سیاسی و مذہبی مضامین

لکشمی و گنیش دیوی، دیوتا کا بھارتی معیشت کو انتظار✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان

لکشمی دیوی اور گنیش دیوتا کی تصویر بھارت کرنسی نوٹ پر چسپاں کرنے سے ملک کی گرتی معیشت کو دیوی دیوتا کا آشیرواد ملے گا

طاقتور ملک کا معیار عالمی سطح پر اس ملک کی معیشت پر منحصر ہوتا ہے، دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر امریکہ عالمی سطح پر سب سے بڑا جنگی اعتبار سے طاقتور ترین ملک بن کر دنیا پوری میں اجاگر ہوا، جاپان پر اٹیمی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ نے کیا تھا تین لاکھ سے زائد افراد پل میں کرہ ارض کی عارضی حیات سے فارغ کردیے گئے، امریکی عامریت کو دنیا کے سارے ممالک تسلیم کر چکے تھے، جنگی سطح پر امریکہ کا موازنہ یا امریکہ کا مقابلہ کرنا نہ یورپ کے کسی ملک میں تھا، نہ ہی افریقہ کے کسی ملک میں باقی تھا نہ ہی ایشیائی ممالک کے ملکوں میں تھا، اسلامی ممالک کا تو ذکر ہی کیا، دوسری جانب روس اپنے خلائی منصوبوں میں امریکہ سے کافی آگے نکل چکا تھا، نیز رفتہ رفتہ روس اٹیمی ہتھیاروں کی تخلیق و ذخیرہ کرنے میں امریکہ کے قریب پہنچ رہا تھا،

امریکہ و روس کے مابین چار دھاہیوں پر مشتمل سرد جنگ چلتی رہی، دنیا پوری کے ممالک دو خیموں میں تقسیم ہو چکے تھے، کچھ کا جھکاؤ امریکہ کی طرف اور کچھ روس کی جانب اپنے آپ کا رخ کرچکے تھے، بھارت نے ابتداء سے ہی روس کے خیمہ کو مناسب سمجھا دفاعی سازوسامان کا بڑا ذخیرہ روس ہمیشہ سے بھارت کو فراہم کرتا رہا، دوسری جانب ہمارا ہمسایہ ملک پاکستان امریکی خیمہ میں رہنا پسند کرتا رہا، بھارت و پاکستان کے درمیان تین مختصر ترین نوعیت کی جنگیں ہوچکی،

جس میں پاکستان کو جنگی سازوسامان امریکہ نے فراہم کیا، اور بھارت کو روس نے ہتھیار دیے، چونکہ امریکہ معاشی لحاظ سے دنیا پر اجارہ داری قائم کرچکا تھا، اپنی کامیاب حکمت عملی کے تحت امریکہ نے روس کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، معاشی اعتبار سے روس کافی کمزور ہو چکا تھا، امریکی مقابلہ آرائی نے روس کو ہر سطح پر کمزور بنادیا، جس وقت روس کہی ریاستوں میں تقیسم ہوا اس وقت ہر روز کی طرح صبح کاروباری زندگی اپنی اسی رفتار سے روادوں تھی بغیر جنگ لڑیں روس منتشر ہوگیا، جدید اسلحہ کی صنعت و ذخیرہ اندوزی نے روس کو عوامی فلاح وبہبود کے کاموں سے مبرا کردیا تھا عوام خستہ حال ہوتی چلی گئی حکمران اسلحہ بناتے رہے نتیجہ روس تقسیم ہوگیا،

معیشت کے اس کھیل میں امریکہ نے سبقت حاصل کی، امریکہ واحد عالمی طاقت کے طور پر دنیا پوری کو اپنے تسلط میں لے چکا تھا، دنیا پوری کے دیگر ملکوں کی حثیت غلاموں کے طور پر باقی رہ گئی، امریکہ کی ہاں میں ہاں، امریکہ کی نہ میں نہ یہی حالت تقریباً دنیا پوری کے تمام ملکوں کی ہوچکی تھی، چند ممالک کو چھوڑ کر جس میں ایران ، شمالی کوریا، منتشر ہو نے کے بعد کا روس شامل ہیں،

یہ وہ ممالک ہے جو امریکہ کو کسی نہ کسی درجۂ میں مد مقابل کھڑے ہونے کی جرات کرتے رہے، تاہم ان‌ کی حثیت بھی تاش کے پتوں سے زیادہ نہیں، اسی اثناء جاپان و امریکہ کو پیچھے چھوڑتے چین نے‌ اقتصادی ترقی کرکے کے دنیا پوری کی توجہ اپنے جانب مندمل کی، انتہائی نفیس و بااخلاق طریقہ کار سے چین نے معاشی ترقی کی بلندیوں کو چھونا شروع کر دیا، یہ عین ممکن ہے چین ہر سطح و ہر اعتبار سے امریکہ سے بہت آگے نکل چکا ہے،

اس بات کا علم امریکہ خوب رکھتا ہے، امریکہ کی شروع سے یہی حکمت عملی رہی معاشی سطح پر ملکوں کو غربت زدہ رکھے، نیز انہیں تباہ و برباد کیا جائے، اس کے برخلاف چین نے اپنے ہمسائے ملکوں سے دوستانہ تعلقات قائم کئے انہیں اقتصادی طور پر مستحکم کیا، روس کو کمزور سمجھ کر بھارت نے بھی اپنا رخ وقت کے لحاظ سے امریکہ کی جانب کر دیا،

بھارت کی حکومت امریکہ نواز بن چکی، ورلڈ بنک، آئی ایم ایف جسے اداروں سے بڑی بڑی خطیر رقم بطور قرض لیتی رہی لحاظ مقروض بھارت خستہ حالی کی طرف بڑھ گیا، حکومت بڑے بڑے منصوبے قرضے لے کر پورا کرنے میں مصروف رہی گزشتہ آٹھ سالوں میں بھارت اقتصادی طور پر زبو حال ہو گیا، ۲۰۱۶ء میں نوٹ بندی کے احمقانہ فیصلے نے ملک کے اکثریتی آبادی کو غربت کی آگ میں جھونک دیا، لاکھوں افراد ملازمت سے محروم ہوگئے، صنعتوں و کارخانوں میں ٹالے لگ گئے، انتہائی تشویشناک صورتحال بھارت کی عوام پر گزرتی چلی گئیں یہ سلسلہ اب بھی اسی طرح روادوں ہے، چند بڑے بڑے صنعتی ادارے ملک کی بیشتر دولت پر قابض ہیں، ایک سو پینتیس کروڑ کی آبادی میں ستر فیصد سے زائد افراد سطح غربت پر زندگی جینے کا سلیقہ سیکھ چکےہے، دولت ملک کے امیروں کو راحت زندگی فراہم کرتی ہوی غریبوں کو شرمسار کرتی نظر آتی ہے،

سیکولر بھارت کے حکومت سازی میں ملوث ہندوتوا کے پیروکار ہر روز جملے بازی میں مہارت رکھتے ہیں، ملک کے وزیراعظم نے کہا ہر ایک شہری کے بنک کھاتہ میں پندرہ لاکھ یونہی مفت میں آجائے گے، یہ جملہ کہ کر موصوف نے غریبوں کو پرامید کردیا، ہندومذہب کے پیروکاروں میں یہ تصور نیز تسلیم کیا جاتا ہے گر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوئیں تو اسے ” لکشمی” کہ کر مخاطب کیا جاتاہے، نیز گن پتی کو گنیش دیوتا سے مخاطب کیا جاتاہے،

دہلی کے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ دنوں ایک بیان جاری کیا، نیز وفاقی حکومت سے مطالبہ و اپیل کی کہ بھارت میں جاری نوٹ کرنسی پر گاندھی جی کی تصویر کے ساتھ لکشمی دیوی نیز گنیش دیوتا کی تصویر کو بھی جاری کیا جاے، موصوف نے اس کی وجہ نہایت عمدہ دی کہاں لکشمی دیوی اور گنیش دیوتا کی تصویر بھارت کرنسی نوٹ پر چسپاں کرنے سے ملک کی گرتی معیشت کو دیوی دیوتا کا آشیرواد ملے گا پس ملک ترقی کو جاے گا، حضرت سیکولر حکمران ہے نیز ہندوتوا پر گامزن ہیں،

انہیں یہ علم ہی نہیں کہ بھارت جسے کثیر تعداد آبادی والے ملک کی وزیر خزانہ ایک خاتون ہی ہے جنہیں پیدا ہوتے ہی ” لکشمی ” کہاں جاتا ہے۔ بہر کیف کاغذی کرنسی ازخود کوئی قیمت نہیں رکھتی، حکمران جب چاہے اسے منسوخ کرسکتے ہیں، اس کے برعکس اللہ قران میں سونے و چاندی کے سکے دینار و درہم کو معیشت میں استعمال کرنے کا حکم دیتاہے، محض کاغذ پر دیوی دیوتاؤں کی تصویریں چسپاں کرنے سے اقتصادی ترقی کے خواب کیسے پورے ہونگے، دنیا میں کسی ملک کی کوئی کاغذی کرنسی پر کسی دیوتاؤں کی تصویر چسپاں کرنا، اس دیوتا کو اس کے معیار سے مطابقت رکھتا نہیں تصور کیا جاتا، بڑے معیشت کو حاصل کرچکے ملکوں میں شمار امریکہ چین، برطانیہ، جرمنی، روس، فرانس، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں تاہم ان ملکوں کی کاغزی کرنسی نوٹ پر کوئی ہندوستانی نصب کا دیوتا یا دیوی کی تصویر چسپاں نہیں ہے،

تاہم یہ ممالک بڑی معیشت بن گئے، موصوف نے انڈونیشیا کے کاغذی کرنسی نوٹ پر گنیش کی تصویر کا ذکر کیا،۱۹۸۲ء میں بھارت نے ایشیائی کھیلوں کا انعقاد کیا تھا اس وقت جو تصویر حکومت نےجاری کی تھی وہ ہاتھی کی تھی اسے” اپو” نام دیا گیا تھا، یہ وہی اپو ہے جو انڈونیشیا کی کاغذی نوٹ پر چسپاں ہے جسے گنیش دیوتا کہ کر مخاطب ہونا دراصل گنیش دیوتا کو چھوٹا تصور کرنا ہے۔وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button