
نئی دہلی، 18 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کے اگلے ماہ ہونے والے اجلاس میں پانچ فیصد ٹیکس سلیب کو ختم کرنے کی تجویز پر غور کرنے کے امکان کے ساتھ کانگریس نے پیر کو الزام لگایا کہ حکومت اب ایک عوام کی جیب کاٹنے کا نیا طریقہ اپنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹویٹ کیا کہ اب 150000 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کی تیاری کر رہے ہیں! مودی حکومت اب جی ایس ٹی کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر کے عوام کی جیب کاٹنے کا نیا طریقہ تیار کر رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے مصالحہ جات، تیل، چائے، کافی، چینی، مٹھائیاں، کوئلہ، بائیو گیس، کسان کی کھاد، زندگی بچانے والی دوائیں، 1000 روپے تک کے جوتے، اگربتیاں، بزرگوں کی لاٹھی، سماعت کے آلات،کلیدی مشینیں، نابینا افراد کی گھڑیاں، قالین اور بہت سی دوسری اشیا اور خدمات مہنگی ہو جائیں گی۔
سرجے والا نے کہاکہ لوگ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ سے کراہ رہے ہیں، تھوک خوردہ مہنگائی مارچ میں 14.55 فیصد کی غیر متوقع بلندی کو چھو رہی ہے، پیٹرول-ڈیزل-کھانا پکانے والی گیس-سی این جی-پی این جی نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔ لیموں ہری مرچ سبزیاں کھانا خواب بن گیا، ملک کے عوام کے لیے مزید کتنا نچوڑو گے؟۔
قابل ذکر ہے کہ اگلے ماہ ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں پانچ فیصد کے ٹیکس سلیب کو ختم کرنے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔



