سیاسی و مذہبی مضامین

مدارس کی بقاء ہماری ذمہ داری ہے ورنہ کل نماز جنازہ پڑھانے والے تک نہیں ملیں گے

حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی

علم امت کیلئے انبیاء کرام کا بیش بہا قیمتی تحفہ اور وراثت ہے، سرمایہ نجات اور مدار کامیابی ہے۔یہ علم ماں باپ کو اولاد کی صحیح تربیت اور اسلامی طریقے پر چلانے کی رہنمائی کرتا ہے اور اولاد کو والدین اور اپنے بزرگوں کا سچا تابعدار و فرماں بردار بناتا ہے۔اور یقینا علم دین ہی دنیاوآخرت کی عافیت وسلامتی کا سامان اور ذخیر و نجات ہے۔ جس طرح ایک انسان اپنی زندگی کی بقا کیلئےخوراک اورپوشاک کو ضروری خیال کرتا ہے،اسی طرح ایک حقیقی مسلمان اپنی اسلامی شناخت، تہذیبی خصوصیات اور معاشرتی امتیازات سے وابستگی اور اپنے ملی وجود کی حفاظت کو اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت دیتا ہے۔

وہ کسی دام پراپنے ملی تشخص اور اپنے امتیازات وشعائر سے دستبردار نہیں ہوسکتا، چونکہ خوراک سے پیٹ اور پوشاک سے جسم کی حفاظت تو ہو سکتی ہےلیکن ایک حقیقی مسلمان کے پاس اس کے پیٹ اور جسم کے ان تقاضوں اور ان مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی ایک اہم چیز اور بھی ہے، وہ ہے اس کا دین اور ایمان مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہےلیکن وہ کبھی بھی اپنی تہذیبی خصوصیات سے دستبردار نہیں ہوسکتا ۔

اگر وہ اس دین میں رہے گا تو اپنی ان تمام خصوصیات کے ساتھ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو بحیثیت ایک ملت کے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہےدشمن ہمارے ملی وجود اور تہذیبی خصوصیات کو چن چن کر ختم کرنے پر تلا ہواہے، اگر آج اسلام اپنی تمام خصوصیات وامتیازات کے ساتھ نظر آ رہا ہے تو وہ انھیں مدارس عربیہ کے زیر احسان ہےشہرشہر گلی گلی ،قریہ قریہ، چھوٹی بڑی ، کچی پکی جو مساجد آبا دنظر آ رہی ہیں مختلف تحریکوں کی شکل میں مسلمانوں کی اخلاقی و اعتمادی اور معاشی اصلاح کا جو حال ہرسمت بچھا ہوا ہے۔

یا کسی بھی جگہ دین کا شعلہ یا اس کی تھوڑی سی رمق اور چنگاری سلگتی ہوئی نظر آ رہی ہے وہ انھیں مدارس کا فیض اثر ہے اگر ان مدارس کا وجود نہ ہوتا تو ہم موجود تو ہوتے لیکن بحیثیت مسلم نہیں بلکہ ان تمام درندہ صفت کے ساتھ جو منکرین و مشرکین کا شیوہ ہے۔

مدارس کی اہمیت اور ضرورت اور معاشرے پر ان کے احسان عظیم کا تذکرہ کرتے ہوۓ ، حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ہوگی یہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی عہدوں اور ملازمتوں کے پھیر اور ارباب اقتدار کی چاپلوسی میں لگے ہوں گے اور یہی دیوانے آج کی طرح کل بھی ہوشیار رہیں گے۔

اس لیے یہ مدارس جہاں بھی ہوں ، جیسے بھی ہوں، ان کا سنبھالنا،اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی دوسرا فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں، اور اس سے فائدہ اٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اوراونچا ہوتا ہے ان کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے، اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہےغور کی نظر اس نکتہ کو پوری طرح کھول دے گی‘‘

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ ان مدارس کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں : ”اس وقت مدارس کا وجود مسلمانوں کیلئے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے بڑھ کر تصور نہیں ،دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں‘۔ یہ مدارس معاشرے کو کیا دے رہے ہیں؟سیاسی واضح اور روشن حقیقت ہے کہ جس کا معاشرے کے حقیقی احوال سے ناواقفیت یا ایسا شخص ہی منکر ہو سکتا ہے۔

جس نے جان بوجھ کر ان احوال سے آگہی کے باوجود اس سے آنکھیں موند لینے کی ٹھان لی ہو کہ دین کی بقاء وتحفظ ، اسلامی اقدار و روایات کی پاس و حرمت مسلمانوں کی اپنی شریعت کے ساتھ سچی وابستگی وعقیدت اور پورے معاشرے کے اصلاح و درستی کا اگر کوئی کام انجام دے رہے ہیں تو یہی مدارس ہیں معاشرے کی دینی ضروریات کی تکمیل میں مدارس کی حیثیت اس کسان کی سی ہے جو زمین کے ہموار کرنے فصل کے اگانے ، کٹائی سے لے کر اس غلہ اور اناج کے بازار پہنچنے تک اپنی ساری توانائی اور قوت اس کے پیچھے صرف کرتا ہے۔

جو غلہ تمام انسانوں کی آسودگی اور بھوک مٹانے کا سبب بنتا ہے، دین کے تمام شعبوں کو زندہ، بیدار اور متحرک رکھنے میں مدارس کی یہی مثال ہے ائے اللہ تمام دینی مدارس کی حفاظت فرما اور ان کی غیب سے مددفر ما آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button