بین الاقوامی خبریںسرورق

برطانیہ کے نئے امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا اعلان، بیشتر غیر ملکیوں کو مستقل رہائش کے لیے 10 سال انتظار کرنا ہوگا

برطانیہ میں مستقل رہائش کا حق اب صرف قیام سے نہیں بلکہ ملازمت اور معاشی خدمات سے مشروط ہوگا۔

لندن، 3 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) برطانیہ میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنا اب پہلے سے زیادہ مشکل ہونے جا رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے بیشتر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کی بنیادی مدت پانچ سال سے بڑھا کر 10 سال کردی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مستقل قیام کا حق حاصل کرنے کے لیے درخواست گزاروں کی آمدنی، ملازمت، انگریزی زبان کی مہارت اور قومی بیمہ کی ادائیگی کو اہمیت دی جائے گی۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے 2 نومبر کو پارلیمنٹ میں نئے امیگریشن ضوابط کی تفصیلات پیش کیں۔ ان کے مطابق سالانہ 50,271 پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے افراد اور بعض سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر، نرسیں اور اساتذہ پانچ سال بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ سالانہ 125,141 پاؤنڈ سے زیادہ آمدنی رکھنے والے اعلیٰ کمانے والے افراد کے لیے یہ مدت تین سال ہوگی۔ دیگر بیشتر غیر ملکی ملازمین کو مستقل رہائش کے لیے 10 سال انتظار کرنا پڑے گا۔

سوشل کیئر کے شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ ایسے ملازمین جو اپنے ویزا کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کماتے ہیں، پانچ سال مکمل ہونے کے بعد مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے۔ یہ رعایت مئی 2025 سے پہلے اس شعبے میں آنے والے اہل ملازمین کے لیے ہوگی۔ اس سے قبل حکومت نے سوشل کیئر ورکرز کے لیے مستقل رہائش کی مدت 15 سال کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس پر لیبر پارٹی کے اندر بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔

حکومت کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان تقریباً ڈھائی لاکھ افراد اور ان کے زیرکفالت اہل خانہ سوشل کیئر ویزا کے تحت برطانیہ آئے تھے۔ ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی ملازمین ویزا کی مقررہ شرائط پوری نہیں کرسکے۔ ایسے افراد کو ایک اور پانچ سالہ ویزا حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ کسی قانونی اور مستند ادارے میں ملازمت حاصل کرکے مستقل رہائش کی شرائط پوری کرسکیں۔

نئے قوانین کے تحت مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والوں کو چار بنیادی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان میں صاف مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی زبان پر اعلیٰ سطح کی مہارت، برطانوی حکومت کے کسی بھی واجب الادا قرض کی عدم موجودگی اور کم از کم تین سال تک نیشنل انشورنس کی ادائیگی شامل ہے۔ ان شرائط پر پورا نہ اترنے والے افراد کو مستقل رہائش دینے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے بھی الگ ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں۔ برطانوی حکومت کے منظور شدہ محفوظ اور قانونی راستوں سے آنے والے پناہ گزین پانچ سال بعد مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے، جبکہ دیگر راستوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے یہ مدت 20 سال ہوگی۔ ملازمت یا تعلیم حاصل کرنے والے بعض اہل پناہ گزینوں کے لیے یہ مدت 10 سال تک محدود ہوسکتی ہے۔

غیرقانونی طریقوں سے برطانیہ میں داخل ہونے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کی مدت مزید طویل ہوگی۔ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے آنے والے یا دیگر خفیہ راستوں سے داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مستقل رہائش کا حق اب خودکار طور پر نہیں ملے گا بلکہ اس کے لیے درخواست گزاروں کو اپنی محنت، معاشی خدمات اور قوانین کی پابندی کے ذریعے اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق نئے نظام کا مقصد ایسے افراد کو ترجیح دینا ہے جو برطانوی معیشت اور عوامی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

نئے ضوابط کے تحت مستقل رہائش حاصل کرنے والے افراد کو برطانیہ میں غیرمعینہ مدت تک قیام، ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ مقررہ شرائط پوری کرنے پر سرکاری سہولیات اور برطانوی شہریت کے لیے بھی درخواست دے سکیں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پہلے سے مستقل رہائش حاصل کرنے والے افراد کا موجودہ قانونی حق برقرار رہے گا۔

نئے امیگریشن نظام پر برطانوی لیبر پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ انجیلا رینر سمیت متعدد لیبر رہنماؤں نے ابتدائی تجاویز پر اعتراض کیا تھا، خاص طور پر سوشل کیئر ملازمین کے لیے طویل انتظار کی مدت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرنے اور مستقل رہائش کے عمل کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق نئے ضوابط دسمبر 2026 سے امیگریشن قواعد میں شامل کرنے کا عمل شروع ہوگا اور 2027 کے دوران مرحلہ وار نافذ کیے جائیں گے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے پانچ سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!

تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں

متعلقہ خبریں

Back to top button