سیاسی و مذہبی مضامین

ادھو ٹھاکرے۔ ایکناتھ شندے اور شیوسینا بغاوت یا سازش -اے خان ممبئی

ممبئی کے سنئیر صحافی سعید حمید نے مسلم لیگ اور شیوسینا اتحاد کے تناظر میں یہ بات کہی تھی کہ 1970میں بھیونڈی میں فساد ہواتھا جس میں شیوسینا شامل تھی ۔اس وقت اسمبلی ممبر بنات والا نے پارلیمنٹ ہاؤس میں 1970 کے فساد کے خلاف آواز اٹھائی اور شیوسینا کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس کے باوجود 1978 میں مسلم لیگ اور شیوسینا میں اتحاد ہوا۔بال ٹھاکرے اوربنات والا ایک اسٹیج پر آگئے۔ہرا اور زعفرانی حیرت انگیز اتحاد پر نہ ہی مسلم لیگ اور نہ ہی شیوسینا نے مخالفت میں کوئی آواز اٹھی کہ یہ کیسا اتحاد ہے۔ممبئی کے مستان تالاب کے میدان میں بنات والا اور بال ٹھاکرے نے ایک ہی اسٹیج سےتقریر کی۔ اس کے بعد نیا نگر میرا روڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔مسلم لیگ کے بلا واسطہ سپورٹ سے کارپوریشن میں پہلی بار شیوسینا کا میئر بنا۔

1984 میں شیوسینا کی مسلم دشمنی سامنے آئی اور مسلم شیوسینا سے دور ہوتے چلے گئے۔مسلم علاقوں سے شیوسینا کا وجود ختم ہوگیا۔ بال ٹھاکرے کے بعد ادھو ٹھاکرے اور ادتیہ ٹھاکرے نے ہندوتوا نعرہ کے باوجودسب کو ساتھ لیکر اعتدال کی راہ پر کام کیا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمان شیوسینا کے قریب ہوگے۔ساوتھ ممبئی کے کئی علاقوں میں جیسے مدن پورہ، ناگپاڑہ،بھیونڈی میں مسلمانوں نے شیوسینا جوائن کی۔اور مسلم علاقوں میں شیوسینا شاکھائیں کھلتی چلی گئی۔ادھو کے وزیر اعلی بنے کے بعد مسلمانوں کا رحجان شیوسینا کی طرف بڑھنے لگا۔2022میں شیوسینا باغیوں کی طرف سے این سی پی اور کانگریس کے اتحاد پر زبردست اعتراض کیا گیا اور بغاوت کی گئی۔1966میں شیوسینا بنی لیکن اس طرح کااعتراض اور اتنے بڑے پیمانے پر بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی۔

تجزیہ نگاروں سے بہت ساری باتیں منظر عام پر آرہی ہے۔ جیسے ای ڈی کا نوٹس،50کروڑ،بی آنے والے انتخابات کےلئے بی جے پی کی حکمت عملی،آر ایس ایس کے خیمے سے زعفرانی سیاست کی کوششیں وغیرہ۔بہر حال وقت آنے پر حقیقت بے نقاب ہوگی۔بی جے پی نے بیان دیا کہ شیوسینا کا اندرونی معاملہ ہے ۔ہمارا کوئی رول نہیں۔ہم دیکھو اور انتظار کرو کی صورتحال میں ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ باغیوں کی آؤ بھگت اور سورت سے گوہاٹی لیکر جانے کی ساری ذمہ داری بھاجپا ممبران سنھبال رہے۔ادھو ٹھاکرے کے استعفی کے بعد تو ہوٹل میں جشن نے ساری پول کھول دی۔

"ادھو نےلائیو فیس بک پر خطاب کیا کہ عام کارکنان جب تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ دوسروں کی تنقید کی پرواہ نہیں کرتے۔جو جانا چاہیے جائیں میں ایک نئی شیوسینا بناؤں گا۔”وقت بتاۓ گا آگے کیا ہوتا ہے۔ جاتے جاتے اپنی ہندوتوا چھپی برقرار رکھنے کے لئے اورنگ آباد کا نام بدل کر سنمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام بدل کر دھارا شیو رکھنے کی منظوری دیدی۔لیکن مسلم سماج کی ناراضگی پیدا ہوئی۔ حالانکہ اس سے پہلےشردپوار اور کانگریس نام کی تبدیلی کی حمایت میں نہ تھے۔ آخر جلد بازی میں جاتے جاتے یہ فیصلہ لینا آنے والے انتخابات میں ہندو ووٹ بینک کے لئے کیا گیا فیصلہ نظر آتا ہے۔

کورونا کے دور میں مہاراشٹر حکومت کی مثالی کارکردگی رہی اور اب تک اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر سرکار کے اچھی امیج رہی۔مہاراشٹر کی سیاسی گھمسان ختم ہوا۔ مہاراشٹر میں شندے کی سرکار بنی اور فڈنویس ڈپٹی چیف منسٹر بنا ۓ گے۔لیکن سیاست میں نیا موڑ آگیا ہے۔ فڈنویس نے 18ویں وزیر اعلی کے طور پر5 سال تک مہاراشٹر کی قیادت سنبھالی لیکن اب وہ ڈپٹی وزیر اعلی بناۓ گۓ۔ حالانکہ ان کے وزیر اعلی بنانے کی قیاس آرائیاں زورو پر تھی۔ بی جے پی خیمہ میں اب تک کے حالات گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنے پارٹی کے لوگوں کے ہاتھ میں ذمہ داریاں سونپتے ہیں۔باہر کے لوگوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔

مثال‌کے طور پر 2020 کے اسمبلی انتخابات میں ففٹی ففٹی یعنی ڈھائی سال فڈنویس اور ڈھائی سال ادھو ٹھاکرے کی سرکار رہ گئی۔اس بات پر سمجھوتہ نہیں ہوا۔ شردپوار کی سیاسی‌ حکمت عملی نے مہا وکاس اگھاڑی کو تشکیل دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلی کے عہدے تک پہنچایا۔بہر حال فیصلہ آ چکا ہے۔لیکن اس طرح سے دل بدل پالیسی نے کئی سوال کھڑے کیے۔جس پارٹی کے نام سےالیکشن لڑااور جیت حاصل کی۔بیچ میں اسے چھوڑ کر جانا اخلاقی اعتبار سے درست ہے؟

دل بدل کا چلن عام ہو جائے تو ووٹ کی کیا اہمیت رہ جائے گئ؟

سماج پر اس کے کیا اثرات ہونگے؟

اپوزیشن کو کسی بھی حال میں برداشت نہ کرنے کی جو پالیسی سامنے آئی ہے اور جس ڈھٹائی سے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں وہ جمہوریت پر داغ کے مترادف ہے۔

بقول شاعر۔۔‌

سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا کھبی درپن نہیں ملتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button