
امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر ڈرون حملہ، جزیرہ قشم میں دھماکے، تہران کا دو امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
واشنگٹن، 3 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے عین قبل ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امریکی فوج نے ایران کے اہم جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ڈرون حملہ تھا، جس کے بعد جزیرے پر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکہ کے دو ڈرون مار گرائے ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے 2 نومبر کو آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا۔ اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی جزیرے پر متعدد دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے کے جواب میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی کارروائی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف محدود فوجی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جزیرہ قشم پر تازہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی کڑی بتائی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے چھوٹے پیمانے پر کیے گئے اور انہیں خفیہ رکھا گیا، تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم تازہ حملے کو گزشتہ کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ شدید قرار دیا جا رہا ہے۔فی الحال امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایران کا دو امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے جنوب میں امریکہ کے دو ڈرون مار گرائے ہیں۔ ایرانی فورسز کے مطابق ان ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر سسٹم استعمال کیا گیا۔ ایرانی دعوے کے مطابق اس کارروائی کے بعد امریکی ڈرونز کی وہ تعداد چار ہوگئی ہے جنہیں ایرانی فورسز نے پکڑنے یا اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر غیر یقینی کا اظہار کیا تھا۔ صحافیوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطر کی ثالثی سے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے دوحہ کا دورہ بھی کیا تھا۔
امریکی میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے خواہش مند ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں اسرائیل میں ہنگامی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جماعت کے لیے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا اہم چیلنج ہے۔ انتخابات سے عین قبل ایران پر حملے کی خبر نے امریکی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو ایک ساتھ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں اپریل میں فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور وہاں جہاز رانی کے معاملات پر اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سفارتی رابطوں کے باوجود جزیرہ قشم پر تازہ حملے نے خطے میں صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!
تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں



