سیاسی و مذہبی مضامین

” آج کل کی شادیاں اور چند سوالات "

شادی میں باراتی کتنے ہونے چاہیے ؟

شادی تو سادگی سے کرنے کا حکم ہے ہمارے نبی صلہ علیہ وسلم کی بہترین سنت ہے ۔اسلام میں نکاح محض جنسی لذت کا ذریعہ یا حصولِ مال ودولت کا طریقہ نہیں ہے؛ بلکہ اسلام نے نکاح کو پاکدامنی کا ذریعہ قرار دیا ہے، نیز نکاح شریعت کی نگاہ میں ایک طرح کی عبادت بھی ہے، ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نواجوانوں کے گروہ! تم میں جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہے، اس کو نکاح کرلینا چاہیے؛ کیوں کہ نکاح آنکھوں کو پست رکھنے اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ نکاح کرلیتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہوجاتا ہے، اب اس کو چاہیے کہ باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا رہے۔

ہم جس ملک میں رہتے اس ملک کا Culture ہمارے اندر رس بس گیا۔ ورنہ غیروں کی شادیوں میں اور ہماری شادیوں میں فرق کتنا ہے ؟ ہلدی ، مہندی ، منڈپ ، باراتی ان سب کا اسلام میں کہاں ذکر ملتا ہے ؟یہ سب غیروں کی رسم ورواج کو ہمارے آبا و اجداد نے اپنایا تھا جو چلا آرہا ہے ۔

1)شادی میں باراتی کتنے ہونے چاہیے ؟

شادیوں میں باراتی کیوں ہونا چاہیے؟ سوال یہ ہے کہ ہم سب سماج میں رہتے ایک دوسرے سے تعلقات ، دوست، رستے دار ان سب کے ساتھ ہمارا میل ملاپ ہے ہم یہ سوچتے ہے کہ ہم کو سب پوچھتے ہے بلاتے ہے شادیوں میں دعوت کھائے ہے اب اگر ہم نہیں پوچھے گے تو یہ سب لوگ ناراض ہو جائے گے ۔ اس لئے ہم کو جن لوگوں نے دعوت دی ہے ان کو بلانا ضروری پھر تعداد کا اندازه نہیں۔ کتنی ہو۔

2)عورتوں کا بارات میں جانا ضروری ہے ؟

عورتوں کا شادیوں میں جانا بلکل ضروری نہیں پردے کا حکم ہے لیکن پھر بھی عورتوں کے بغیر آج شادیاں ادھوری ہے وہی مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے ۔

3)شرعی حکم کیا ہے ؟

شرعی حکم تو یہ ہے کہ شادی میں دولہا ، دلہن اور دو گواہ ، اور وکیل ان کے سامنےحجاب قبول تو ہوگیا نکاح –

شادی میں دلہن سے ملنے کے بعد دوسرے روز ”ولیمہ“ کرنا مسنون ہے، اللہ کے رسول نے خود بھی ولیمہ کا اہتمام کیا، نیز صحابہٴ کرام کو بھی اس کی ترغیب دی؛ لیکن ولیمے کے لیے لمبی چوڑی دعوت اور بڑے انتظام کی ضرورت نہیں ہے، اللہ کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ام الموٴمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں جو ولیمہ کیا اس میں حاضرین کو نہ تو گوشت کھلایا گیا اور نہ روٹی؛ بلکہ ایک دسترخوان بچھادیا گیا اور رفقائے سفر میں اعلان کرادیا کہ جس کے پاس جو کچھ سامان جمع ہو وہ لے آئے، کوئی کھجور لایا، کوئی پنیر، کوئی ستو، اور کوئی گھی لایا، جب اس طرح کچھ سامان جمع ہوگیا تو سب نے ایک جگہ بیٹھ کر کھالیا۔ (سیرة النبی: ۳/۳۴۵) الغرض شادی انتہائی سادے طریقہ پر ہونا چاہیے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ أَعْظَمَ النِّکَاحِ بَرَکةً أیْسَرُہُ مَوٴُنَةً (مسند أحمد: ۹۴۶) یعنی سب سے بابرکت شادی وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ کیا گیا ہو ۔
الطاف عطا اللہ خان ( مدرس)

سلیم اردو ہائی اسکول سیونہ ، اورنگ آباد

متعلقہ خبریں

Back to top button