سیاسی و مذہبی مضامین

پریشانی ہندو یا مسلمان نہیں ہوتی-محمد مصطفی علی سروری

دہلی ہائی کورٹ میں ایک ماں عرضی داخل کرتی ہے اور بتلاتی ہے کہ اس کی نابالغہ لڑکی کی عمر 14 برس ہے اور وہ تقریباً 4 مہینے کی حاملہ ہے اور یہ حمل کسی کی زبردستی سے نہیں بلکہ ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ باہمی رضامندی کے ساتھ رکھے گئے تعلقات کے سبب ٹھہرا ہے۔ نابالغ لڑکی کی ماں کی جانب سے داخل کی گئی عرضی میں مزید بتلایا گیا کہ میری لڑکی اس حمل کو اس لیے برقرار نہیں رکھناچاہتی ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ایک بچے کی پرورش کے لیے تیار نہیں ہے اس لیے میری لڑکی کے حمل کو ساقط کروانے کی اجازت دی جائے۔

اتنا ہی نہیں اپنی بچی کے لیے Abortion کی مانگ کرتے ہوئے نابالغہ لڑکی کی ماں آگے عدالت سے اس بات کی بھی درخواست کرتی ہے کہ حمل ساقط کرنے کے اس سارے معاملے میں پولیس کو ہدایت دی جائے کہ وہ نابالغہ اور اس کے گھر والوں کی مکمل شناخت کو مخفی رکھے۔ عدالت کی ہدایت پر 14 سالہ نابالغہ لڑکی کا حمل آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس، نئی دہلی میں حمل ساقط کیا گیا اور ڈاکٹر کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں بھی لڑکی اور اس کے گھر والوں کی شناخت کو چھپانے کی ہدایت دی گئی۔

اخبار انڈین ایکسپریس کی 24؍ جنوری 2023ء کی اشاعت میں Identify of Minor seeking termination of pregnancy her family will not be disclosed in doc’s report: HC ask Delhi Govt. to issue circular اس سرخی کے تحت تفصیل سے خبر شائع کی گئی۔

قارئین کرام اپنی بیٹی کے حمل کو گرانے کی درخواست لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی اس خاتون کی سونچ اور منصوبہ بندی کا اندازہ لگائیں کہ وہ کہتی ہیں کہ اگر اس سارے معاملے میں لڑکی کا یا اس کے گھر والوں کا نام آجائے تو انہیں سماجی کلنک اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ 6؍ جنوری کو داخل کردہ درخواست میں خود ماں بتلاتی ہے کہ اس کی نابالغ لڑکی 15ہفتوں اور چار دن کی حاملہ ہے اور یہ حمل ایک نابالغ لڑکے ساتھ لڑکی کی رضامندی کے ساتھ رکھے گئے تعلقات کے سبب ٹھہرا ہے اور اب وہ چاہتی ہے کہ لڑکی کے حمل کو ضائع کرنے کی عدالت اجازت دے۔

عدالت میں درخواست دائر کرنے اور اپنے مقدمہ کو لڑنے کے لیے درکار اخراجات کون اٹھاسکتے ہیں۔ اس سے اس خاتون کے سماجی اور معاشی موقف کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انگریزی کے اخبار کی اس خبر کا حوالہ دینے کا مقصد قارئین اس بات کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے کہ آج کے دور میں 14برس کی عمر میں لڑکے لڑکیاں جنسی طور فعال ہو رہے ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر میں مزید اضافہ کیا جائے۔

حالانکہ شادی باضابطہ طور پر قانونی دستاویزات کو تیار کرتے ہوئے سر انجام دی جاتی ہے۔ لیکن حکومت اس کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے اور اس طرح سے با الفاظ دیگر شادی کے علاوہ لڑکے لڑکیوں کے تعلقات کو بڑھاوا دینے کے لیے کوشاں ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی سال 2021 کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک ہندوستان میں اس برس 4538 عصمت ریزی کے معاملات درج کیے گئے۔ اگر ہم ہر دن کا اوسط نکال لیں تو پتہ چلے گا کہ ہندوستان میں ہر روز 12 خواتین اپنے خلاف عصمت دری کی شکایت لے کر پولیس سے رجوع ہوتی ہیں۔

یہ کوئی خوش آئند پہلو اور اچھی بات تو نہیں ہے اور یہ تو وہ خواتین ہیں جو آگے بڑھ کر ہمت کا مظاہرہ کر کے اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کی باضابطہ پولیس میں شکایت درج کرواتی ہیں۔

کیا ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ مظلوم مسلمان خاتون ہیں کہ حکومت ان کی ہمدردی کے لیے یکے بعد دیگرے قانون پر قانون نافذ کرنا چاہتی ہے۔

23؍ جنوری 2023ء کو راجستھان کی بیکانیر پولیس نے چنداسر کے اسکول اسسٹنٹ جنور لعل اور اس کی بیوی کو اپنی ہی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ANI کی جانب سے جاری کردہ خبر کی تفصیلات کے مطابق جنورلعل راجستھان کے ایک اسکول کا اسسٹنٹ ہے اور اس نے دسمبر 2022 میں حکومت کو ایک حلف نامہ داخل کیا تھا کہ اس کی دو ہی اولادیں ہیں۔ حالانکہ جنور لعل کو تیسری اولاد کی شکل میں ایک لڑکی ہوئی تھی، لیکن جنور لعل نے اپنی 5 مہینے کی تیسری بیٹی کو گائوں کے قریب کنال میں بہادیا۔ عینی شاہدین کی شکایت پر پولیس نے معاملہ درج کر کے 5 ماہ کی بچی کی نعش کنال سے باہر نکال لی جو کہ فوت ہوچکی تھی۔ پولیس کے حوالے سے ANI نے بتلایا کہ جنور لعل اپنی سرکاری ملازمت کو مستقل کروانا چاہتا تھا۔ اس لیے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اس نے بیٹی کا قتل کرڈالا۔ پولیس نے ماں باپ کو گرفتار کر کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کردیا۔

مسلم خواتین کو مساویانہ موقف دلانا جن کا اعلان ہے وہ اس بات کو کیوں فراموش کردیتے ہیں کہ آج ملک میں مسلمانوں کے مقابل دیگر خواتین کو بے انتہاء مصائب، مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ان غیر مسلم خواتین کو درپیش مشکلات کا پتہ ان چند ایک خبروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ جو آئے دن میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

21؍ جنوری 2023 کو مہاراشٹرا کے شہر پونے سے ایک خبر اخبار انڈین ایکسپریس نے شائع کی جس کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ ایک 28 سالہ کمپیوٹر انجینئر خاتون کی شادی اپریل 2019ء میں انجام پاتی ہے لیکن شادی کے بعد اس پڑھی لکھی خاتون کے ساتھ بھی جسمانی اور ذہنی ہراسانی روا رکھی گئی۔ یہاں تک کہ اس خاتون کو ایک لڑکا تولد ہوا۔ اس کے لیے کالا جادو کروایا گیا جس کے دوران خاتون کو ایسا پائوڈر کھلایا گیا جو انسانی ہڈیوں سے بنایا گیا تھا۔ خاتون کی شکایت کے بعد پونے پولیس نے مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا اور شوہر کے بشمول سات سسرالی افراد کو گرفتار کرلیا۔

قومی کمیشن برائے خواتین نے نومبر 2022 کے دوران اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہلی کی جامع مسجد میں لڑکیوں کے داخلہ پر مبینہ طور پر امتناع عائد کردیا گیا تھا۔ لیکن یہی قومی کمیشن برائے خواتین اس وقت خاموشی اختیار کرلیتاہے جب 17؍ جنوری 2023 کو ایک پریس کانفرنس میں وینش پھوگٹ نامی خاتون ریسلر بلک بلک کر روتے ہوئے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خاتون ریسلرس کا ریسلرس کی تنظیم میں برسرکار مرد اہلکاروں کی جانب سے مسلسل استحصال کیا جارہا ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں ان خاتون ریسلرس نے دہلی کے جنتر منتر علاقے میں باضابطہ طور پر انصاف کے حصول کے لیے دھرنا شروع کیا ہے۔

قارئین دو ایک نہیں ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جو پول کھول دیتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا اور کس کو درپیش ہے اور کس کے نام اچھالے جارہے ہیں۔

دھنیش اور آمی سنگھوی کی دو بیٹیاں ہیں اور ان کی بڑی بیٹی دیوانشی سنگھوی جس کی عمر صرف 8 برس ہے نے اپنی دنیا کی ساری عیش و عشرت چھوڑ کر جین مذہب کی ایک نن بننے کا فیصلہ کرلیا۔
بی بی سی نیوز نے 24؍ جنوری 2023ء کو اس حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے۔ ’’ہیروں کے تاجر کی 8 سالہ بیٹی نے نن بننے کا فیصلہ کرلیا۔‘‘ اس سرخی کے تحت خبر میں بتلایا گیا کہ گذشتہ ہفتہ گجرات کے شہر سورت میں ’’دیکشا‘‘ کی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں اس آٹھ سالہ لڑکی نے اپنے سر کے بال منڈواکر اور سفید رنگ کی ساڑھی پہن کر شرکت کی۔ اب یہ 8 سالہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر جین راہبوں کے ساتھ ایک راہبہ کے طور پر رہ رہی ہے۔

ہندوستانی میڈیا اس جین راہبہ کے متعلق کیا لکھتا ہے ملاحظہ کریں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ دیوانشی کو شروع سے ہی مذہبی رجحان تھا۔ وہ نہ تو ٹیلی ویژن دیکھتی تھی اور نہ فلمیں دیکھا کرتی تھی۔ وہ مالس کو بھی نہیں جایا کرتی تھی اور نہ ہی ہوٹلوں میں کھاتی تھی۔ جین طبقہ کی اس کم عمر لڑکی کے حوالے سے کوریج ہوتا ہے، مباحثہ اور چیخ پکار نہیں کی جاتی۔

یہی نہیں پچھلے نومبر 2022 کے دوران ایسی خبریں بھی موصول ہوئی تھیں جس میں بتلایا گیا تھا کہ اڑیسہ کے دھینکنال ضلع میں ایک قبائل لڑکی کی شادی ایک کتے کے ساتھ انجام دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کسی بھی نو زائیدہ بچے میں اگر سب سے پہلے اوپر کا دانت نکل آئے تو یہ بدشگونی ہے اور اس بدشگونی کو دور کرنے کے لیے اس لڑکی کی شادی کتے کے ساتھ کرنا ضروری مانا جاتا ہے اور اڑیسہ کے قبائل میں بدشگونی کی اس رسم پر میڈیا کوریج تو کرتا ہے مگر اس سے آگے بڑھ کر کسی طرح کی لب کشائی نہیں کرتا ہے۔

یقینا ہمارے ملک ہندوستان میں خواتین اور لڑکیوں کو پیدائش سے لے کر زندگی کے ہر مرحلے پر مسائل، مشکلات اور امتیاز ہی نہیں بلکہ تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سارے مسائل کا کسی ایک مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

لیکن بھلا ہو میڈیا کی جانبداری اور مفادات کی اسیری کا، یہ مسلمانوں کے خلاف تو لب کھولتا ہے، چلاتا ہے ، آسمان سرپر اٹھالیتا ہے اور ہندوستانی لڑکیوں اور خواتین کے حقیقی مسائل پر آنکھیں موند لیتا ہے۔
کوئی بتلائے، پریشانی ہندو یا مسلمان نہیں ہوتی مسئلہ عورتوں کا ہو تو ان کو مذہب کی عینک سے نہیں انسانیت کے زاویہ سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button