8؍ فروری 2022ء منگل کے دن ریاست کرناٹک کی بی بی مسکان نے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر بلند کرتے ہوئے پوری دنیا، کی خبروں میں اپنی جگہ بنالی تھی۔ صرف ہندوستان ہی نہیں امریکہ، کنیڈا، نیوزی لینڈ سے لے کر پورے مشرق وسطیٰ غرض دنیا بھر کے میڈیا نے بی بی مسکان کے حوالے سے تصاویر اور ویڈیو پیش کی۔
ریاست کرناٹک کا ایک ضلع منڈیا ہے جہاں کی کل آبادی تقریباً 19 لاکھ بتلائی جاتی ہے۔ منڈیا ضلع کے شہر منڈیا کی آبادی تقریباً دیڑھ لاکھ ہے۔ جس میں سے ایک لاکھ دس ہزار یعنی 78 فیصد آبادی ہندوئوں کی ہے اور مسلمان صرف 17 فیصد (یعنی 24332) ہیں۔ (بحوالہ Census2011.co.in)
ایک ریاست جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ایک ایسا شہر جہاں پر مسلمانوں کی آبادی بمشکل 17 فیصد ہے۔ وہاں پر ایک بی کام سیکنڈ ایئر کی برقعہ پوش طالبہ اپنی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتی ہے اور برقعہ پہن کر کالج جاتی ہے اور شرپسندوں کو منہ توڑ جواب دیتی ہے۔
آیئے اب میں آپ کو 8؍ فروری 2022ء کی ہی ایک اور خبر کی مثال دینا چاہوں گا۔ یہ خبر ریاست جموں و کشمیر سے ہے جہاں پر (1.25) سوا کروڑ کی آبادی ہے جس میں 70 فیصدی آبادی مسلمانوں کی ہے۔ سری نگر کشمیر کا ایک ایسا شہر ہے جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 96 فیصد ہے۔
سری نگر شہر سے تعلق رکھنے والی 12 ویں جماعت کی ایک طالبہ عروسہ پرویز نے جموں و کشمیر کے بارہویں کے بورڈ امتحانات میں 500 مارکس میں سے 499 مارکس حاصل کر کے سب سے ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ تو بڑی خوش آئند بات ہے کہ ایک مسلم لڑکی نے تعلیم کے میدان میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔
قارئین عروسہ پرویز نے پوری ریاست میں ٹاپ کیا وہ خبر زیادہ نہیں پھیلی بلکہ اس سے زیادہ یہ خبر لوگوں میں موضوع بحث بنی کہ عروسہ پرویز مسلم اکثریتی ریاست اور مسلم اکثریتی شہر سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی نہ تو برقعہ پہنتی ہے اور نہ ہی حجاب پہنی ہے وہ تصویر جو عروسہ پرویز کی جاری کی گئی اس میں تو عروسہ کے اپنے سر پر اوڑھنی بھی نہیں ہے۔
ایک جانب بی بی مسکان کی خبر جو اجازت نہ ملنے کے باوجود اور شدید مخالفت کے باوجود نہ صرف حجاب پہننے پر اصرار کر رہی ہے اور تو اور برقعہ پہن کر مخالفین کے گھیرے کو توڑ کر ان کے نعروں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنے کالج کو جارہی ہے دوسری جانب مسلم اکثریتی ماحول اور حجاب دوست حالات کے باوجود سری نگر کی مسلم لڑکی نہ تو برقعہ پہنتی ہے اور نہ ہی حجاب میں تصویر کھنچوا رہی ہے ۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کی 13؍ فروری 2022ء کی رپورٹ کے مطابق عروسہ پرویز کو بغیر حجاب والی تصویر کے لیے زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
عروسہ نے اخبار کو بتلایا کہ حجاب پہننے یا نہیں پہننے سے کسی کے مذہب کی پہچان نہیں ہوتی ہوسکتا ہے مجھے ان لوگوں سے زیادہ اپنے خدا سے محبت ہو جو مجھ پر تنقید کر رہے ہیں۔ میں دل سے مسلمان ہوں۔ حجاب سے نہیں۔
عروسہ پر تنقید کرنے والے اپنا کام کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب عروسہ کے حجاب نہ پہننے پر بی جے پی قائدین اس کی سراہنا کر رہے ہیں۔ عروسہ نے ہی اصل ہمت دکھائی ہے۔
ان دونوں خبروں پر بحث کرنے کی بجائے ان سے کیا سیکھا جاسکتا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔ حجاب اور برقعہ پر بحث کو کسی طرح بھی ہند و مسلم تنازعہ نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ حجاب پر پابندی ہندو مسلم تنازعہ یا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ کیسے یہ بھی جان لیجئے۔
بی بی مسکان کی ریاست کرناٹک ہائیکورٹ میں جب حجاب پہن کر اسکول، کالج جانے کی بات ہو رہی ہے تو آپ یہ بھی جان لیجئے کہ مسلمانوں کی طرف سے کونسا وکیل پیروی کر رہا ہے جی ہاں ایک غیر مسلم وکیل دیوادت کامت مسلمانوں کی جانب سے عدالت میں حجاب کے حق میں پیروی کر رہا ہے۔
دیوادت کامت اپنے ایک مضمون Banning Hijab wearing Girl Students from College an Affornt to their constitutional Right. میں لکھتے ہیں کہ ’’کوئی فرد حجاب پہننا چاہتا ہے یا نہیں یہ معاملہ بالکلیہ طور پر شخصی آزادی کا ہے۔ اگر ہم ریاستی حکومت کی جانب سے حجاب پر پابندی لگانے کے اقدام کو دیکھتے ہیں تو وہ بالکلیہ طور پر دستور کے خلاف ہے۔‘‘
دیوادت کامت کے مطابق ’’آپ سیاسی طور پر کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں لیکن کسی بھی نوجوان طالبہ کو اسکول، کالج جانے کے لیے کونسا لباس پہننا چاہیے اس پر بحث کرنے ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
قارئین کرام جموں و کشمیر کا واقعہ دراصل شمالی ہند کی اس سونچ کا مظہر ہے جہاں پر مسلمانوں کی خاصی تعداد خواتین کے حجاب کو غیر ضروری مانتے ہیں اوریہ بھی کہتے ہیں کہ حجاب کے لیے مسلم خواتین کو اصرار بھی نہیں کرنا چاہیے۔
عربی زبان کے ایک ریسرچ اسکالر جو اپنی تعلیمی سفر کے لیے ملک بھر میں دورہ کرتے رہتے ہیں انہوں نے بتلایا کہ شمالی ہندوستان میں مسلمان حجاب اور برقعہ کو پسماندگی کی علامت مانتے ہیں۔
یہاں تک کہ مسلمان خواتین کئی ایک مرتبہ اپنے چہروں پر بندیا بھی لگا لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے یہ بڑے تعجب کی بات کہ جنوبی ہندوستان میں مسلمان لڑکیاں نہ صرف حجاب کرتی ہیں بلکہ برقعہ کو بھی فخریہ طور پر زیب تن کرتی ہیں، آیئے یہ جان لیجئے کہ یہ ہندو مسلم مسئلہ ہرگز نہیں ۔ حجاب کی لڑائی میں کئی ہندو بھی مسلمانوں کی تائید میں ہیں۔
سعدیہ ممتاز گرلز اسلامک آرگنائزیشن سے جڑی ہوئی ہیں۔ اپنی ایک سوشیل میڈیا پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ استاد چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو مگر پدرانہ شفقت اس کے خون میں سرائیت کرچکی ہوتی ہے۔
کالج کے ہندو ٹیچرس نے مسکان کو شدت پسند ہجوم سے نہایت مصلحت کے ساتھ الگ کیا ورنہ دوسری صورت میں ہم کسی المناک حادثہ کے منتظر ہوتے۔
سعدیہ ممتاز اسلام پسند نوجوانوں کی تنظیم سے جڑی ہوئی ہیں اور بی بی مسکان کے سارے تنازعہ میں اس پہلو کو اجاگر کر رہی ہیں جس کو عام طور پر بہت سارے احباب نظر انداز کر کے سارے افراد اور حالات کو ایک ہی نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
قارئین ذرا اندازہ لگائیں ایک جانب جموں و کشمیر کی عروسہ پرویز حجاب کو اسلام سے الگ کر کے دیکھنے پر زور دیتی ہیں۔ دوسری جانب دیوادت کامت سپریم کورٹ کے وکیل ہیں جو کہ کرناٹک ہائیکورٹ میں مسلمانوں کے حجاب کے حق کے لیے نمائندگی کر رہے ہیں۔
وہ قرآن کے حوالوں سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حجاب پہننا مسلمان لڑکیوں کا مذہبی حق ہے۔ دیوادت کامت اتنے پر زور دلائل کے ساتھ عدالت میں مسلمان لڑکیوں کا موقف پیش کر رہے ہیں کہ حجاب کے مخالفین ان کے پیچھے پڑگئے ہیں اور بات یہاں تک آگئی ہے کہ گوڑ سرسوت برہمن سماج (جس سے کہ ایڈوکیٹ دیوادت کامت کا تعلق ہے) سے خارج کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن اس صورت حال میں دوسرا خوش گوار پہلو بھی سامنے آیا ہے اور اکثر مسلمانوں نے اس کو بالکل نظر انداز کر رہے ہیں۔
13؍ فروری 2022ء کو ٹی این ایم کی ایک رپورٹ کے مطابق دیوادت کامت سینئر سپریم کورٹ وکیل کی حمایت میں سوامی بھویش آنند بھی اتر آئے ہیں۔ سوامی بھویش کا تعلق راما کرشنا آشرم سے جو کہ کردار میں واقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیوا دت کامت اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کو پورا کر رہے ہیں۔
ان پر ہندو طبقے کے خلاف کام کرنے کا الزام لگانا غیر ضروری اور بے بنیاد ہے۔ اس طرح کے الزام سے امن اور بھائی چارہ کی فضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
راما کرشنا آشرم کی جانب سے مزید کہا گیا کہ شری دیوا دت کامت راما کرشنا ویویکانندا فلاسفی کے عقیدت مند ہیں۔ ان کا تعلق ایک ہندو مذہبی گھرانے سے ہے۔ انہوں نے اتر کنٹرا کے لیے ہمیشہ اپنا دست تعاون دراز کیا ہے۔
حجاب کی یہ لڑائی ہم مسلمان دستور ہند کے دائرے میں اور دستور کی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس لیے ہرگز ہرگز اس جدوجہد کو ہندو مسلم خانوں میں بانٹنے کی احمقانہ کوشش نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔
قارئین اب یہ مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری طرح سے عقلمندی کا مظاہرہ کریں اورحجاب کے تنازعہ پر کس طرح کی بھی لب کشائی اور تبصرے سے احتراز کریں۔
کیونکہ یہ بھی تلخ مگر سچائی ہے کہ مسلمانوں میں خاصی تعداد نہ حجاب کا استعمال کرتی ہے اور نہ ہی برقعہ زیب تن کرتی ہے۔
ایسے پس منظر میں جب کوئی مسلمان خاتون / لڑکی حجاب اور برقعہ کو دستور ہند کے تحت دی گئی اپنی آزادی کے حق کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور کر رہا ہے تو اس کی اس قانونی لڑائی میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
اس مقصد کے لیے دعائوں سے آگے بڑھ کر ہر مثبت قدم مگر سونچ سمجھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔ کیونکہ دشمنوں کو تو ہم اب پہچاننے لگے ہیں لیکن جو ہماری صفوں سے دشمنوں کے حوصلوں کو بڑھانے کی کوشش ہے اس پر فوری اثر کے ساتھ روک لگانا بھی ضروری ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو ہر طرح کی ذہنی، مذہبی، مالی قلاشی سے محفوظ رکھے اور ہمارے لیے صراط مستقیم پر چلنا آسان فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



