم (مسجد حرام ) میں داخلہ ممنوع کرنے کے بعد مسلمانوں کیلئے کسی طرح بھی معاشی بدحالی کا معاملہ پیش نہیں آیا بلکہ اسلام کو دن بدن فروغ حاصل ہوتے رہا۔ اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ اپنے فضل سے مسلمانوں کو کفار و مشرکین سے بے نیاز فرما کر غنی کردیا ۔ یعنی ان سب کفار سے اہل ایمان کو مستغنی فرمادیا ۔
’’حاصل کلام ‘‘:آیت مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات ہمارے سامنے آرہی ہے اور اس کا حاصل کلام یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی پابندی کریں ،پھر اس کے بعد یہ نہ دیکھیں کہ فلاں حکم کی پابندی میں یہ رکاوٹ ہوگی اور فلاں چیز سے سامنا کرنا پڑے گا ۔ مثلا آج کے دور میں ایک شخص توبہ کرتے ہوئے سودی کاربار ، لین دین بند کرتے ہوئے ’’حلال کسب معاش‘‘اختیار کرتا ہو تو اسے اس بات کا ہر گز کوئی خوف نہ ہونا چاہئے کہ کہیں نقصان تو نہیں ہوگا یا نفع ہوگا بھی یا نہیں کیونکہ اہل ایمان کی مدد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جبکہ وہ اس کی رضا و خوشنودی کی خاطر حلال طریقہ اختیار کرتے ہیں اور حرام سے بچنے کی فکر کرتے ہیں ۔
بشرطیکہ وہ کاروبار حلال ہو ۔ غرض کہ اللہ تبارک تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں مسلمانوں کو کسی قسم کا کوئی اندیشہ لا حق نہ ہو کہ ہم فلاں کام کریں گے تو فلاں گروہ ہمیں یہ کہے گا ۔ فلاں آدمی سے ہمارے تجارتی تعلقات ہیں اگر ہم دین کے فلاں حکم پر عمل کریں تو ہمیں یہ ہوگا اور وہ ہوگا اس طرح کے کسی اندیشہ میں مسلمان ہر گز نہ پڑیں کیونکہ رزق کا عطا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ کاروبار کو چلانا بھی اللہ ہی کے فیصلہ پر منحصر ہے ۔
×××



