سیاسی و مذہبی مضامین

بدلو گے سونچ تو بدل جائے گی زندگی ✍️محمد مصطفی علی سروری

یہ اپریل 2022ء کا واقعہ ہے جب 35 سال کے لابھ سنگھ اوگوک کو ایک اسکول میں منعقدہ پروگرام میں مہمان کی حیثیت سے مدعو کا گیا۔ قارئین کرام لابھ سنگھ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے صرف 35 سال کی عمر میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی الیکشن لڑکر ایک تاریخ رقم کی۔ تاریخ اس حوالے سے کہ انہوں نے پنجاب کے چیف منسٹر چرن جیت سنگھ چنی کو ہراکر اسمبلی انتخاب جیتا تھا۔ اسمبلی الیکشن کے بعد ایم ایل اے کو ہر جگہ مہمان کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔

لیکن قارئین یہاں خاص بات یہ ہے کہ لابھ سنگھ کو جس اسکول میں دعوت دی گئی ہے وہاں پر انہوں نے خود 22 برس پہلے تعلیم حاصل کی تھی۔ لیکن خاص بات صرف اتنی نہیں کہ ایک ایم ایل اے اپنے سابقہ اسکول کو جارہا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ ایم ایل اے صاحب جس اسکول میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے تھے اسی اسکول میں ایم ایل اے صاحب کی ماں بھی برسرکار تھی اور بطور ٹیچر نہیں بلکہ وہ اسکول میں جھاڑو لگانے کا کام کرتی تھیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 5؍ اپریل 2022ء کو اس حوالے سے خبر دی تھی۔ اخبار نے MLA goes to cut ribbon at School where his mom works as Sweeper کی سرخی لگائی۔ لابھ سنگھ نے 4؍ اپریل 2022ء کو اسکول کے پروگرام میں شرکت کی جب پروگرام ختم ہوگیا تو ایم ایل اے صاحب اپنی ماں سے ملنے اس کے پاس گئے اور پھر اپنی ملاقات کو راز نہیں رکھا بلکہ باضابطہ طور پر ماں کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویر بھی کھنچوائی۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے نو منتخب ایم ایل اے نے بتلایا کہ جب میں چھوٹا تھا تو میری ماں نے اسکول میں جھاڑو لگانے کا کام شروع کیا اور اس کی آمدنی سے ہمارے گھر کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ ماں کی آمدنی کم تھی مگر ہمارے لیے یہ بڑا ذریعہ تھا۔ اب میں ایم ایل اے بن گیا تو مجھے بھی تنخواہ ملے گی۔ میری ماں اسکول میں جھاڑو لگانے کی اپنی نوکری کو جاری رکھنے آمادہ ہے۔‘‘

اتنا ہی نہیں قارئین کرام نومنتخب ایم ایل اے نے مزید بتلایا کہ خود ان کی بیوی کپڑے سلوائی کر کے پیسے کماتی ہے۔ لابھ سنگھ نہیں چاہتے کہ ان کے ایم ایل اے بننے کے بعد ان کی ماں اپنی نوکری چھوڑ دے۔ کیا ان کی ماں کی نوکری مستقل ہے۔ جی نہیں وہ تو کنٹراکٹ پر کام کرتی ہیں۔ نہ بیٹے کو ماں کے جھاڑو دینے پر اعتراض ہے اور نہ ماں اپنے بیٹے کے ایم ایل اے بننے پر یہ کام چھوڑنا چاہتی ہے۔ ہاں ایم ایل اے صاحب کی ماں چاہتی ہے کہ اگر قانون اجازت دے تو طویل عرصے سے کنٹراکٹ پر کام کرنے والوں کی ملازمت کو مستقل کردیا جائے۔

ایم سریندر کی عمر 20 برس ہے اور وہ Visual کمیونکیشن کے سال دوم میں زیر تعلیم ہے۔ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ سریندر اپنے اخراجات خود پورا کرنے کے لیے چنئی کے پونڈی بازار میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر لوگوں کے پورٹریٹ بناکر فروخت کر رہا تھا۔ اپنے کالج کے بعد وہ روزانہ 3 گھنٹے ایک مصروف تجارتی علاقے میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر لوگوں کو ان کی فرمائش کے مطابق سفید کاغذ پر پورٹریٹ بناکر دیتا ہے اور یوں تین گھنٹے کام کر کے وہ اپنے تعلیم کے اخراجات خود اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے چنئی کے ایم سریندر کے متعلق جب نیوز کوریج کیا تو ٹیک مہندرا کے صنعت کار ایم مہندرا نے اس نوجوان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے اپنے لیے بھی اس نوجوان سے ایک پورٹریٹ بنوانے کی درخواست کی۔

قارئین حصولِ تعلیم کے لیے جہاں نوجوانوں کی ہر طرح سے ہمت افزائی کرنی ضروری ہے۔ وہیں اس بات کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ نوجوانوں کو حصول تعلیم کے ساتھ اپنی مدد آپ کرنے کے لیے ترغیب دلائی جائے۔

آرپرگنندھا پہلا ہندوستانی طالب علم ہے جس نے Meltwater Champions Chess Tour کے ماسٹرس ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کی۔ عالمی سطح کا یہ ٹورنامنٹ آن لائن کھیلا گیا۔ جس کے سیمی فائنل میں آر پرگنندھا نے نیدرلینڈ کے کھلاڑی کو شکست دی۔ یہ عالمی مقابلہ رات دیر گئے ختم ہوگیا تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے 16 سال کے اس نوجوان نے کہا کہ آج اسکول میں میرا امتحان ہے اور اس وقت صبح کے دو بج رہے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ امتحان ہال میں مجھے نیند نہ آئے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے 25؍ مئی کو شائع اس خبر کی سرخی کچھ یوں لگائی کہ I have to be at School around 8:45 a.m and now It’s 2 a.m. … I’ll try not to sleep at exams says praggnandhaa (May 25, 2022)

گرانڈ ماسٹر وشواناتھن کے بعد ہمارے ملک کا یہ ابھرتا ہوا شطرنج کا کھلاڑی کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

آج کے ہر والدین کی طرح پراگنندھا کے والدین بھی یہ دیکھ کر پریشان تھے ان کی بچی بھی زیادہ وقت ٹیلی ویژن کے سامنے گذار رہی ہے۔ اپنی بچی کو ٹیلی ویژن کی لت سے بچانے کے لیے انہوں نے شطرنج کے کھیل سے اپنی بچی کو متعارف کروایا۔ رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کارٹونس کو چھوڑ کر گھر کی بڑی بچی شطرنج کھیلنے لگی اور یوں بڑی بہن کو دیکھ کر کر چھوٹا بھائی یعنی کہ پراگنندھا بھی شطرنج کے کھیل میں دلچسپی لینے لگا اور آج پورے ہندوستان کی نظریں اس نوجوان پر لگی ہوئی ہیں۔ اوریہ رات کو ٹورنامنٹ کھیل کر بڑی آسانی کے ساتھ اپنے صبح کے اسکول ایگزام کو نظر انداز کرسکتا تھا لیکن تعلیم اور کھیل کو، تعلیم اور شوق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے وہ اس کم عمر نوجوان سے سیکھا جاسکتا ہے۔

ریاست تلنگانہ میں ایس ایس سی کے امتحانات کا آغاز اس برس 23؍ مئی سے شروع ہوئے تھے۔ جس میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ تحسین فاطمہ (نام تبدیل) ایک گورنمنٹ اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں اور اس ناطے وہ ایس ایس سی کے ایک متحانی مرکز کی نگران بھی تھیں۔ اس برس امتحان کی ڈیوٹی کے دوران اپنے مشاہدے کے متعلق وہ بتلاتی ہیں کہ ایس ایس سی کے امتحانات کے دوران ایک دن وہ اپنے سنٹر پر موجود تھیں جہاں ایک طالبہ کو صرف پانچ منٹ کی تاخیر سے آنے پر امتحان ہال میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔لڑکی مسلسل روئے جارہی تھی اور جب اس کو دلاسہ دینے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلاکہ رات میں شادی کی دعوت سے واپسی پر اتنی تاخیر ہوگئی کہ صبح وقت پر کسی کی آنکھ نہ کھلی اور جب تاخیر ہونے کی وجہ سے بغیر ناشتہ کیے بچی اپنے والد کے ساتھ امتحان سنٹر پر بھوکے پیٹ پہنچتی ہے تب تک امتحان شروع ہوچکا تھا۔

محترمہ تحسین فاطمہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں میں تعلیم کی اہمیت کے متعلق سوچنا ہوگا۔ ہمارے لیے دعوتیں اتنی اہم نہیں ہونی چاہئیں۔ ہمارے لیے اپنے بچوں کی تعلیم ان کا مستقبل اہم ہونا چاہیے۔

قارئین کرام مثالیں چیزوں کو سمجھانے کے لیے دی جاتی ہیں نہ کہ برابری کے لیے۔ ذرا اندازہ لگایئے کہ 35 برس میں ایک نوجوان ایم ایل اے بن جاتا ہے اور اپنی ماں کے جھاڑو لگانے کی نوکری پر فخر کا اظہار کرتا ہے کہ اس ماں کی محنت کی کمائی پر میں بڑا ہوا ہوں۔ مجھے اپنی ماں کی محنت اور اس کی نوکری پر فخر ہے اور ہمارے ہاں اپنے والدین کی محنت مزدوری پر بچے شرماتے ہیں۔

ٹیلی ویژن کے پروگرامس اور میڈیا کس طرح لوگوں کی زندگی خراب کر رہا ہے اس کا اندازہ سوشیل کمار کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو کہ 25؍ جون 2022ء کو ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں شائع ہوا ہے۔ سشیل کمار نے امیتابھ بچن کی میزبانی میں ہونے کون بنے گا کروڑ پتی کے پانچویں سیزن میں 5 کروڑ روپئے جیتے تھے۔

سشیل کمار یہ گیم شو جیتنے سے پہلے بڑی سنجیدگی کے ساتھ سیول سروسس کی تیاری کر کے آئی اے ایس آفیسر بننا چاہتے تھے لیکن کے بی سی میں شرکت اور 5 کروڑ جیتنے کے بعد نہ تو وہ آئی ایس بن سکے اور نہ ہی 5 کروڑ کا صحیح سے استعمال کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈیا کیا کہے گا کی چکر میں ان کا وقت اور پیسے دونوں ہی برباد ہوگئے۔

ذرا توجہ دیں ہمارے معاشرے پر جہاں پر محنت کر کے کمانے کو معیوب بنادیا گیا ہے۔ نوجوانوں کے پاس پٹرول کمانے کی سکت نہیں اور انہیں لاکھوں کی گاڑی چاہیے۔ نوجوانوں کا تعلیمی مظاہرہ خراب ہے اور انہیں اپنے جیب میں رکھنے آئی فون چاہیے۔ والدین اسکول، کالجس میں داخلہ دلواکر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری تعلیمی اداروں کو سونپ رہے ہیں اور تعلیمی ادارے تجارت کرنے میں مصروف ہیں۔ نتیجہ میں ہمارے نوجوان دنیا کے آگے تماشہ عبرت بن رہے ہیں۔ مالک دو جہاں سے دعا ہے کہ وہ ہمارے آنکھیں بند ہونے سے پہلے پہلے ہمیں اپنی اولاد کی تربیت اور اکل حلال کے متعلق اپنے نقطہ نظر کو سدھارنے کی توفیق عطا فرمادے۔ آمین۔ یارب العالمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button