نئی دہلی،8اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک عدالت نے پیر کو آئی ایس آئی ایس کے ایک مبینہ سرگرم رکن محسن احمد کو 16 اگست تک این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اس سے پہلے آج محسن کو یہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے احاطے میں واقع این آئی اے عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ محسن کو ہفتہ کے روز دہلی میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم کے لیے ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک ہمدردوں سے فنڈز اکٹھا کرنے اور اسے کرپٹو کرنسی کی شکل میں شام اور دیگر مقامات پر بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
محسن کو این آئی اے نے اس کی موجودہ رہائش گاہ جاپانی گلی،جوگا بائی ایکسٹینشن، بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی سے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ اسے آئی ایس آئی ایس کی آن لائن اور مبینہ زمینی سرگرمیوں سے متعلق ایک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے اس سال 25 جون کو از خود نوٹس لیتے ہوئے کیس درج کیا تھا۔این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ محسن آئی ایس آئی ایس کا فعال رکن ہے۔ اسے ہندوستان اور بیرون ملک ہمدردوں سے آئی ایس آئی ایس کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
وہ کرپٹو کرنسی کو دوسری جگہوں پر بھیج رہا تھا، اور اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔خیال رہے کہ اس سال جولائی میں این آئی اے نے آئی ایس آئی ایس سے متعلق سرگرمیوں کے سلسلے میں چھ ریاستوں میں مشتبہ افراد کے 13 ٹھکانوں کی تلاشی لی۔ چھ ریاستوں بشمول مدھیہ پردیش، گجرات، بہار، کرناٹک، مہاراشٹرا اور اتر پردیش میں چھاپے مارے گئے۔ایجنسی نے مدھیہ پردیش کے بھوپال اور رائے سن اضلاع، گجرات کے بھروچ، سورت، نوساری اور احمد آباد اضلاع، بہار کے ارریہ اضلاع، کرناٹک کے بھٹکل اور ٹمکور شہر کے اضلاع، مہاراشٹر کے کولہاپور اور ناندیڑ اضلاع اور اتر پردیش کے دیوبند ضلع میں چھاپے مارے گئے ہیں۔



