
ہدایت اللہ خان
رانچی ۔ جھارکھنڈ کے رانچی میں ۱۰؍جون ۲۰۲۲ء بروز جمعہ جناب حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف جے ایم ایم کے مرکزی رکن اور اقلیتی مورچہ کے سربراہ ہدایت اللہ خان نے یہاں جاری ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ مسلما نوں کے پر امن احتجاج کو ایک سازش کے تحت ہنگامے میں بدلنے کی کوشش ہوئی ہے۔ جس کے نتیجے میں پہلے پتھرائو، پھر سیدھے گولی چلا دی گئی ۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے سوشل میڈیا کی طرف سے وہاں کی تصاویر ویڈیوز کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ جلوس اور پتلا جلانے کا پروگرام پُر امن طریقے سے چل رہا تھا۔اس دوران وہاں کی عمارتوں سے اور سڑک پر نکل کر دوسرے مذہب کے لوگوں کی طرف سے پہلے رائفل سے فائرنگ کی گئی ۔جس کی واضح ویڈیوز اور اسکرین شاٹ جیسی تصاویر سوشل پر موجودہے ،گولیوں کی آواز سن کر پولیس کو لگا کی جلوس مین شامل لوگ فائرنگ کر رہے ہیں۔
لیکن اس بات کو ٹھیک سے سمجھنے کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی اور بغیر کسی وارننگ کے پولیس کی جانب سے سمجھے بغیر ہی سیدھے فائرنگ کر دی گئی۔ جب کہ اس سے قبل آنسوں گیس اور پانی کے بوچھار پر عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ربر کی گولی داغی گئی اور سیدھے پولیس نے جلوس میںشامل نہتھے لوگوں پر فائرنگ شروع کردی۔ویڈیو میں پیچھے سے دوسرے مذہب کے لوگوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
جو آواز لگا رہے ہیں کہ براہ راست گولی مارو،گولی مارو اور ان لوگوں کے کہنے پر ایک پولیس کے جوان اور پولیس کے ایک آفسر کو نہتھے لوگوں پر براہ راست گو لیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح کا منظر دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ پورا واقعہ ہمارے جھارکھنڈ کی منتخب حکومت اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو بدنام اور کمزور کرنے کی ایک سونچی سمجھی سازش ہے۔
جب بھی پورے ملک میں کہیں بھی کوئی مظاہرہ ہوتا ہے تو بھیڑپرقابو پانے اور منتشر کرنے کے لئے پولیس کی طرف سے سب سے پہلے آنسو گیس کے گولے داغے جاتے ہیں، ربرکی گولی چلائی جاتی ہے یا پھر پانی کے چھینٹوں سے بھیڑ کو منتشر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لاٹھی چارج پھر ہوائی فائرنگ کی جاتی ہیں اور جب ایک دم ہی نہ سنبھلے توحالات پر قابو پانے کے لئے ہمیشہ گولی کمر کے نیچے ماری جاتی ہے اس لئے کے گولی کا مقصد کسی کی جان لینا ہرگز نہیں ہے لیکن رانچی میں جو واقعہ رونما ہوا اس میں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ جلوس میں شامل لوگوں کے پاس کونسے ہتھیار تھے ،نہ تھے لوگوں پر حملہ کرنا اور انہیں جان سے مارنا کہاں کی عقلمندی ہے جو براہ راست اُن نہتھے بچوں پر نشانہ لگا کر انہیںگولی ماری گئی۔اب یہ انتہائی ذہنی ایمانداری کے ساتھ تحقیقات کا معاملہ ہے سوال یہ بھی ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے قبل دوسری جانب سے کسی نے گولیاں چلانے کی ہمت کیسی کی؟جبکہ وہاں پولیس کے ساتھ اُ ن کے اعلیٰ افسران بھی موجود ہیں ۔انہیںیہ ہمت کون دے رہا تھا؟ اُ س کی بھی صحیح ڈھنگ سے جانچ ہونی چاہئے۔
پولیس کی گولیوں سے بہت سارے افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں کچھ کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔جو اس وقت اسپتال میں زندگی اورموت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے کنبہ اور گھر والوں کی ذمہ داری کون اُٹھائے گا۔زخمی افراد کو ویڈیوں میں صاف دیکھاجا سکتا ہے کوئی کسی بھی مذہب کا کیوں نہ ہو میں کسی بھی قسم کی بدامنی اور پر تشدد مظاہروں کا حامی نہیں ہوں میں نفرت اور ایسے ہر طرح کی تشدد کی شدیدمذمت کرتا ہوں۔
میں آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے سخت خلاف ہوں۔ہدایت اللہ خان نے اپنے بیان مین کہا ہے کہ ایسی بہت سی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں صاف نظر آرہا ہے کہ گستاخ رسولﷺ کے خلاف جلوس ہر طرح سے پُر امن تھا لیکن دوسرے طرف سے پتھرائوں کئے گئے اور گولیاں بھی چلائی گئیں۔جس کی وجہ سے لوگ اپنی دفاع میں پُر تشدد ہو گئے ۔ حالات اورپورے واقعہ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ جھارکھنڈ حکومت کو بدنام کرنے کی سونچی سمجھی سازش ہے ۔
میں ہدایت اللہ خان (مرکزی رکن جے ایم ایم اور اقلیتی مورچہ کے سربراہ) اپنے ریاست کے وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پورے واقعہ سے متعلق دستیاب تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے ، اور تمام فریقین کے بیانات، ویڈیوز اور تصاویر کی روشنی میں پوری ایمانداری کے ساتھ اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے ۔تاکہ تمام مجرموں کو سزا مل سکے۔
خواہ وہ کسی بھی مذہب کا کیوں نہ ہو ،ہندوں ہو یا مسلمان یا پولیس والا کیوں نہ ہو۔ سب کو یہ سمجھ آنا چاہئے کہ غلط کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا ہے۔ساتھ ہی اس بات کابھی خاص خیال رکھا جائے کہ کسی بے قصور اور بے گناہ کو نہ ستایا جائے اور وہ سزا کی زد میں نہ آنے پائے۔



