
امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی تعداد خاموشی سے کم کر رہا ہے: امریکی میڈیا
ایران کی دھمکیوں اور حوثی حملوں کے خدشات کے باعث امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی تعداد کم کرنا شروع کر دی
واشنگٹن، 22 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اپنے فوجی اہلکاروں کی تعداد خاموشی سے کم کر رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی براہِ راست دھمکیوں اور حوثی گروپ کے ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی موجودگی محدود کی جا رہی ہے۔
سی بی ایس نیوز نے ایک امریکی عہدیدار اور سینئر فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی میں کمی کا تعلق خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات سے ہے۔ تاہم، رپورٹ میں فوجیوں کی تعداد اور ان کی واپسی کے منصوبے سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے کہا ہے کہ امریکی فوج مختلف مشنز کی ضروریات کے مطابق اپنے اہلکاروں اور ساز و سامان کی نقل و حرکت معمول کے تحت کرتی رہتی ہے۔ ان کے مطابق اس عمل کا مقصد آپریشنل تیاری بہتر بنانا اور مختلف فوجی ذمہ داریوں کے لیے مؤثر انتظامات برقرار رکھنا ہے۔
کیپٹن ٹِم ہاکنز کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اہلکاروں اور فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت سے متعلق تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج خطے میں اپنے اہلکاروں اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔
اس سے قبل سعودی عرب کے شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس فیصلے کو خطے میں امریکی شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق خدشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران سے متعلق کشیدگی اور حوثی حملوں کے خدشات نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے فوجی تعیناتی میں کمی کی حتمی تعداد، اس کی مدت اور مستقبل کے لائحۂ عمل کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں۔



