محمد مصطفی علی سروری
واجد حسین کی عمر 37 برس ہے۔ لاکھوں ہندوستانیوں کی طرح وہ بھی روزگار کی تلاش میں دوبئی گیا تھا جہاں پر اس کو بطور سیکوریٹی گارڈ نوکری مل گئی۔ کافی عرصہ دوبئی میں نوکری کرنے کے بعد واجد دسمبر 2021ء میں اپنے وطن ہندوستان واپس لوٹ گیا۔
قارئین کرام یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ ہزاروں، لاکھوں ہندوستانی بیرونِ ملک ملازمت کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد یا طویل عرصے بعد وطن بھی واپس لوٹتے ہیں۔ لیکن واجد حسین کی کہانی سب سے الگ اور مختلف ہے۔
آسام کے ضلع شیوساگر کا رہنے والا واجد جب اپنے گائوں واپس لوٹتا ہے تو بظاہر سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور معمول کے مطابق تھا لیکن 11؍ دسمبر 2021 کی رات آدھی سے زیادہ گزرچکی تھی اور گھڑیوں میں صبح کے 4 بجے کا وقت ہوچکا تھا۔
واجد حسین کے گائوں میں بھاری تعداد میں پولیس داخل ہوچکی تھی اور پھر آہستہ آہستہ پولیس نے واجد حسین کے گھر پر دھاوا بولا اور نیند سے جگاکر واجد کو اپنی حراست میں لے لیا۔آخر واجد حسین نے ایسا کیا جرم کیا تھا کہ آسام کی پولیس اتنی رات دیر گئے اس کے گھر پہنچتی ہے اور پھر اس کو حراست میں لے لیتی ہے۔
آسام وہ ریاست جہاں پر بی جے پی کی حکومت ہے۔ ایسے میں عام لوگوں اور خاص کر مسلمانوں کے دلو ں میں طرح طرح کے خدشات جنم لے رہے تھے کہ کیا بیرون ملک جاکر نوکری کرنا بھی اب جرم بن گیا اور سب لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر واجد حسین کا جرم کیا تھا جس کی وجہ سے اس کو گرفتار کرلیا گیا۔
11؍ دسمبر 2021ء کو صبح 9 بج کر 37 منٹ پر ہیمنت بسوا شرما جو کہ آسام کے چیف منسٹر ہیں ایک ٹویٹ کر کے واجد حسین کی گرفتاری کی اطلاع سوشیل میڈیا کے ذریعہ شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتلایا کہ آسام پولیس نے دوبئی پولیس کے ذریعہ ملنے والی اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے واجد حسین کو دوبئی سے افسانوی فٹبال کھلاڑی میرا ڈونا کی تاریخی دستی گھڑی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے شیو ساگر ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راکیش روشن نے بتلایا کہ واجد سال 2016ء سے میرا ڈونا کے اس گھر میں سیکوریٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہا تھا جو دوبئی میں واقع ہے۔ واجد تین دن پہلے ہی ہندوستان واپس آیا تھا۔
دوبئی پولیس نے حکومت ہند کی ایجنسی کو اطلاع دی کہ میرا ڈونا کی دوبئی کے گھر میں چوری کی واردات پیش آئی ہے اور چوری کا مبینہ ملزم واجد حسین ہے جو کہ ابھی اپنے وطن واپس لوٹا ہے ۔ اس طرح سے آسام پولیس نے مرکزی ایجنسی کی اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے واجد کو اس کے گھر سے گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے افسانوی فٹبال کھلاڑی میرا ڈونا کی دستی گھڑی کو برآمد کرلیا ہے۔ (بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس۔ 12؍ دسمبر 2021)
قارئین کرام واجد حسین کی گرفتاری کی خبر سب سے پہلے آسام کے چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما نے دی اور ان کی اس ٹویٹ کو تقریباً دیڑھ ہزار لوگوں نے ری ٹویٹ کیا اور تقریباً 7 ہزار لوگوں نے لائک کیا۔
اب سب سے اہم سوال کیا سوشیل میڈیا پر جو کچھ لکھا جارہا ہے اس کو نظر انداز کردینا چاہیے یا اس پر نظر رکھی جانی چاہیے۔
نکھل پٹیل ایک ٹویٹر صارف ہیں جو سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم سے بھگوت گیتا کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ آسام کی ٹویٹ کے جواب میں وہ تبصرہ کرتے ہیں کہ
’’مجھے یہ نہیں پتہ چلتا کہ آدھے سے زیادہ کرمنلس امن پسند کمیونٹی سے کیوں تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
نکھل کی اس ٹویٹ کو مزید سینکڑوں لوگ پسند کرتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ قارئین اب اہم سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان چوری کے الزام میں پکڑ جاتا ہے تو کیا اس پر بھی مسلمانوں کو بحیثیت قوم فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سوال کا جواب میری دانست میں ہاں ہے۔ کیونکہ مسلمان اس ملک میں انفرادی طور پر بھی چاہے کچھ کرے دوسروں کے لیے وہ پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوم جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ طعنہ کہ مسلمان امن پسند کمیونٹی کہلوانا پسند کرتے ہیں اور اس کمیونٹی کے لوگ اس طرح کی جرائم کی وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں یہ صورت حال بڑی سنگین شکل اختیار کر جاتی ہے۔ جب دین اسلام کی مثبت تصویر پیش کرنے دین اسلام کی حقیقی اور امن پسندانہ تعلیمات عام کرنے کے لیے افراد، انجمنیں مسلسل سرگرم عمل ہیں، لوگوں سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔
قرآن مجید کے نسخے تقسیم کرنے کا عمل جاری ہے۔ دعوتی لٹریچر بانٹا جارہا ہے لیکن دنیا بھر میں ہونے والے ایک چھوٹا سا واقعہ بھی دشمنانِ اسلام کے لیے تنقید کرنے اور طعنہ زنی کے دروازے کھول دینے کے لیے کافی ہے۔
ہم مسلمان بحیثیت سرپرست فکرمند والدین کیا کرسکتے ہیں۔ ذرا سونچئے۔
14؍ دسمبر 2021ء کو شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقے مادھو پور کی پولیس نے 20 سالہ محمد طاہر نام کے ایک کار میکانیک کو اپنے ہی سرویس سنٹر سے 55 لاکھ روپئے چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
قارئین چوری کے یوں تو بہت سارے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں کیا ان پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہاں ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر 14؍ دسمبر کے واقعہ کی ہی خبر کو لے لیجئے گا۔
اخبار دی ٹائمز آف انڈیا نے 15؍ دسمبر 2021ء کو اس حوالے سے خبر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کار میکانک محمد طاہر تو لاکھوں کی چوری کے الزام میں پکڑا ہی گیا لیکن پولیس نے ملزم سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے مزید دو نوجوانوں کے نام بتلادیئے جس کے بعد پولیس نے 19 سال کی عمر کے دو مزید نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔
ان دونوں مسلمان ملزمان پر الزام ہے کہ ان لوگوں نے محمد طاہر کو اپنے ورکشاپ سے چوری کرنے کے دوران ورکشاپ کے باہر کھڑے ہوکر نگرانی کرتے ہوئے مدد کی۔
اب سب سے تشویش کی بات تو یہ ہے کہ محمد طاہر نے تو تعلیم ترک کردی اور کار میکانک بن گیا لیکن جو دو نوجوانوں کو محمد طاہر کی مدد کرنے کے الزام میں پکڑے گئے وہ دونوں طالب علم ہیں۔ اب ان دونوں پر بھی مقدمہ چلے گا اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
والدین اپنے بچوں کو اسکول و کالج میں داخلہ دلواکر اطمینان کرلیتے ہیں کہ ان کا بچہ تو اسٹوڈنٹ ہے لیکن ان کے بچے کو اگر صحیح صحبت اور صحیح دوست نہیں ملتے تو یہ اسکول اور کالج کے بچے بھی جرائم کی دنیا بھی میں قدم رکھ سکتے ہیں۔
صرف چوری کے واقعات ہی نہیں بلکہ قتل و غارت گیری کے واقعات میں بھی مسلمانوں کی بڑھتی تعداد فکر مند مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔
شہر حیدرآباد کے راجندر نگر علاقے میں 9؍ دسمبر 2021ء کی رات پیش آئے دل دہلادینے والے قتل کے واقعہ کا بھی ریاستی اور قومی میڈیا میںخوب کوکوریج رہا۔ تفصیلات کے مطابق پٹرول پمپ پر کام کرنے والے ایک مسلم شخص نے رات دیر گئے نشے کی حالت میں گھر پہنچ کر بیوی سے جھگڑا کیا اور پھر اپنی بیوی کا قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر کے اس کو ایک تھیلی میں رکھ کر خود ہی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اپنے قتل کا خود اعتراف کرلیا۔
14 برس قبل ہونے والی اس شادی سے اس شخص کو 3 بچے ہیں اور متوفی کی بہن کے مطابق متوفی خاتون ایک دینی مدرسہ کی فارغ التحصیل تھی اور شوہر کی شراب نوشی کی عادت سے تنگ آچکی تھی۔ وہ تو اپنے شوہر سے علیحدگی کی خواہش مند تھی لیکن گھر اور خاندان کے بزرگ افراد کی مداخلت اور مصالحت کے بعد دونوں میاں بیوی ایک مرتبہ پھر سے ساتھ رہنے لگے تھے۔ لیکن میاں کا رویہ بدستور خراب رہا اور پھر جمعرات کی رات اس نے اپنی بیوی کا گلہ کاٹ کر اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
لڑکیوں کو دینی تعلیم دلوا دینا بھی ان کی زندگی کو بہتر اور پرسکون بنانے میں کوئی مددگار ثابت نہیں ہوسکتا جب تک دین کی تعلیم بلا کسی امتیاز کے مسلمان اپنے لڑکوں کو بھی نہ دیں ۔
انفرادی طور پر ہر مسلمان اپنے بچوں اور متعلقین کی تربیت کے لیے ذمہ دار ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم سب اگر اس حوالے سے فکر کریں تو صالح معاشرے کے حصول کی منزل آسان ہوسکتی ہے۔
صالح اور امن پسند معاشرہ کیسے ہوتا ہے؟
NHK جاپان کا قومی نشریاتی ادارہ ہے۔ اس برس اگست 2021 کے دوران جاپان کے نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ نشر کی جس کے مطابق ٹوکیو کے زیر زمین ریلوے اسٹیشنوں کی تعداد 179 ہے جہاں پر ہر روز اوسطاً 2 ہزار اشیاء گم ہوجاتی ہیں۔ اگر ہم سال بھر کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو یہ 7,30,000 سات لاکھ 30 ہزار چیزیں ہوجاتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ ٹوکیو کے زیر زمین ریلوے اسٹیشنوں پر گم ہوجانے والی روز کی 2 ہزار اشیاء واپس ان کے اصل مالکان کو مل جاتی ہیں کیونکہ جب کسی مسافر کو کسی دوسرے کا بھولا ہوا یا چھوڑا ہوا اسامان، ٹفن ہو یا چھتری، چابی ہو یا کان کی بالی ملتا ہے تو وہ ویلوے اسٹیشن کے کائونٹر پر جمع کروا دیتے ہیں جہاں سے ان 2ہزار گم شدہ چیزوں کو ان کے اصل مالکان حاصل کرلیتے ہیں۔
یوں مہینے بھر میں 60 ہزار گمشدہ سامان اور سال بھر میں 7 لاکھ 30 ہزار گم شدہ اشیاء ان کے اصل مالکان کو پہنچا دی جاتی ہیں۔
قارئین کرام جاپانی معاشرے میں مسلمان تو برائے نام ہے مگر اس معاشرے میں ایمانداری، امانت داری عام ہے۔ مذہب اسلام کی اصل تعلیمات کو ایمانداری، امانت داری سے بھری پڑی ہیں لیکن دنیا دین اسلام کی ان تعلیمات کو تقاریر میں سنتی ہے اور کتابوں میں پڑھتی ہے۔ انہیں اپنے اطراف و اکناف کی دنیا میں مسلمان ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے میڈیا مسلمانوں کو پیش کرتا ہے۔
آخر میں اللہ رب العزت دعا ہے کہ وہ ہمیں دین اسلام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کے ذریعہ عملی نظائر پیش کرنے والا بنادے تاکہ ہم روزِ محشر کی رسوائی سے محفوظ رہ سکیں۔



