
وارانسی میں الٹا معاملہ! مرد راہگیروں کو ہراساں کرنے کے الزام میں دو خواتین گرفتار
"کوئی ہمیں بھی تنگ کرے!" وارانسی واقعے نے انٹرنیٹ پر مچا دی دھوم، صارفین کے مزاحیہ تبصرے وائرل
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس کے اینٹی رومیو اسکواڈ نے مرد راہگیروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں دو خواتین کو گرفتار کر لیا۔ واقعے کے بعد یہ خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی سگرا تھانہ علاقے میں عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد کی گئی۔ شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ دو خواتین کئی روز سے سڑک سے گزرنے والے مردوں کو فحش اشاروں اور نامناسب رویے کے ذریعے پریشان کر رہی تھیں، جس سے راہگیروں کو شدید دشواری کا سامنا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ شکایات کی تصدیق کے بعد اینٹی رومیو اسکواڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ عوامی مقامات پر کسی بھی شخص کو ہراساں کرنا قانوناً جرم ہے اور ایسے معاملات میں بلاامتیاز کارروائی کی جاتی ہے۔
واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس پر بڑے پیمانے پر تبصرے کیے گئے۔ بعض صارفین نے اسے غیر معمولی واقعہ قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے مزاحیہ انداز میں "ریورس یو این او” جیسے الفاظ استعمال کیے۔ کچھ پوسٹس میں طنزیہ جملے بھی دیکھنے میں آئے، تاہم متعدد صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ ہراسانی چاہے کسی بھی جانب سے ہو، قانون کو یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی قسم کی ہراسانی یا غیر اخلاقی رویے کا سامنا ہو تو فوری طور پر متعلقہ پولیس یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔



