سیاسی و مذہبی مضامین

خوشیوں کا راز,خوش رہنا ہے یہ سوال چھوڑ دیں-مدثر مہدی

شادی کب کرو گے؟سیلری کتنی ہوگئی ہے؟

بھری محفل میں خجالت سے بچنے کے لئے اور دوسروں کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے غیر ضروری اور ضرر رساں تجسس کو تھوڑا دبا کر رکھئے۔ وہ سوال کون سے ہیں جو بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور پہنچاتے ہیں۔ ویسے تو سوال آدھا علم ہے اگر سمجھنے کے لئے ہو، لیکن اگر سوال کا مقصد ہی کچھ اور ہو تو اس کے باعث ہوسکتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہ چلے اور کسی کی دل آزاری ہو جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جس سوال کو سیدھا سادا سمجھ رہے ہیں وہ سن کر کوئی بھنا جائے اور خواہ مخواہ کا فساد پیدا ہو جائے۔وہ سوال کون سے ہیں جو بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور پہنچاتے ہیں، تو پھر جانئے۔

شادی کب کرو گے؟ ارے شادی جب کرنی ہوگی تو کر لیں گے نہ آپ سے پوچھ کر کریں گے، نہ آپ سے اجازت لے کر۔ ہمارے والدین اگر یہ سوال کریں تو مناسب ہے یا وہ لوگ جو زندگی میں آپ سے قریب ہیں، یہ سوال ان پر ہی جچتا ہے جو دراصل آپ سے حقیقی طور پر محبت رکھتے ہیں۔

سیلری کتنی ہوگئی ہے؟ یہ سوال ان سوالوں میں سے ایک سوال ہے جس کا پوچھنا انتہائی معیوب ہے۔ مطلب اگر تنخواہ کم ہے تو آپ میری مالی مدد کریں گے، یا اگر سیلری زیادہ ہے تو آپ کو حصہ چاہئے کیا؟ یہ سوال کسی صورت مناسب نہیں۔ سیلری جتنی بھی ہو بس حلال ہونی چاہیے، باقی اگر اتنی ہی دلچسپی ہے تو دعا کیجیے نہ کہ سوال۔

عمر کتنی ہے؟ یہ سوال لڑکیوں کے لئے اتنا ہی تلخ ہے جتنا لڑکوں کے لئے سیلری کا سوال۔ مطلب عمر جتنی بھی ہو آپ کیا کرو گے؟ بڑھنے سے روک دیں گے یا نادرا کے ریکارڈ میں عمر کم کروائیں گے؟ اور آپ نے کون سا تیر مار لیا اتنی عمر ہونے کے بعد۔ اپنی زندگی پر دھیان دیجیے نہ کہ ہماری عمر پر۔

خوشخبری کب سناؤ گے؟ آنٹیوں کا نئے شادی شدہ جوڑے سے یہ سوال کرنا اور شادی کے اگلے مہینے ہی کرنا کہ بھئی خوشخبری کب سناؤگے؟ پھپو کب بناؤگے؟ ارے مطلب اتنی جلدی کیا ہے، ابھی کل ہی تو شادی ہوئی ہے، ان کو ابھی انجوائے تو کرنے دیجیے، نہ جانے کیوں اتنی جلدی ہے آپ کو۔ شکر ہے شادی والے دن یہ نہیں پوچھ لیا کہ تمہاری خوشخبریاں کدھر ہیں؟

نوکری لگ گئی کیا؟ یہ سوال بے روزگاروں کو سوئی چبھونے کی مانند ہے۔ ارے نوکری ہوجائے گی تو خود بتا دیا جائے گا یا پھر خود ہی اندازہ ہوجائے گا۔ اگر نوکری ڈھونڈنے والا شخص واقعی روزگار کی تلاش میں ہے تو اس کے لئے یہ سوال تکلیف دہ ہوگا اور اگر کوئی ہڈ حرام ہے تو اس سوال کا کوئی سوال ہی نہیں بنتا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیجیے۔

کتنا کما لیتے ہو؟ کاروباری شخص سے یہ سوال تو پوچھنا نہیں چاہیے، اگر آپ کو جاننا ہے تو آپ ان کی لائف اسٹائل سے اندازہ لگا لیجیے۔ ویسے بھی جان کر آپ کو کرنا کیا ہے، کیا ان کی جائیداد میں حصہ چاہیے؟ مطلب یہ سوال آخر کیوں؟ بھئی محنت کی ہے دن رات لگائے ہیں اور اب اگر معاشی طورپر مستحکم ہو گئے ہیں تو آپ کون ہوتے ہیں سوال پوچھنے والے؟

وزن اتنا زیادہ کیوں گیا ہے؟ بھئی ایک تو بیچارہ یا بیچاری پہلے ہی پریشان ہے (اور یقین جانیے انہیں خود بھی پتہ ہو گا کہ ان کا وزن بڑھ رہا ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے غور بھی کر رہے ہوں گے) اوپر سے آپ زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں اور بھری محفل میں ان کی طرف توجہ دلا کر انہیں خجل کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button