یہ 2؍ اکتوبر 2018ء کی بات ہے ۔ اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ Make America Great Again کی مہم چلا رہے تھے۔ جس کے تحت امریکی ریاست مسی سپی میں اپنے حامیوں کی ایک ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے ایک ایسی بات کہدی جو بہت طویل عرصے تک میڈیا کے گوشوں میں گردش کرتی رہی اور اب تاریخ کی کتابوں میں بھی لکھی جائے گی۔
ریالی امریکہ میں تھی۔ صدر بھی امریکہ کے تھے لیکن ان کا بیان سعودی عرب کے متعلق تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا سعودی عرب اور وہاں کا بادشاہ امریکہ کی فوجی مدد کے بغیر دو ہفتوں تک بھی اپنے اقتدار پر باقی نہیں رہ سکتا ہے۔ (بحوالہ CNN.com 7؍ اکتوبر 2018ء کی رپورٹ)
قارئین کرام ایک ایسے پس منظر میں جب روس کی جانب سے اپنے پڑوسی ملک یوکرائین پر فوجی مہم جاری ہے تو سابق صدر امریکہ کا یہ بیان عالمی سیاست کے بہت سارے رموز و اسرار کی ترجمانی کرتا ہے اور اگر کوئی موجودہ روسی فوجی کاروائی کو سمجھناچا ہیں تو انہیں عالمی سیاست میں موجودہ طاقت کے توازن کو بھی سمجھنا ہوگا۔
اکیسویں صدی کے بائیسویں برس میں روس اور یوکرائین کے درمیان لڑائی اس حوالے سے بڑی اہم ہے کہ 1991ء میں سویت یونین (USSR) کے بکھر جانے کے بعد پہلی مرتبہ روس اپنی ریاست سے باہر فوجی کاروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔
ورنہ 1991ء میں جب سویت یونین کے آخری صدر میخائیل گوربایوف نے 25؍ دسمبر کو آخری مرتبہ خطاب کرتے ہوئے سویت یونین کی تحلیل کا اعلان کیا تھا تب سے دنیا کی سیاست میں دو بڑی طاقتوں کا توازن دو قطبی (BiPolar) نظام سے یک قطبی (Unipolar) میں بدل گیا تھا۔
سویت یونین کے زوال کے بعد دنیا میں امریکہ واحد عالمی طاقت (Super Power) کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ اور اکلوتے سوپر پاور ہونے کے بعد امریکہ نے ایک بڑی جنگ عراق کے صدر صدام حسین کے خلاف لڑی جو کہ سال 2003ء میں عراقی صدر کو گرفتار کر کے عراق پر قبضہ کرنے تک جاری رہی۔
یہ تو مشرق وسطیٰ کی مثال تھی۔ خود یوروپ میں سویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یوگوسلاویہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔
اس جنگ کو بوسنیا (بلقان) کی جنگ بھی کہا جاتا ہے جس کے دوران ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوگوسلاویہ کو سویت یونین کے قریبی دوست ملک کے طور پر جانا جاتا تھا۔ عراق میں جنگ کے دوران چھ لاکھ پچپن ہزار عراقیوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔
امریکہ کی ایک تنظیم جو واشنگٹن سے کام کرتی ہے جس کا نام Physicians for Social Responsibility (PRS) ہے اس تنظیم کی جانب سے 97 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی گئی جس کو نوبل انعام یافتہ ڈاکٹرز کے گروپ نے تیار کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ "War on Terror” لڑی جس کے دس برسوں کے دوران (1.3) ایک اعشاریہ تین ملین لوگوں کی موت واقع ہوگئی اور اصلاً ہلاکتوں کی تعداد د وملین سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
گیارہ ستمبر کے امریکی حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا امریکہ نے آغاز کیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ 11؍ ستمبر 2001ء میں امریکہ میں جڑواں ٹاور پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔
پہلے افغانستان پر حملہ کر کے وہاں ناٹو کے تعاون سے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیا اور امریکہ کی افواج افغانستان میں سال 2021ء تک موجود رہیں۔
سال 1990ء میں کویت پر حملہ کے خلاف عراق کے خلاف امریکہ نے جو جنگ شروع کی وہ سال 2003ء میں صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کرنے تک جاری رہی۔ سال 2011ء میں لیبیاء میں امریکہ نے جس طریقے سے جنگ کی اس کے نتیجے میں اس برس لیبیاء کے صدر معمر قذافی کو اقتدار سے محروم کردیا گیا اور انہیں برسر عام موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سال 2011ء میں ہی مشرق وسطیٰ کے ایک اور ملک شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بشار الاسد کے خلاف بغاوت کی حمایت کی۔ باغیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور ہر طرح کی مدد فراہم کی گئی لیکن امریکہ کو شام میں اقتدار کی تبدیلی کا موقع نہیں مل سکا۔
سال 2013ء تک بشار الاسد نے باغیوں کے زور کو ختم کردیا اور قارئین کرام شام ہی کی مثال ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بشمول سعودی عرب بھی چاہتا تھا کہ میں شام میں بشار الاسد حکومت کا تختہ پلٹ جائے۔
لیکن کسی کو بھی کامیابی نہیں ملی اور اس کا سب سے اہم سبب روس کا بشار الاسد کو دیا جانے والا تعاون تھا جس میں فوجی اور فضائیہ کی امداد بھی شامل ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اگر سویت یونین نہیں ٹوٹتا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں بھی کامیابی نہیں ملتی۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے اقوام متحدہ کو اپنے مفادات کی تکمیل کا آلہ کار بنایا اور صدام حسین پر وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنے کا الزام لگاکر 13 سال تک معاشی پابندیاں عائد کر کے ملک کو کمزور کردیا اور بالآخر صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کر کے معافی چاہی کہ ہاں ہم سے غلطی ہوئی اور صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہونے کی اطلاع غلط تھی۔
لیبیاء میں کرنل معمر قذافی حکومت کو بے دخل کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کو بہت کم وقت لگا 15؍ فروری 2011ء کو لیبیاء میں بغاوت کو ہوا دی گئی اور 20؍ اکتوبر 2011ء کو معمر قذافی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
امریکہ نے ان کے اقتدار کے خاتمہ کردیا لیکن اس دوران امریکہ کو لیبیاء میں تعینات اپنے سفیر کی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ قارئین کرام امریکہ آج بھی بشارالاسد کے خلاف مخالفین کو اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے لیکن روس کے ساتھ قریبی تعلقات اور روسی امداد کی وجہ سے ابھی تک ان کا اقتدار باقی ہے۔
یوں سمجھ لیجئے کہ شام میں بشارالاسد کے اقتدار کو بچاکر روس نے امریکہ اور سارے عالم کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ سویت یونین کا حقیقی جانشین اب روس ہے اور 1990ء کے بعد سے روس نے نہ صرف سلامتی کونسل میں سویت یونین کو ویٹو پاور حاصل کیا بلکہ اب ولادی میر پوٹین کی قیادت میں دنیا کو ایک قطبی نظام سے چھٹکارا دلانے کے لیے بھی تیار ہے۔
قارئین اب ذرا میرے اس کالم کی ان ابتدائی سطور پر غور کریں جس میں ڈونالڈ ٹرمپ سابق امریکی صدر کا بیان شامل ہے کہ اگر امریکہ سعودی عرب کی مدد بند کردے تو صرف دو ہفتوں میں وہاں کی بادشاہت ختم ہوجائے گی۔
مندرجہ بالا بیان اور پس منظر سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ امریکہ ضرور ایک بڑی عالمی طاقت ہے لیکن روس بھی 1990ء کے بعد اپنے معاشی مسائل کو حل کرتے ہوئے عالمی سیاست میں اپنا بھرپور رول ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
یوکرائن میں روس کی فوجی کاروائی کسی طرح بھی روسی جارحیت نہیں بلکہ مجبوری ہے کیونکہ یوکرائن سابق میں سویت یونین کا حصہ تھا دوم یوکرائن کی روس کے ساتھ دو ہزار کیلو میٹر طویل زمینی سرحد ہے۔ سوم امریکہ یوکرائن کو NATO اتحاد میں شامل کرنا چاہ رہا تھا۔
اب یہ ناٹو کیا ہے یہ بھی سمجھ لیجئے North Atlantic Treaty Organization ناٹو کا قیام جنگ عظیم دوم کے خاتمہ کے بعد 1949ء میں عمل میں آیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران 26 ملین سے زیادہ روسیوں کی جانیں گئی تھیں اور جنگ عظیم دوم کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان روسیوں نے اٹھایا تھا کیونکہ جرمنی کے ہٹلر کی افواج کے ساتھ عملاً لڑائی سویت یونین نے ہی لڑی تھی۔
اس جنگ کے بعد سویت یونین ایک فاتح کے طور پر ابھرا۔ روس کے بڑھتے اثر و رسوخ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ، کنیڈا اور ان کے دوست ملکوں نے مل کر ناٹو کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
اب اگر ناٹو روس کے پڑوسی ملک یوکرائن کو اپنا رکن بناتا ہے تو یہ پالیسی روس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ دنیا میں آج فوجی اعتبار سے ناٹو سے بڑا دوسرا کوئی فوجی اتحاد نہیں ہے۔ اس اتحاد میں 30 ممبر ممالک ہیں۔
سویت یونین کے بکھرنے کے بعد ناٹو نے دنیا بھر میں بڑی بڑی فوجی کاروائیاں سر انجام دی۔ ان کاروائیوں میں زیادہ تر مسلم ممالک نشانہ بنے جیسے افغانستان، عراق، لیبیاء، شام، یوگوسلاویہ، بوسنیا، ہرزیگوسنیا، سربیا اور کوسوووغیرہ۔
یقینا جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوسکتی ہے لیکن ایک قطبی نظام (Unipolar) میں جب دنیا کے چند ایک ممالک سارے عالم پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہیں گے اور تو ہر ایسی طاقت کا خیر مقدم کیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکے۔
یقینا یہ سچ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں جنگیں تو نہیں ہوئی ہے اگر دنیا دوسری سرد جنگ کا احیاء دیکھ رہی ہے تو یقینا وہ ممالک جو کسی کے طرف دار بنے رہنے کے خواہشمند نہیں ہیں وہ سکون کی سانس لے سکتے ہیں۔
جہاں تک بات یوکرائن کی تو امید ہے کہ وہاں بہت جلد یا بدیر ایک ماسکو نواز حکومت قائم ہوگی۔ کیونکہ امریکہ جب سعودی عرب میں اپنے دوست بادشاہ کی حکومت کو برقرار رکھ سکتا ہے جس کی سرحدیں امریکہ سے ہزاروں کیلومیٹر دور ہیں تو روس بھی اپنی سرحد سے جڑے یوکرائین میں ایک روس نواز حکومت قائم کرسکتا ہے۔
ہاں قارئین اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ہر سلطنت کو زوال ہے سوائے رب ذوالجلال کے جو کہ سارے عالم کا مالک ہے۔
بقول حبیب جالب
جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی
اہل ہوس نے جب تک اپنا دام بکھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی
مغرب کے چہرے پر یار اپنے خون کی لالی ہے
لیکن اب اس کے سورج کی نائو ڈوبنے والی ہے
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



