سیاسی و مذہبی مضامین

خوابوں کی تعبیر اور ان کی حقیقت

اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایک نصرانی کا قبول اسلام

ایک عارف کو ایک بیما رنصرانی کے پاس حالت نزع میں جانے کا اتفاق ہوا تو اس سے کہا مسلمان ہو جا تجھے جنت ملے گی، وہ بولا مجھے اس کی تو حاجت نہیں،انھوں نے کہا کہ مسلمان ہوجا تجھے دوزخ سے نجات ملے گی،اس نے کہا میں اس کی بھی پرواہ نہیں کرتا، انھوں نے کہا مسلمان ہوجا تجھے خدائے کریم کا دیدار نصیب ہوگا ا س پر وہ مسلمان ہوگیا اور اس کی روح پرواز کرگئی اسی رات کو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدا نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟اس نے جواب دیا، اپنے سامنے مجھے کھڑا کیا اورفرمایا، کیا تو میری لقاء کے شوق میں مسلمان ہوا ہے؟ تجھے میری لقاء اوررضا دونوں نصیب ہوں گی اس کونسفیؒ نے بیان کیا ہے اور فخرالدین رازیؒ نے اس کو ایک یہودی کی بابت نقل کیا ہے۔

ایک کامل کوکھانا کھلانے پرجنت

بعض صالحین سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں ایک مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کے قصد سے داخل ہوا وہاں ایک عابد اورایک تاجربیٹھے ہوئے تھے ،اور وہ عابد دعاء مانگ رہا تھا کہ اے مالک میں آج فلاں فلاں قسم کا کھانا فلاں فلاں قسم کا حلوا چاہتا ہوں، اس تاجر نے کہا اگر یہ شخص مجھ سے مانگتا تو میں ضرور کھلاتا لیکن وہ حیلہ گری کرتا ہے میرے سامنے اللہ سے دعا کرتا ہے اوراس کا مقصد یہ ہے کہ میں کھلاؤں، قسم ہے اللہ کی میں ہرگز اسے کچھ نہ کھلاؤں گا وہ عابد دعا سے فارغ ہو کر مسجد کے ایک گوشہ میں سوگئے، ناگاہ ایک شخص مسجد میں آیا، اس کے ہاتھ میں ایک خوان سرپوش ڈھکا ہوا تھا اس نے مسجد کے چاروں طرف دیکھا تو اس عابد کو ایک گوشہ میں سویا ہوا پایا ان کے پاس آکر انھیں جگایا او ان کے آگے خوان رکھ کرہٹ گیا۔

اس تاجر نے جو دیکھا تو اس میں اتنے ہی اقسام کے کھانے تھے جتنے اس نے طلب کئے تھے، انھوں نے بقدر اشتہا کھایا اوربقیہ پھیردیا تاجر نے اس لانے والے سے دریافت کیا کہ میں تجھے خدا کا واسطہ دیکر پوچھتا ہوں تو اس شخص کو پہلے سے جانتا تھا؟ اس نے کہا واللہ میں نہیں جانتا میں ایک مزدور آدمی ہوں ایک سال سے میری لڑکی اوربیوی ان کھانوں کا شوق رکھتے تھے مگر اتفاق نہیں ہوا تھا۔

آج میں نے ایک شخص کا بوجھ اٹھا یا تواس نے ایک مثقال سونا مجھے دیا میں گوشت وغیرہ خرید لایا اور میری بیوی پکانے لگی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی ،خواب میں ،میں نے آنحضرت  کودیکھا آپ نے فرمایا آج تمہارے یہاں ایک ولی اللہ آئے ہوئے ہیں اور وہ مسجد میں ٹھہرے ہیں تو نے جو کھا نے اپنے اہل کے واسطے پکائے ہیںان کا انھیں بھی شوق ہے یہ کھانے ان کے پاس لے جا وہ اپنی حاجت کے موافق کھالیں گے اوربقیہ میں اللہ تمہیں برکت دیگا ،اورمیں تیرے لئے جنت کی کفالت کرتا ہوں۔

میں نے بیدار ہوکے اس کی تعمیل کی ،تاجر نے کہا میں نے اس شخص کو یہ کھانے اللہ سے مانگتے سنا تھا پھرپوچھا تو نے اس پرکیا خرچ کیا ہے؟ اس نے کہا ایک مثقال ،تاجر نے کہا مجھ سے دس مثقال لے کر مجھے اپنے ثواب میں ایک قیراط کا حصہ دار بنا لے اس نے کہا یہ نہیں ہوسکتا ،تاجر نے کہا بیس مثقال لے لے اس نے کہا نہیں، تاجر نے کہا پچاس مثقال لیکراپنا شریک بنالے کہا نہیں پھرکہا سو مثقال لیکرشریک بنا لے اس نے کہا قسم ہے اللہ کی میں ہر گز ایسی چیز کو جس کی نبی کریم  نے ضمانت کی ہے نہ فروخت کروںگا۔

اگرچہ توساری دنیا اس کی قیمت میںدے اگر تجھے اجر لینا تھا تو مجھ سے پہلے تونے اس عابد کی خواہش پوری کی ہوتی مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے راوی کہتے ہیںتا جر اپنی غفلت پر بہت نادم ہوا لیکن اس کی ندامت نے کچھ نفع نہ دیا اور پریشا ن ہوکر مسجد سے نکلا جیسے کوئی اپنی گم شدہ چیزپر پریشان ہو ا کرتا ہے ۔

(خوابوں کی تعبیر اور ان کی حقیقت جلد دوم از حبیب الامت   صفحہ: ۱۱۳تا۱۱۵)٭

متعلقہ خبریں

Back to top button