بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی,ٹرمپ کا اعتراف

میں انتخابات میں ہوتا تو ریپبلکن پارٹی لینڈ سلائیڈ کامیابی حاصل کرتی، ایران جنگ بھی شکست کی وجہ بنی

واشنگٹن، 4 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی تاریخی شکست کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ خود انتخابی میدان میں موجود ہوتے تو ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔ دوسری جانب انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ کو بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والی وجوہات میں شامل قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے شکست کی ذمہ داری اپنی جماعت کے بعض رہنماؤں پر ڈالتے ہوئے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کی بھی تعریف کی۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ وہ بیلٹ پر موجود نہیں تھے، اگر وہ انتخابات میں حصہ لیتے تو ریپبلکن پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے شکریہ۔

ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ سیاسی مبصر کا کردار اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کریں گے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اچھے اور برے دونوں انتخابی نتائج کے اسباب پر اپنی رائے پیش کریں گے۔

اس سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست میں جزوی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا، تاہم امریکی عوام ایران کے حوالے سے ان کے اقدامات کی اہمیت بھی سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر ڈیموکریٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مخالف جماعت نے مضبوط انتخابی مہم چلائی اور اچھا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں شکست پر شرمندگی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ادھر ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد امریکی صدر اور حزب اختلاف کے درمیان قانون سازی کے معاملے پر کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس پر کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وہ ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے قوانین کو ویٹو کردیں گے۔

نیویارک پوسٹ کے کالم نگار مرانڈا ڈیوائن کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتی تو وہ ہر قانون سازی کو ویٹو کردیں گے۔ یہ انٹرویو اخبار کے پوڈ کاسٹ ’’پوڈ فورس ون‘‘ میں جاری کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک پیشگی ویڈیو کلپ میں خود کو ’’مسٹر ویٹو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک یا دو ماہ تک مسلسل قانون سازی کو روکنے کے بعد ڈیموکریٹس کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ صدارتی ویٹو کے اختیار کو حزب اختلاف کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکی آئین انہیں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کی اجازت نہیں دیتا، حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنا پسند کریں گے۔ آئینی پابندی کے باوجود ان کا یہ بیان امریکی سیاست میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!

تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں

متعلقہ خبریں

Back to top button