سیاسی و مذہبی مضامین

قیادت اپنی نسل کی فکر کرے !✍️محمد شارب ضیاء رحمانی

یوپی میں مدارس کا سروے جاری ہے لیکن سروے پر کیا لائحہ عمل ہو، مسلم قیادت یہ18ستمبر کو طے کرے گی، جب تک بیشتر مدارس سروے کراچکے ہوں گے، کیاڈرامہ ہے ملت کے ٹھیکیداروں کا،کریڈیٹ خوروں کا۔ قوم کو یہ لوگ تھوک کے بھائوسے بے وقوف بناتے ہیں تاکہ مسلمان خوش ہوجائیں کہ نشستن، گفتن، خوردن، برخاستن کا عمل ہو جائے اور کوئی فائدہ بھی نہ ہو۔اوراس نام پرچندہ کاسلسلہ جاری رہے۔جوپریس بیان بھی جاری ہواوہ غیرواضح ،یہ ایک مثال ہے بے بہرہ، بد مست قیادت کی بے حسی کی۔ایسی درجن بھر مثالیں موجود ہیں، یہ لوگ یا تو وقت پر حکمت عملی بناتے ہیں یابعد میں،جو صرف ڈرامہ ہی ہوتاہے،نتیجہ صفر۔حکمت عملی کس چڑیا کا نام ہے یہ ان بے چاروں کو بھی پتہ نھیں۔

یہی وجہ ہے کہ ملی مسائل پردہلی سے لے کرمہاراشٹرتک کئی’ کل جماعتی‘ میٹنگیں ہوچکی ہیں،کسی ایک کابھی نتیجہ بتادیجیے۔اوریہ سب ڈرامہ ہرجماعت کی ’کل جماعتی‘ کے نام ہوا کرتاہے۔سوال یہی ہے کہ سروے کی ضرورت ہی کیوں پڑی اوراگرترقیاتی پالیسی بنانے کے لیے سروے کی ضرورت ہے تویہ آزادمدارس ہیں جب سرکارکے تحت ہیں ہی نہیں،توسرکارکیافلاح کرے گی،نیزاگرنیت درست ہے توتمام اقلیتی اداروںیعنی پاٹھ شالائوں،کانونینٹوں وغیرہ کاسروے کیوں نہیں ہورہاہے؟یہ لوگ کھل کرکیوں نہیں بولتے کہ جب تک تمام اداروں کاسروے نہیں ہوتا،ہم شریک نہیں ہوں گے۔آزادی کی تحریک میں تحریک عدم تعاون بھی اہم راستہ تھا۔

ایسے موقعہ پر یاد آتی ہے امیرشریعت سابع مولانا محمدولی رحمانی ؒ کی۔ مدارس پر وزارتی گروپ کی رپورٹ ہو یا مرکزی مدرسہ بورڈ کے خوب صورت تخیل میں بہلاکر مدارس کو نشانہ بنانے کی سازش ہو، اوقاف ترمیمی ایکٹ ہو، اقلیتی کمیشن ایکٹ ہو، یاآرٹی ای ایکٹ میں مدارس پرشکنجہ کسے کی تیاری، اللہ کا یہ شیر کس طرح میدان میں کود گیا، مستقبل کے خطرات کو بھانپنے کی آپ میں جو بے پناہ صلاحیت تھی،آپ نے اسے استعمال کرکے دہلی سلطنت کی نیند حرام کردی، کیاآج وہ ہوتے تو اسی طرح، بلا استثناء ،دہلی سے لے کر، وایا دیوبند،حیدرآباد، لکھنو،پٹنہ،مونگیر تک خاموشی ہوتی؟

یادرہے کہ مدارس کا سروے، میڈیا ٹرائل،صرف یوپی کا معاملہ نھیں ہے،اتراکھنڈ میں بھی تیاری ہورہی ہے، کاش کہ نتائج کا کاش ادراک ہوتا۔جولوگ یہ سوچ کرسوئے ہیں کہ ہماری ریاست میں ایسے حالات نہیں ہیں تودیکھتے رہیں،آنے والے دنوں میں یہ عمل ملک گیر ہوگاجس خطرناک چیز میڈیا ٹرائل بھی ہے،کیا مجال کہ کچھ ہوش آئے۔

سچ یہ ہے کہ اس نام نہاد، سرکارزدہ، چاپلوس ،نابالغ ،بے حس قیادت کو قانونی باریکیوں کی بالکل جانکاری نھیں ہے، اور نہ مستقبل کے خطرات اور اثرات کا بالکل اندازہ ہے، سب اپنے عیش کدے میں بد مست ہیں، جب کسی نے ذرا جھنجھوڑا، ایک میٹنگ ہوگئی، پھر سو گئے،بہترہے، آپ سوئے ہی رہیں،قوم آپ سے تقریباً بیزار ہوچکی ہے،نوجوان نسل تو بالکل آپ سے ناامید ہے،کچھ بھکت باقی ہیں، ان کی بھی نیند ٹوٹ جائے گی۔

جس دن پوری ملت جاگ گئی، اورآپ یہ آپ کی نسل کے لیے خطرناک ہے، قوم کی فکر نھیں، ذرا اپنی ہی نسل کی فکر کرلیجیے!کیوں کہ ملت کی رہنمائی آپ کے بس میں ہے بھی نھیں۔آپ پر ملت کا اعتماد متزلزل ہوچکاہے، اور پوری طرح اعتمادکی یہ عمارت گر پڑے گی تو آپ کی نسل کا دھندا اور چندہ کیسے چلے گا؟جب ملت ہی نھیں ہوگی توآپ کی نسل مفکر ملت، امیرشریعت، امیر الھند، امیرجماعت، صدرجمیعۃ،صدروجنرل سکریٹری کس کی بنے گی،خوب سوچ لیجیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button