سیاسی و مذہبی مضامین

مجاہد اُردو ممتاز ٹریڈ یونین قائد ڈاکٹر راج بہادر گوڑ : شخصیت اور خدمات

ڈاکٹر راج بہادر گوڑ حیدرآباد دکن کے ایک مقبول کمیونسٹ رہنما، معروف ٹریڈ یونین لیڈر، اردو ادب کے محقق و نقاد اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔وہ تلگو کے پہلے ناول نگار ہیں۔ عصری نثر کی ابتدا انہیں کے قلم کی مرہون ہے۔ وہ پہلے طنزنگار ہیں جنہوں نے عصری تلگو طنز کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے اصلاحی ڈرامے لکھے۔ تلگو شاعروں کی تاریخ مرتب کی۔ اپنی سوانح لکھی جو تلگو میں پہلی خودنوشت سوانح ہے۔ عصری تلگو صحافت کی بنیاد ڈالی اور’’ویویک وردھنی‘‘ رسالہ جاری کیا۔ اس کا ایک طنز و مزاح کا ضمیمہ ’’ہاسیہ سنجیونی‘‘ تھا۔ عورتوں کی تعلیم اور اصلاح کے لیے ادارے قائم کیے اور’’ست ہت بودھنی‘‘ رسالہ جاری کیا۔

انہوں نے زبان کی اصلاح کی۔ اپنے آپ سے انہوں نے سوال کیا:’’زبان کا مقصد کیا ہے‘‘؟ پھر انہوں نے خود ہی اس کا جواب دیا:’’زبان کا اصل مقصد خیالات کو دوسروں تک پہنچانا ہے، زبان جتنی سادہ اور آسان ہوگی، اسی قدر موثر طور پر خیالات کی ترسیل بھی ہو سکے گی‘‘۔

اُردو حلقوں میں اس وقت یہ خبرسن کر نہایت افسوس اور رنج وملال اور صدمہ پہنچاجب ممتاز ٹریڈ یونین قائد، بزرگ سینئر کمیونسٹ قائد اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار ڈاکٹر راج بہادر گوڑاس فانی دنیا کو الوداع کہہ گئے ۔بے۔نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی اور ان کے ارکان ڈاکٹر راج بہادر گور جی کو ان کی یوم پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔بتادیں کہ 7؍اکتوبر کی صبح ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کا انتقال ہوگیا اور 8اکتوبر کو سپرد خاک ہوئے۔

ڈاکٹر راج بہادر گوڑ 21 جولائی 1918ء کو شہر حیدرآباد کے محلہ گولی پورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مفید الانام، دھرماونت اور رفاہ عام اسکول میں ہوئی۔ چادر گھاٹ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان درجہ اول میں کامیاب کیا اسی سال عثمانیہ یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ میں داخل لیا۔ انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے بعد عثمانیہ میڈیکل کالج میں 1943ء میں ایم بی بی ایس کی تکمیل کی۔ 1952 ء میں ریاستی اسمبلی کی جانب سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور مدت کی تکمیل کے بعد پھر ایک بار 1958ء میں راجیہ سبھا کی دوسری میعاد کے لئے ان کا انتخاب عمل میں آیا۔ 1962ء میں کمیونسٹ پارٹی کی سٹی پارٹی کے سکریٹری مقرر ہوئے۔

ڈاکٹر راج بہادر گوڑ اُردو آرٹس کالج کے بانی اراکین میں تھے۔ انتقال سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے اُردو تعلیمی ٹرسٹ کو تین لاکھ روپے کا گراں قدر عطیہ دیا۔ اُردو ہال، انجمن ترقی اُردو اور اس سے وابستہ اداروں کی تاحیات خدمت کی۔ ان کی تصانیف ادبی مطالعے اور ادبی تناظر انجمن ترقی اُردو (ہند) نے شائع کیں۔ انہوں نے ادبی تحریروں پر تبصرے لکھے۔ فیض احمد فیض، فراق گورکھپوری، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی، پریم چند وغیرہ پر مختلف ادبی رسالوں میں ان کے مضامین شائع ہوئے۔

دہلی کے علاوہ بھارت کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے ادبی، سیاسی و سماجی اجلاسوں میں شرکت کیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ُاردو والوں کو کسی خوش گمانی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُردو کو اس کا حق ملنے تک جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اُردوبھارت کی زبان ہے اور یہ مختلف تہذیبوں کی ترجمان ہے اور خاص کر جنگ آزادی کی زبان ہے۔‘‘

اُردو کے ایک بے باک ترجمان جنھوں نے اپنے کئی تقاریر میں اُردو داں کو اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے آگاہ کرتے رہے اور خود بھی اس کی بقاء وفروغ کیلئے ہرممکن کوششیں کیں۔اورجنوبی بھارت میں اُردو زبان کو فروغ دینے کیلئے ہر وہ اقدامات کرتے رہے ۔اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ہمیں ان کی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے جو انھوں نے اُردو کی بقاء وفروغ کیلئے چلائے اوراُردو داں /دانشوروںسے اُردو کی بقاء وفروغ کیلئے سے اپیل کی۔انھوں نے اپنے آخری دنوں میں اُردو تعلیمی ٹرسٹ کو جو 3لاکھ روپے کا عطیہ دیایہ اُردو کی بقاء وفروغ کیلئے ان کا آخری پیغام بھی ہے۔

اسی لئے بھارت کے ہرشہری کو چاہئے کہ اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے اپنی حصے کی ذمہ داری کو نبھائے۔ کیونکہ اُردو محض ایک زبان نہیں بلکہ یہ بھارت کی گنگا جمنی ثقافت وتہذیب ہے۔ جو بھارت کے تمام شہری کو آپس میں جوڑے رکھنے ،امن وامان کو برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے اور بھارت کی ترقی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔

اس زبان کی حفاظت کے لئے لازمی ہے کہ اُردو اداروں کو بحال رکھا جائے اورخود بھی اُردو پڑھیں اپنے بچوں کو اُردو پڑھائیں۔اُردو کا رسم الخط اختیار کریں۔اُردو کا رسم الخط اختیار کرنا ہی اُردو پڑھنا، لکھنا اور جاننا ہے۔آخر میں ایک بار پھر ڈاکٹر راج بہادر گور جی کو ان کی یوم پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

بے۔نظیرانصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی
اُسیا رسورٹ(کوینس ہوم) احمدآباد پیلس روڈ،کوہِ فضا،بھوپال۔۴۶۲۰۰۱(ایم۔پی)

متعلقہ خبریں

Back to top button