سیاسی و مذہبی مضامین

سیکولرازم کی زہر آلودہ بھگوا فضا-ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

گزشتہ دو ماہ سے بھارت کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا شور اختتام پذیر ہوا، اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور، گوا اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے نتیجے ظاہر ہوئے، وفاقی حکمران جماعت بی جے پی اپنے بھگوا پیراہن کے ساتھ چار ریاستوں میں فتحیاب ہوئی، پنجاب وہ واحد ریاست ہیں.

جس میں”آپ” جو کہ ایک سیاسی جماعت ہے نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی، اترپردیش میں کل اسمبلی کے ٤٠٣ نشستوں پر انتخابات ہوئے، اتراکھنڈ میں ٧٠ نشستوں پر، منی پور میں ٦٠ نشستوں پر، گوا میں ٤٠ نشتوں پر اور پنجاب میں ١١٧ نشستوں پر انتخابات کا انعقاد ہوا، اترپردیش میں سب سے زیادہ ٤٠٣ نشستیں ہے، تاہم باقی چار ریاستوں کی مجموعی تعداد ٢٨٧ بنتی ہیں، جو اکیلے اترپردیش ریاست سے حد درجہ کم ہے،

اس بناء پر سیاسی اعتبار سے اترپردیش ریاست انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اترپردیش میں کل ٤٠٣ نشستوں میں بی جے پی جماعت نے ٢٦٢ نشستوں پر کامیابی حاصل کی نیز جناب آدیتہ ناتھ یوگی دوبارہ سے وزیراعلی بننا تقریباً طے ہے۔

بی جے پی کا مقابلہ اترپردیش میں سماج وادی جماعت کے ساتھ تھا تاہم بی جے پی نے سماج وادی جماعت کو شکست دے کر اکثریت حاصل کی، سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں اپنی ارتقاء پر پر تھی، جناب اکھلیش یادو اترپردیش کے وزیراعلی بنے جارہے ہیں۔

تاہم انتخابی نتائج نے اکھلیش یادو کو مایوس کر دیا، بہر کیف بی جے پی کے آدیتہ ناتھ یوگی ہندو مذہب کے پیروکار اور سماج وادی کے اکھلیش یادو بھی ہندو مذہب کے پیروکار مقابلہ ایک ہی مزاہب کے ماننے والے دو علحیدہ سیاسی جماعت میں تھا، بی جے پی اپنا طے شدہ ایجنڈا ہندوتوا کو لے کر متحرک تھی،

دوسری جانب اکھلیش یادو سیکولرازم کا مشکوک پرچم اپنے ہاتھوں میں لیے زورآزماں تھے، مزید اقلیتوں میں بلخصوص مسلمانوں نے اکھلیش یادو کا جی جان سے تعاون کیا یہ سوچ کر کہ ریاست میں دوبارہ سے اکھلیش یادو اپنا کرشماتی کردار کے ساتھ ریاست کو فلاح وبہبود کی سمت لے جاینگے، اکھلیش یادو کی کشتی کو سہارا مسلمانوں نے خوب دیا تاہم ان کے اپنے طبقے سے تعلق رکھنے والے جاٹ ، یادو، پنڈت وغیرہ وغیرہ نے اکھلیش یادو کی کشتی میں سوراخ کر دیا مزید اسے ڈوبا کر رکھ دیا۔

ملک میں اب اکثریتی طبقہ ذہنی طور پر اس کیفیت کو اختیار کرچکا جو آر ایس ایس کا نصب العین ہے” ہندؤں کا ہندوستان” سیکولرازم کو اکثریتی طبقہ کب کا اپنے ذہنوں سے نکال چکا، نتیجہ ملک کی چار ریاستوں میں اکثریتی طبقہ نے ہندوتوا کو پسند فرمایا لہٰذا ہندوتوا کے ایجنڈوں پر گامزن بی جے پی کو منتخب کر کے سیکولرازم کے پیروکار و سیکولر نظریات کا قلعہ قمع کردیا، نیز ہندوتوا نظریات کے حامل اب اقتدار میں آ چکے۔

پنجاب وہ واحد ریاست ہیں جو ہندوتوا نظریات کی زد میں آنے سے باظاہر تو بچی نظر آتی ہے، تاہم ” آپ” سیاسی جماعت کے بانی جناب اروند کیجریوال بھی آر ایس ایس کے پیروکار ہیں صرف پیراہن دیگر ہے تانکہ کسی نہ کسی طرح آر ایس ایس کانگریس کو اقتدار سے دور رکھے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اترپردیش میں کانگریس اپنا جنازہ اٹھا چکی ہے۔

نیز ملک کی باقی ریاستوں میں بھی کانگریس کا حشر وہی ہو رہا ہے جو اترپردیش میں ہوا ہیں، بہر کیف بھارت کا اقلیت طبقہ اب بھی خام خیالی میں مبتلا ہیں نیز اپنے حق رائے دہی کو یونہی ہی ضائع کر رہا ہے، عنقریب یہ حق رائے دہی بھی اب ان سے چھین لیا جائے گا، باطل نظام کے شیدائی اقلیت طبقہ یہ آج تک نہ سمجھ سکا کہ دنیا کا سب سے بہترین طرز نظام محمد مصطفیٰ” نے قائم کر دیا تھا، جو امہ کی وراثت ہیں۔

ملک کی کروڑوں مساجد میں دوران خطاب نظام محمد مصطفیٰ کا ذکر تک نہیں لیا جاتاہے، صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ پر اسلام کو محدود کردیا گیا اس بہترین نظام محمد مصطفیٰ کو نافذ کرنے کے خیالات کسی امتی کے ذہن سے نہیں گذرتے، باطل نظام ہمیں بہت رسوا کر چکا، مسجدیں مسمار ہوئی، سیکڑوں فسادات میں لاکھوں قیمتی جانیں شہید ہو چکی۔

ہم اب بھی امان اکھلیش یادو میں ، کیجریوال میں، راہل گاندھی میں ڈھونڈ کر رہے ہیں جنہیں ہندوتوا کی لہر نے نست ونابود کر کے رکھ دیا ہے۔ بہر کیف دوران انتخابات ریاست کرناٹک میں خواتین کے حجاب کو معاشرے میں برداشت نہیں کیا جاسکتا اسی کو جواز بنا کر تخریبی عناصر نے اسکول و کالج میں احتجاج کیے، جس میں ایک خاتون مسکان نے انتہائی دلیری سے پر ہجوم تشدد پر آمدہ تخریبی عناصر کا ڈنٹ کر مقابلہ کیا۔

یہ سیاسی چال اکثریتی طبقہ کو یکجا کرنے کے لئے ہندوتوا نظریات کے حامل کارکنان ‌نے چلی تھی، مسکان کی دلیری سے اسے عالم اسلام میں خوب پزیرائی ملی، اس سانحہ کے بعد ملک کے کہی ریاستوں کے شہروں میں بلخصوص مالیگاؤں، احمدآباد میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم خواتین برقع پہن کر سڑکوں پر جلوس کی شکل میں نمودار ہوئی، مسلم پردہ نشین خواتین کا سیلاب ایک جم غفیرجلوس کی شکل میں لوگوں نے دیکھا۔

 جس کا اثر ان پانچ انتخابی ریاستوں کے اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ذہنوں پر مرتب ہوا، نتیجہ سیکولرازم کی فضاء کو بھگوا زہر نے آلودہ کردیا۔

حماقتیں ہماری عروج پر ہے، فہم و ادراک شادوناد کہیں  نظر آتا ہے، سیکولرازم اب بھارت میں اپنے آخری ایام پورے کر رہا ہے اس سیکولرازم میں مخفی نارنگی رنگ نمایاں نظر آنے لگا ہے، ملک میں ہندوتوا کے اعزام پر گامزن آر ایس ایس کے کروڑں کارکن ہندؤں کی ذہن سازی کرنے میں کامیاب ہو چکے ہے۔

تاہم ان کا جھوٹا چہرہ سیکولرازم کا ہے، اگلے چند سالوں میں ملک کا آئن بھی فارغ کر دیا جائے گا، ایک نیا آئن جلوۂ گر ہوگا جس میں اقلیت بلخصوص مسلمانوں کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button