Tunisia Crisis: صدر قیس سعید نے تیونس کی پارلیمنٹ تحلیل کر دی
ارکان پارلیمان پر ’’سازش‘‘ کا الزام
تیونس، 31؍مارچ (اردو دنیا.اِن/ایجنسیاں)تیونس کے صدر قیس سعید نے اعلان کیا ہے کہ وہ معطل شدہ پارلیمنٹ کو مکمل طور پر تحلیل کر رہے ہیں۔ 217 رکنی یہ پارلیمان کافی عرصے سے غیر فعال تھی، مگر حالیہ دنوں میں 124 اراکین کی جانب سے ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے فوری رد عمل میں صدر نے ایوان کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایوان کے نائب اسپیکر طارق فتیتی کے مطابق، آن لائن اجلاس میں تقریباً 116 قانون سازوں نے صدر قیس سعید کے غیر معمولی اقدامات کے خلاف ووٹ دیا، جن کا مقصد جولائی سے جاری اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا تھا۔
قیس سعید نے قومی سلامتی کے سربراہوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کہا کہ یہ فیصلہ ایک ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد ملک اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے لیا گیا ہے۔ تیونس کے وزیر انصاف نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ تحلیل شدہ پارلیمنٹ کے ارکان کے خلاف "ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش” کے تحت عدالتی تحقیقات کا آغاز کریں۔
صدر نے آئین کی دفعہ 72 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ریاست کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے” اور یہ کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
پس منظر:
2011 میں زین العابدین بن علی کی معزولی کے بعد تیونس ایک جمہوری ملک کے طور پر ابھرا۔ اس کے بعد کے انتخابات میں اسلام پسند جماعت النہضہ پارٹی کو اکثریت ملی۔ 2019 کے صدارتی انتخابات میں قیس سعید نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور متعدد جماعتوں نے ان کی حمایت کی۔
تاہم، 2021 میں انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم ہشیم مشیشی کو اچانک برطرف کیا اور پارلیمنٹ کو معطل کر دیا۔ وہ صدارتی احکامات کے ذریعے مسلسل اختیارات میں اضافہ کرتے رہے، حتیٰ کہ عدلیہ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا۔
موجودہ صورت حال:
تیونس اس وقت سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ تین حکومتوں کی تبدیلی، کورونا وائرس، اور معاشی بدحالی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ملک بے روزگاری کی بلند ترین سطح پر ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ نومبر 2021 میں حکومت نے آئی ایم ایف سے باضابطہ قرض کی درخواست کی تھی۔ حالیہ یوکرین جنگ نے خوراک کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔



