سیاسی و مذہبی مضامین

تحریک خلافت عثمانیہ,وقت میں چھپے زاویے،اور بھارت

وقت کیا شے ہیں کتنے زاویہ اس میں پنہاں ہیں اللہ نے ہر شے کی تخلیق ایک وقت مقررہ تک کے لئے کی ہے، ہر شے وقت کی زد میں ہیں، نیز ہر شے اپنے سفر پر وقت کے ہمراہ گامزن ہے زندگی موت کے ساتھ اپنے سفر پر ہے، بظاہر وقت کو جاننا اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انتہائی مشکل ہے، جدید سائنس وقت کیا شے ہے کس بلا کا نام ہے دریافت نہ کرسکی، ان سب سے جدا قران اپنے حاکمانہ انداز سے وقت کو علیحدہ علیحدہ زاویوں میں پیش کرتا ہے، وقت اللہ کی تخلیق کا ایک عنصروجز ہےوقت اللہ پر مسلط نہیں بلکہ کہ اللہ کی تخلیق میں ایک ادنیٰ سی کاریگری ہے،

وقت کی مضبوط گرفت سے کوئی شے مبرا نہیں۔ اللہ قران کریم میں فرماتے ہیں، سورہ بقرہ آیت نمبر۲۵۹؍ آیت کا ترجمہ و مفہوم ہے ” اسی طرح اس شخص کو نہیں دیکھا جو گزرا ایک گاؤں پر سے اس حالت میں کے اس کے مکانات الٹے زمین پر گرے پڑے تھے۔

اس شخص نے کہا اللہ اس پستی کے باشندوں کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کریگا، اللہ نے اس شخص کی روح قبض کر لی سو برس تک اس شخص کو مردہ رکھا پھر اس کو دوبارہ زندہ کیا، اور اس شخص سے پوچھا تم کتنے عرصہ مردہ رہے ہو اس شخص نے کہا شاید ایک دن یا اس بھی کم اللہ نے کہا نہیں تم سو برس تک مردہ پڑھے رہے پھر اس شخص سے کہا اپنے کھانے کی اور پینے کی چیزوں کو دیکھو جو بلکل سڑی نہیں تھی، پھر اللہ نے اس شخص سے کہا اپنے گدھے کو بھی دیکھو جو مرا پڑا ہے ڈھانچے کی شکل میں، مثل اس کی یہ ہے کہ ہم تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں بتائیں، تانکہ لوگ عبرت پکڑیں اور گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھوں کہ ہم کیسے پیدا کرتے ہیں، اور گوشت پوست ان پر چڑھا دیتے ہیں، پھر جب مشاہدہ ہوا اور اس ظاہر ہوا تو وہ شخص بول اٹھا میں یقین کرتا ہوں اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

” قران کریم کی مذکورہ بالا آیت وقت میں چھپے متعد پہلو نیز وقت کے زاویوں کو خوبصورت انداز میں پیش کرتی ہے، سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۵۹؍میں حضرت دانیال کا ذکر ہے آپ کا گزر ایک بستی پر سے ہوا جس کو اللہ نے الٹ دیا تھا اس بستی کے مکانات سرے سے اوندھے کردیے گئے تھے، پس اسی اثناء حضرت دانیال کے دل سے خیال گزرا کہ اللہ کس طرح اس بستی کے مردہ لوگوں کو دوبارہ زندہ کریگا، اللہ نے حضرت دانیال کی روح قبض کر لی آپ کے ہمراہ آپ کا ایک گدھا بھی تھا نیز ساتھ کھانے کی اشیاء بھی تھی، بہر کیف اللہ نے حضرت دانیال کو دوبارہ زندہ کیا اور کہا دانیال تم کتنے عرصہ سو رہے حضرت دانیال نے جواب دیا ایک دن یا اس سے کم پھر اللہ نے ان سے فرمایا ذرا اپنے گدھے کی طرف دیکھ جو محض ہڈیوں کے ڈھانچے کی شکل میں مرا پڑا تھا،

پھر کہا اپنے کھانے کو دیکھ کھانہ بلکل تازہ و گرم تھا، وقت میں چھپے متعد پہلو و زاویے اللہ نے اس آیت میں پیش کیے اللہ نے حضرت دانیال پر وقت ایک دن یا اس سے کم کا گذارا گدھے پر پورے سو سال گزار دیے نیز جو کھانہ حضرت دانیال اپنے ساتھ لیے ہوئے تھے اس کھانے پر اللہ نے وقت کو گزارا ہی نہیں، یہ پورا واقعہ ایک چھوٹی سی جگہ یا کسی کمرے میں وقوع پذیر ہوا۔

اللہ کے نزدیک وقت حقیر شے ہے جسے اللہ جس پر چاہے طویل کردے نیز جس پر چاہے موقوف کر دے۔ وقت کے زاویوں کو بیان کرتی اس انتہائی معتبر آیت کے پس منظر میں بھارت پر گزرتے وقت کا اندازہ یا پھر تجزیہ کیا جائے تو باہم اللہ کا تخلیق کردہ وقت کا فہم ہمیں اللہ کے قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے،

مسلم امہ حضرت دانیال کے مثل ہو کر رہ گئی، یہ برسوں سے سوئی ہوئی ہے،۱۹۲۴ء میں انگریزوں نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کردیا، تقریباً سو سال گزرنے کو ہے امہ سوئی ہوئی ہے، حضرت دانیال کے ساتھ آپ کا ایک گدھا بھی تھا، بھارت کی عوام اس گدھے کی مانند ہوچکی جسے فوت ہوئے دھاہیاں گزر چکی محض ہڈیاں ڈھانچے کی شکل میں موجود باقی رہ گئی، عوام کا گوشت پوست اتر چکا ہے، نہ عوام میں مزاحمت کرنے کی صلاحیت، نہ ہی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی استعداد باقی رہ گئی، مہنگائی کا آفتاب روشن ہے،

جس کی ذد میں عوام آکر جلھس گئ۔ سطح غربت کے نیچے رہنے والے کروڑوں کی تعداد میں عوام جو محض انسانی ڈھانچوں کی شکلوں میں زندہ تو ہے تاہم ان میں آرزوئیں، جوش و خروش کچھ کرنے کا عزم سب مردہ ہو چکا، عوام کو اس حالت پر لے جاکر مردہ کرنے میں سو سال کا عرصہ لگا، برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہوئے ۷۵؍ سال ہو چکے اس سے قبل ۲۵؍سال آزادی حاصل کرنے کی جدو جہد نے عوام پر برطانوی حکومت کے مظالم سہتے ہوئے گزارے حضرت دانیال کے ساتھ ان‌ کا کھانہ بھی تھا جو نہ سڑا تھا نہ خراب ہوا تھا، بلکہ اسی طرح تازہ و گرم تھا۔

بھارت کے وزیراعظم کی طرح جن پر وقت موقوف کر دیا گیا گزشتہ کم و بیش ٢٥ سالوں میں وزیراعلیٰ سے وزیراعظم تک کے اپنے اس سیاسی سفر میں وقت موصوف پر کافی مہربان رہا انہیں حضرت دانیال کے کھانے کی طرح نہ سڑنے دیا نہ گلنے دیا، بلکل تروتازہ رکھا اپنی ظالمانہ سوچ و تخریبی خوشبو اس کھانے سے بدستور جاری ہے، انتہائی دیدہ زیب حضرت رہتے ہیں، عوام کو حضرت دانیال کے کھانے کی شکل میں وزیراعظم کا نمایاں کردار نظر آرہا ہے، آپ پر وقت ہی کو موقوف کر دیا، مسلسل عیش و عشرت کا تاج سر پر رکھے وزیراعظم دنیا پوری کے شاہی مہمان بنے دنیا پوری کا کوئی ملک آپ نے چھوڑا نہیں جہاں آپ کے خارش زدہ قدم نہ پڑھے ہو، بھارت کے قیمتی اثاثوں کو فروخت کر عوام کی ہڈیوں پر سے گوشت پوست بھی یہ اتار چکے ہیں۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر۲۵۹؍ صرف سو سال کے عرصے کا ذکر کرتی ہے، خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوئے ٩٨ سال گزر چکے دو سال بعد ۲۰۲۴ء میں پورے سو سال ہونے کو ہے، بھارت میں ۲۰۲۴ء میں ہی عام انتخابات ہونگے، گر امہ جو گزشتہ سو سالوں سے خواب غفلت میں سوئی ہوئی ہے، بیدار نہ ہو پائی تو حالات مزید خرابی کو جاینگے، نظام رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ نے پسند فرمایا اس کا نفاذ امت کے ذمہ ہے گر خواب غفلت ٹوٹے تو یہ کام آسان ہیں۔وما عالینا الا البلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button