قومی خبریں

جے ڈی یو بی جے پی کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کے دوران نئی صف بندی کی آ ہٹ

بہار:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ ( Janata Dal United) اور بی جے پی کا اتحاد ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔ ذرائع کے مطابق جے ڈی یو جلد ہی بی جے پی سے علیحدگی کا اعلان کر سکتی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ جے ڈی یو، آر جے ڈی، بایاں محاذ اور کانگریس کے ساتھ متبادل حکومت بنانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔دراصل، پارٹی کے زیادہ تر ارکان اسمبلی وسط مدتی انتخابات نہیں چاہتے۔ اس لیے حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں سے بات چیت جاری ہے۔ جے ڈی یو کا الزام ہے کہ بی جے پی ان کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے اور آر سی پی سنگھ کے ذریعے جے ڈی یو کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا، گزشتہ شام ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ تارکیشور پرساد، وزیر صحت منگل پانڈے اور بہار یونٹ کے صدر ڈاکٹر سنجے جیسوال کی قیادت میں بی جے پی کے ایک وفد نے سینئر کابینہ وزیر اور نتیش کمار کے قریبی ساتھی وجے کمار چودھری سے ملاقات کی۔ تب سے یہ چرچا ہے کہ تارکیشور نتیش سے ملیں گے اور یہ ملاقات آج ہو سکتی ہے۔ ملاقات میں ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔ وہیں دوسری طرف کانگریس نے بھی پٹنہ میں اپنے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔اگرچہ کل جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے اپنی اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اب ان دونوں پارٹیوں کا اتحاد خطرے میں نظر آ رہا ہے۔خیال رہے کہ بہار اسمبلی الیکشن 2020 میں 243 سیٹوں میں سے این ڈی اے کو 125 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

اس میں سے نتیش کی پارٹی جے ڈی یو نے 43 سیٹیں، جبکہ بی جے پی نے 74 سیٹیں جیتی تھیں۔ جے ڈی یو کے کم سیٹیں جیتنے کے باوجود بی جے پی نے نتیش کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ابھی بی جے پی کے پاس محض77سیٹیں ہیں جبکہ آر جے ڈی کے 79، جے ڈی یو کے 45، سی پی آئی ایم ایل کے 14، کانگریس کے 19اور ہم کے 4کے علاوہ ایک آزاد رکن اسمبلی اور مجلس کے ایک رکن کی حمایت سیکولر حکومت کو مل سکتی ہے اس طرح نتیش کمار کو 145ارکان حمایت کرسکتے ہیں۔سیاسی ہلچل کے درمیان للن سنگھ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پہنچے اور نتیش کمار سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔ سیاسی قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ نتیش کمار کی پارٹی (جے ڈی یو) بی جے پی سے اتحاد توڑ کر ایک بار پھر آر جے ڈی سے ہاتھ ملا سکتی ہے۔ بہار میں سیاسی ہنگامہ آرائی پر بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر سنجے جیسوال کا کہنا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، پارٹیاں میٹنگ کرتی رہتی ہیں۔حالانکہ پردیش بی جے پی کے صدر سنجے جیسوال نے آج خفیہ طور پر بی جے پی کے لیڈران کے ساتھ میٹنگ کی۔ بی جے پی کے تمام وزرا امت شاہ اور جے پی نڈا سے ملاقات کرنے کیلئے دہلی پہونچ گئے ہیں آج نتیش کمار نے کابینہ کی میٹنگ کی جس میں بی جے پی کے تمام وزراغیر حاضر رہے جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے کل اپنے ارکان اسمبلی کونسل اور پارلیمنٹ کے ساتھ وزیراعلی کی رہائش گاہ اور رابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر میٹنگ بلائی گئی ہے۔

دریں اثنا سیاسی ہلچل کے درمیان بہار میں جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے قومی صدر لالو پرساد یادو کو پارٹی سے متعلق تمام معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے شکتی سنگھ یادو نے پیر کو یہاں کہا کہ اب قومی صدر یادو کو آر جے ڈی سے متعلق ہر معاملے پر فیصلہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آر جے ڈی کامریڈ میڈیا میں پارٹی لائن سے مختلف رائے رکھتا ہے تو اسے ان کی ذاتی رائے سمجھی جائے گی نہ کہ پارٹی کی۔دریں اثنا، آر جے ڈی ذرائع کے مطابق، اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے پارٹی کے تمام ترجمانوں کو فوری اثر سے ہٹا دیا ہے۔

اب آر جے ڈی میں نئے ترجمان کی فہرست جلد تیار کی جائے گی۔ آ ر جے ڈی میں صرف اپوزیشن لیڈر مسٹر یادو اور ریاستی صدر جگدانند سنگھ ہی کچھ بیان دیں گے۔ پارٹی کے نئے ترجمانوں کی فہرست اب 11 اکتوبر تک جاری کی جائے گی۔بہار میں سیاسی سونامی کے درمیان آر جے ڈی کا یہ فیصلہ بہت خاص مانا جا رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے درمیان بڑھتی قربت کی بات بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جلد ہی قومی جمہوری اتحاد چھوڑنے کو لے کر بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button