سیاسی و مذہبی مضامین

فیضان زکی

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!

توفیق الٰہی سے حضرت مسیح الامت وحضرت حاذق الامتؒ اور پیر ومرشد حضرت حبیب الامت نور اللہ مرقدہ کی برکتوں سے عرض کرتا ہوں: انبیائے کرام  کے دنیا میں آنے اور ساری زندگی جدوجہد کرنے کا ایک مقصد لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرنا ہے۔اسلامی معاشرہ کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنے، ترقی دینے، اسے امن وسکون سے معمور کرنے اور پاکیزہ بنانے میں جن باتوں کی بنیادی اہمیت ہے ان میں سب سے پہلی بات عدل وانصاف کے نظام کا قیام ہے، انبیائے کرام o کے دنیا میں آنے اور ساری زندگی جدوجہد کرنے کا ایک مقصد لوگوں میں عدل وانصاف قائم کرنا ہے، اس حوالے سے ارشادِ ربانی ہے ’’اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی وبے حیائی، ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو‘‘۔ (سورۃ النمل)

اس آیت میں ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا دار ومدار ہے، ان تینوں باتوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے ایک اور آیت کا ترجمہ ومطالعہ مفید رہے گا اور اس آیتِ کریمہ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’ہم نے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے منافع ہیں‘‘۔ (سورۃ الحدید)

یہ تینوں چیزیں رسولوں کی رسالت پر صاف صاف نشانیاں ہیں، کتاب، ہدایت اور میزان ان تینوں چیزوں کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام   کو جس مقصد کے لئے بھیجا گیا وہ یہ تھا کہ دنیا میں انسان کا رویہ اور انسانی زندگی کا نظام انفرادی بھی اور اجتماعی طور پر بھی عدل پر قائم ہو۔ ایک طرف ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کے حقوق، اپنے حقوق اور تمام بندگانِ خدا کے حقوق کا بیان ہے جس سے انہیں کسی طرح بھی سابقہ پیش آتا ہے، بندہ انہیں ٹھیک ٹھیک جان لے اور پورے انصاف کے ساتھ انہیں ادا کرے،

دوسری طرف اجتماعی زندگی کا نظام ایسے اصولوں پر تعمیر کیا جائے جن سے معاشرے میں کسی نوعیت کا ظلم باقی نہ رہے، تمدن وتہذیب کا ہر پہلو افراط وتفریط (کمی وبیشی) سے محفوظ ہو، اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں صحیح توازن قائم ہو اور معاشرے کے تمام عناصر انصاف کے ساتھ اپنے حقوق پائیں اور اپنے فرائض ادا کریں۔ عدل کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے، ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو، دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ’’انصاف‘‘ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے، اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسم حقوق کے سمجھ لئے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے، دراصل عدل جس چیز کا تقاضہ کرتا ہے وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری ومساوات، بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افراد اور معاشرے میں مساوات چاہتا ہے۔

مثلاً حقوق شہریت میں، مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلافِ عدل ہے، مثلاً والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی واخلاقی مساوات اور اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کمتر درجے کی خدمت ادا کرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات، پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن وتناسب ہے اور اس حکم کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر شخص کے اخلاقی، معاشی، قانونی اور سیاسی وتمدنی حقوق پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کئے جائیں۔

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!

توفیق الٰہی سے حضرت مسیح الامت وحضرت حاذق الامتؒ اور پیر ومرشد حضرت حبیب الامت نور اللہ مرقدہ کی برکتوں سے عرض کرتا ہوں: ۲۰۱۰ء؁ میں رمضان المبارک سے قبل زیارتِ حرمین شریفین کے لئے حاضر ہوا تو ایک اجلہ اور مرنجا ومرنج شخصیت جو سیرت وکردار میں یکتائے روزگار ہیں، بات کریں تو منھ سے پھول جھڑیں، گفتگو میں سلاست، روانی، اخلاص وللہیت سے پُر، بصارت اور بصیرت سے معمور، چہرہ متبسم، صلح کا نور دمکتا ہوا محسوس کیا جاسکتا ہے،

جید عالمِ دین عدل وانصاف کے سرکاری محکمہ میں آفیسر، مدینۂ منورہ کے قیام اور آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں، میری مراد ہے حضرت مولانا مفتی عاشق الٰہی قاسمی دامت برکاتہم گورکھپوری ثم مدنی کی ذاتِ گرامی۔ مدینہ منورہ میں بار بار آپ سے ملاقات پھر واپسی پر مکۃ المکرمہ میں بھی شرفِ نیاز حاصل ہوا، (اس وقت ایک نوجوان خوش خصال تاجر صادق مہمان نواز اہل اللہ اور علماء واکابر سے محبت کرنے والے محترم جناب الحاج وہاج الدین انصاری جدہ بھی ساتھ تھے) ان حضرات کی کریمانہ گفتگو، تعلق، محبت، مودت سے قلبی مسرت ہوئی۔

اللہ تعالیٰ حضرت مفتی عاشق الٰہی صاحب مدظلہ العالی کی ذاتِ گرامی کو مرجع خلائق بنائے، آپ میں بہت سے اوصاف اور خوبیاں ہیں جن سے بہت سے احباب اور اعزہ واقف نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کی عمر اور علم وعمل میں برکت عطا فرمائے، اور اپنی رضا نصیب فرمائے، مجھ سیاہ کار کو بھی بار بار دربارِ نبوی e میں حاضری کی سعادت اور ان حضرات کی ہم نشینی نصیب فرمائے، آمین۔

پیکرِ اخلاق قاری خلیق اللہ صدیقی مکی 

میرے دیرینہ رفیق محترم حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب قاسمی مدظلہ خطیب مسجد معمور کورمنگلا بنگلور کے صاحبزادہ محترم جناب مولانا کلیم اختر قاسمی زید قدرہ کے نکاحِ مسنونہ کی تقریب کے دوران مسجد نبوی میں حضرت مولانا مفتی عاشق الٰہی صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات ہوئی، آپ صاحبِ علم وعمل بھی ہیں اور امت کے لئے آپ کی فکریں قابل قدر ہیں، مدرسہ صولتیہ مکۃ المکرمہ کے استاذ محترم ہیں، آپ کو طب یونانی سے کافی شغف ہے، مکۃ المکرمہ میں دورانِ قیام بہت سے نسخہ جات، مجربات اور آسان فارمولے بھی لائے، بندہ کو نہایت خوشی ہوئی کہ ابھی ایسے صاحبِ دل اور بے نفس حضرات موجود ہیں جو امتِ مسلمہ کی جسمانی اور روحانی، علمی وعملی خدمات کی اس قدر فکر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت قاری محمد خلیق اللہ صدیقی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کی عمر میں برکت نصیب فرمائے، آپ اکابر اور بزرگوں کے قدیم چہروں میں سے ہیں، آپ حسنِ اخلاق کے پیکر ہیں، ایسے حضرات ہی امت کا سرمایہ ہوتے ہیں، جن کی زندگی دوسروں کیلئے زیادہ اور اپنے لئے کم ہوا کرتی ہے۔

اہل اللہ کی شان

حافظ ابن رجب کی ’’ذیل طبقات الحنابلہ‘‘ میں امام ابوالوفا علی بن عقیل الحنبلی البغدادی، قاری، فقہ، اصولی واعظ، متکلم صاحب علم وفن، ائمہ اسلام کے سر برآوردہ، دنیا کے ممتاز ترین عالم، بنی نوعِ انسان کے ذہین ترین انسان (ولادت ۴۳۱ھ؁ وفات ۵۱۳ھ؁) کی سوانح میں آیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے لئے جائز نہیں کہ میں زندگی کا ایک لمحہ ضائع کروں، جب تک میری زبان مذاکرہ ومناظرہ سے گنگ نہ ہوجائے اور میری نگاہ مطالعہ سے معطل نہ ہوجائے، رات کی تاریکی میں جب میں راحت کررہا ہوں اس وقت بھی اپنی فکر کو میں لاتا ہوں اور اس وقت اٹھتا ہوں جب میرے دل میں وہ چیز مجھ کو لکھنی ہوتی ہے، مختصر ہوجائے۔

(ماخوذ از انوار طریقت جلد دوم مولفہ حضرت حبیب الامت h صفحہ: ۱۴۲تا350) ٭

متعلقہ خبریں

Back to top button