سیاسی و مذہبی مضامین

ٹیپو سلطانؒ کا حکومت ِنظام

ایم ۔ریحانہ پروین ‘ ناہید ؔ ۔اردو لکچرر ـ‘ شعبہ اردو

ٹیپو سلطانؒ کا حکومت ِنظام

آج دنیا مسلما نوں کو فر سودگی و پسماندگی کا طعنہ دے رہی ہے ہر جگہ انہیں بدنا م کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا کی تا ر یخ ہمارے کارناموں اور تجربوں سے بھری پڑی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیا د کا سحرا مسلم محققین کے سر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک کہ جنگوں میں استعمال ہونے والے اہم تر ین ہتھیار راکٹ اور میزائل کی ایجا د بھی ایک نامور مسلما ں جنرل نے کی ۔وہ مسلم جنرل کوئی اور نہیں بلکہ شیرِمیسور ٹیپو سلطان ؒہیں ۔

ٹیپو سلطان ؒکی ولادت :

ٹیپو سلطانؒ ایک عظیم مجا ہد ـ‘ غیرت و حُمیت کا مجسمہ ‘ نہ صرف آزادی اور اتحاد کا علم بردار ‘ بہترین منتظم ‘ مذہب کا پا بند اور روادار ‘ علم و دانش کے قدر دان تھے ۔ ٹیپو سلطا ن ؒجنوب کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے آزادی کی پہلی شمع جلائی ۔ٹیپو سلطانؒ کے والد حیدر علی کی دو بیو یا ں تھیں ۔ ان کی پہلی شادی ۱۹ سال کی عمرمیں صوبے سرا کے ایک پیر زادہ سید شہبا ز شاہ میاں کی دختر سے ہو ئی تھی جبکہ دوسری شادی کچھ عرصہ بعد کڑپہ کے گور نر معین الدین خاں کی لڑکی فاطمہ بیگم المعروف فخرالنساء سے ہوئی تھی ۔ اسی خاتون کے بطن سے ہندوستان کے بہار شیر نے جنم لیا ۔

ٹیپو سلطانؒ کی پیدائش ۲۰ نو مبر ۱۷۵۰ ؁ ء کو کولار کے شمال مغرب میں بنگلور سے ۳۳ کلیو میٹر دور دیو ان ِہلی نامی قصبے میں ہوئی ۔ حیدر علی کو فرزند کی خواہش تھی ۔اس لئے انہوں نے مستا ن شاہ ٹیپو کی درگاہ میں حاضرہوکر اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کی دعا قبول کی ۔ اسی وجہ سے حیدر علی نے اپنے بچے کا نام اسی بزرگ کے نام پر ٹیپو اور اپنے والد فتح محمد علی رکھا جو آگے چل کر ٹیپو سلطانؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔

ٹیپو کا بچپن :

ٹیپو سلطانؒ کو بچپن سے ہی کئی زبانوں میں علم حاصل کرنے کا موقع انکے والد کی بدولت ملا ۔ٹیپو کو علم کی دولت سے نوازا۔ٹیپو سلطانؒ جب پانچ برس کے ہو ئے تو اس زمانے کے رواج کے مطابق حیدر علی نے اپنے فرزند کی تعلیم کا بندوبست کیا ۔قرآن شریف ، عربی ‘ فارسی زبان دانی کے لئے معلم مقرر کیئے ۔ٹیپو ذہین تھے ۔ جو ہرعلوم و فنون میں بہت جلد ماہر ہو گئے ۔ٹیپو سلطانؒ ایک کثیر لسانی فرد تھے ۔

وہ کنڑا ‘ تلگو ‘ مراٹھی ‘ عربی ‘ فارسی ‘ اردو اور فرانسسی زبان میں عبور رکھتے تھے ۔اس زمانے ضروریات کے مطابق ٹیپو کو جنگی فنون ‘ شہسواری ‘ تیر اندازی ‘ سپہ گری وغیرہ کی تربیت کے لئے انگریزوں اور فرانسیسی ماہرین کو مقررکیا تھا۔ ٹیپو کو گھوڑسواری کا بہت شوق تھا ۔

ٹیپو بچپن سے اپنے والد کے ساتھ جنگی مہموں میں شرکت کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیپو ۱۶تا ۱۷ سال کی عمر میں ایک قابل سپاہی اور لائق افسر بن گئے تھے۔

تخت نشینی :

حیدر علی کی وفات کے بعد خدادا د سلطنت کے جا نشین فتح علی ٹیپو سلطان ۱۷۸۲ ؁ ء میں تخت ِ نشین ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر ۳۲ سال تھی ۔وہ ایک تجربہ کار سپہ سالار تھے۔ جس وقت وہ تخت نشین ہوئے انہوں نے اپنے دربار میں ایک ولولہ انگیزتقریر کی ۔ ملا حظہ فرمائیں

’’ میں ایک حقیر انسان ہوں ۔ میری حکومت اور وجاہت بھی مٹنے والی ہے ‘ میری زندگی بھی نا قابل ِ اعتبار ہے ۔ تاہم میرا فرض ہے کہ جب تک زندہ رہوں ۔وطن کی حفا ظت اور آزادی کے لئے جہاد کرتا ہوں ۔ہزاروں آدمی وطن کے لیے موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں لیکن حُب ِ وطن کے جذبات کبھی نہیں مٹ سکتے ۔ ‘‘

( شیر ہندوستان ٹیپو سلطان ؒچند تاریخی حقائق ‘ سید خورشید مصطفٰی رضوی ‘ ص ۔۴۶)
ایک امیر اعتماد المک کا بیان ہے کہ اس وقت سلطان پر وجد طاری تھا اور وہ جھوم جھوم کر کہتے تھے ۔
’’ اے میرے پیارے ہندوستان میری محبت اور میرا دل تیرے لیے ہے ‘ میری حیات اور میرا وجود تیرے لیے ہے۔

میرا خون اور میری جان تیرے لیے ہے ۔ ‘‘
( شیر میسور ‘ مولفہ قصر مصطفٰی ۔ص ۔ ۴ )
محمد عبدالقادر ادیب ( بنگلور ) کے چند اشعار ملا حظہ ہوں ۔
ٹیپو کے تصوّر کی تصویرجہاں ہوگی
تلوار کی عظمت کی تو قیروہاں ہوگی
ٹیپو سے عقیدت جب ہر دل میں جواں ہوگی
چنگیز فضا میں بھی بھارت کی اماں ہوگی
جب یاد شہادت کی ہر دیش منائے گا
ٹیپو کی جواں مردی دنیا پہ عیاں ہو گی

ٹیپو جیسے دلیرانہ عظیم با دشاہ کی پو ری زندگی مسلسل جدوجہد میں گزری اور وہ اپنی جان اور جسم کے ہر ایک لہو کے قطرے میں آزادی کا ایسا جوش بھر دیئے تھے جوسامنے والے دشمنوں کو دھول چٹا دئے وہ بہادر سلطا ن تھے۔

زہُد و تقویٰ :

خوفِ خدا جب انسا ن میں آجائے تو ہر گناہ سے پاک ہو جاتا ہے جب تک وہ اپنے اندر زہُد وتقویٰ کا قائل نہ ہو جائے اس وقت تک اچھے برے کی تمیز سے وہ پرے رہتا ہے ۔ اس لئے سب میں خوف خدا رہنا ضروری ہے۔

ٹیپو سلطانؒ ایک پر ہیز گار تقویٰ پرست انسان تھے ۔وہ ہر وقت با وضو رہتے ۔ان کا روزانہ معمول یہ تھا کہ بعد از نمازِفجر طلوع ِ آفتاب تک قرآن ِ شریف کی تلاوت فرما تے اور زندگی ہر فیصلہ قرآن کی روشنی میں لیتے تھے ۔وہ اس قدر تقویٰ پرست تھے کہ ان کے سونے اور بیٹھنے والی کمروں کی دیواروں پر آیاتِ قرآنی نقش تھے اور یہ تمام آیات قرآنی جہاد سے متعلق تھیں ۔نماز کی وہ سختی سے پابندی کرتے تھے۔ جب کہ ایک وقت مسجد اعلیٰ کے افتتاح کے وقت سوال کیا گیا کہ پہلی نماز وہ پڑھا ئے گا جو صاحبِ ترتیب ہو (یعنی جس نے کبھی کوئی نماز قضاء کی ہو )توسب لوگ جو حاضر تھے خاموش ہو گئے اور جب کوئی بھی صاحبِ ترتیب نہ نکلا تو ٹیپو سلطان ؒنے خود آگے بڑھ کرکہا ۔الحمداللہ ! میںاپنے والد کی تر بیت اور اساتذہ کے فیضان سے صاحبِ تر تیب ہو ں چنا نچہ پہلی نماز کی اما مت خود ٹیپو سلطانؒ نے کی ۔
اگر اس طرح کا زہُد و تقویٰ ہماری نسلوں میں بھی پیدا ہوجا ئے تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل سنور جائے گا۔

نظام ِ حکومت :

اٹھارویں صدی وہ آخری زمانہ تھا جس میں ٹیپو سلطا ن ؒنے اپنی حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ٹیپو سلطانؒ ایک اعلیٰ منتظم تھے اوراپنے نظامِ حکومت میں مذہبی رواداری اور اسلام کے قوانین کے مطابق عمل پیرا تھے۔

انھوں نے اپنی سلطنت میں تہذیب وثقافت ‘ علم و ادب ‘ صعنت و حرفت ‘ تجارت وزراعت اور فوجی شعبے کو حیرت انگیز طور پر فروغ دیا ۔انھوں نے اپنے دور میں شراب نوشی ‘بد کاری اور دیگر غیر اخلاقی و سماجی برائیوں کا خا تمہ کردیا تھا ۔

ٹیپو سلطانؒ وہ پہلے حکمراں تھے جنھوں نے فر سودہ جا گیر داری نظام سے نجات دلائی اور صدیوں سے رائج شدہ نظام کا خاتمہ کردیا ۔ ان کے انتظامی امور میں وہ خود اپنے افسروں کی رائے ہر معاملے میں طلب کرتے تھے ۔ایک انگریز مورخ ڈوڈویل کے بیان کے مطابق ؛

’’ ٹیپو پہلا فرماں روا تھا جس نے اپنے نظم و نسق میں مغربی طور طریقے داخل کیے ۔‘‘

ٹیپو سلطان ؒنے ہر شعبے میں نظم و ضبظ کو قا ئم رکھنے کی کو شش کی ۔اس دور میں کسانو ں کو خوشحالی ‘ اتحاد اور رعایا کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔

ٹیپو نے اپنی خدادا سلطنت کے انتظام کے لیے کئی کارنا مے کیئے جو کا فی کار آمد ثابت ہو ئے اور جس کا انتظام رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے کیا گیا ۔ وہ یہ ہیں ۔۱۔ جاگیرداری کا خاتمہ ۲۔ تمام فاضل زمین کی کسانوں میں تقسیم ۳۔ زراعت اور مویشی پروری ۴۔ دیسی صنعتوں کو فروغ ۵۔ کیبینٹ کا قیام ۶۔ اردو کا عملی نفاذ ۷۔مالدیپ میں بحری اڈوں کے قیام کی کوشش اور بحری بیڑے کی تیاری ۹۔دفاعی آلات کی تیاری ۱۰۔ بیکاری کا خاتمہ ۱۱۔ فوج کی جدید خطوط پر تنظیمیں وغیرہ ۔

سماجی و معاشرتی اصلاحات کے ضمن میں سلطان نے پنچایتی نظام کو دوبارہ جاری کر کے لوگوں کو سستا اور آسان انصاف مہیا کروایا ۔

فوج کی بہتری اور اس کے انتظام کے لئے اصلاح سازی کے کارخانے قائم کیے گئے۔جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ راکٹ تیار کئے گئے ۔ فوج کی تعداد بڑھا کر تین لاکھ کردی گئی ۔۲۳سپہ سالار اور تین نائب سپہ سالار مقرر کئے گئے ۔نئے نئے فوجی قوانین اور ضوابطے نافذکئے اور فوجی ڈسپلین کو یقینی بنا یا گیا۔

ٹیپو سلطان ؒنے اپنی رعایا کی فلاح و بہبودی کے لئے جا گیر دارانہ نظام کو ختم کر کے لگا ن کو براہ ِ راست حکومت کو دینے کا انتظام اس شرط پر کیا کہ اگر پیداوار ہو تو لگان ادا کیا جائے ۔
تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کے لئے ٹیپو سلطان نے مسقط ‘ ترکی ‘ فرانس وغیرہ سے تعلقات قائم کیئے۔ ریشم کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے کاریگربلائے۔ علادہ ازیں ایک تجارتی کمپنی قائم کی جس کے حصّے( شیرز) ہر شخص خرید سکتا تھا ۔جس کے چلتے حکومت میں خوشحالی ‘ تجارت وزراعت بامِ عروج پر تھی ۔ٹیپو سلطان ؒنے دریائے کا ویری پر ایک ڈیم کی بنیاد رکھی تھی جہاں بعد میں ہندوستان کی حکومت نے کرشنا راجہ ساگر ڈیم بنا یا ۔ انہوں نے نہایت خوبصورت لال باغ کی تعمیرکی ۔ اعلیٰ سڑکیں ‘ عوام کی ضروریات کی عمارتیں ‘ کیرلا ساحل پر کئی بندرگاہیں تعمیر کیئں ۔

ٹیپو سلطان ؒنے جہاں اپنی خدادادسلطنت کا ایک بہترین انتظام کیا وہیں انکی نگاہوں نے غلامی کے وہ اندھیرے دیکھ لیے تھے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کی غرض سے یہاں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے ۔اس لئے انہوں نے دیسی ریاستوں کے اتحاد کی بھرپورکوشش کی ۔
ٹیپو سلطانؒ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوگئے تھے کہ انگریز پورے ہندوستان پر قبضہ کرنے کا جو اب دیکھ رہے ہیں ۔انگریزوں نے عوام کو ٹیپو سلطان ؒکے خلاف بھڑکا نے کے لئے ٹیپو کے جذبہء خلوص اور جرات ایمانی اور حب الوطنی پر تو سیع پسندانہ حکمراں ہونے کا الزام تک لگا دیا ۔

انگریزاپنی قدیم پالسی لڑاؤاور حکومت کرو پرعمل کرتے ہوئے بعض مخلص حکمرانوں کو بھی ٹیپو سلطانؒ سے بر گشتہ کر دیا ۔ انگریزوں کو ٹیپو سلطانؒ سے جنگ کرنے پر جب پے در پے شکست ہوئی تو پھر انہوں نے اپنی روایتی عیاری کا مظاہرہ کیا اور ایک انگریزکو صوفی منش درویش کے لباس میں میسور بھیجا جس نے سلطان کے خلا ف بھڑکا نا شروع کیا اور ٹیپو سلطان کے بڑے بڑے افسروں کو بھاری رشوتیں دے کر ورغلایا ۔

ہر قوم میں کوئی نہ کوئی غدار ہو تا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کا تخت الٹ دیتا ہے ۔یہی اس اسلامی سلطنت کے ساتھ ہوا کہ ان کے غداروں کی وجہ سے ٹیپو سلطان ؒ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے غداروں کی فہرست میں میر قاسم علی‘ میر غلام علی لنگڑا ‘
اور ان کی اتحاد ی افواج نے سریر نگا پٹم کا محاصرہ کرلیا ۔ٹیپو سلطان ؒہمیشہ فتح یاب ہوتے آئے مگرمیسور کی چوتھی لڑائی میں میسور کے دفا ع کی طرف توجہ نہ دے سکے تب جنرل ہیرس نے ملولی کے مقام پر شکست دی ۔ جہاں ان کے غداروں باعث سلطان کا وفادار سپہ سالار محمد رضاخان بھی ہلاک ہوگیا ۔ٹیپو سلطانؒ غداروں میں گھرے ہوئے تھے ۔ ان کے بہت سارے ساتھی حوصلہ ہار گئے اور انگریزوں کی طرف ہو گئے۔ کچھ وفادار فرانسیسی افسران نے سلطان کو مشورہ دیا کہ قلعہ انگریزوں کے حوالے کرکے صلح کرلی جائے تب ٹیپو سلطان ؒنے کہا کہ یہ ہماری روایت کے خلاف ہے ۔اب سلطان چند سپاہیوں کو ساتھ لے کر لڑرہے تھے ۔ایک امیر نے مشورہ دیا کہ زندگی بچا لو ‘ خود کو ظاہر کر دو اس موقع پر ٹیپو سلطان ؒنے یہ یادگا ر جملہ کہا تھا

’’ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ۔ ‘‘

ٹیپو سلطان ؒ کی شخصیت‘ ان کے مجاہدانہ کارناموں اور ان کی حکمرانی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ میں بہت کم شخصیات اتنی ہمہ گیر اور ہمہ صفت خوبیوں کی حامل ہوتی ہیں ۔

آخر کا ر یہ مجاہد انہ شمع ۴ مئی ۱۷۹۹؁ ء کو جنگ میں انگریزوں سے لڑتے لڑتے بجھ گئی ۔
مشتاق احمد بھٹی کے چند اشعار ملا حظہ ہوں
نوجواں مسلم ذرا تاریخ کے اوراق دیکھ
گل کھلا تی ہے عجب کیا گردش ِ آفاق دیکھ
دیکھ کیوں نذرِخزاں تیرا گلستاں ہو گیا
کس طرح شیرِازۂ ملت پریشاں ہو گیا
روح ٹیپو کر رہی ہے اس جواں کا انتظار
عظمتِ اسلا م کو جو کر دے جہاں پر آشکار

ایم ۔ریحانہ پروین ‘ ناہید ؔ
اردو لکچرر ـ‘ شعبہ اردو
یوگی ویمننا یونیورسٹی ‘ کڑپہ
آندھراپردیش ۔516001
email id ; reehanamuneer6@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button