فرمایا: اگر انسان دین کے لئے محنت کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لئے راستے کھول دیتے ہیں، ’’وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘ انسان جب جدو جہد کرتا ہے اور محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز عطا فرما دیتے ہیں جسکو وہ حاصل کرلینا چاہتا ہے، آدمی جب دنیا کے لئے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا عطا فرما دیتے ہیں۔
صحت کے لئے محنت کرتا ہے تو اس کو صحت ملتی ہے اور انسان جب دین کے لئے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دین عطا فرماتے ہیں، میں نے قرآن مجید کی وہی آیت آپ کے سامنے تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَا اِلیَ اللّٰہِ‘‘ وہ آدمی کتنا اچھا ہے یا اس آدمی کی بات کتنی اچھی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے۔
نیک اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے۔بچے پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ ماں کو پکارتا ہے اور جب شاگردسے مسئلہ کوئی حل نہیں ہوتا تو وہ استاذ سے مدد لیتا ہے، انسان جب بیمار ہو جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کی مدد کے ذریعہ ٹھیک اور درست ہونے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب انسان بھٹکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی طاقت اور عظمت اور ذات مقدس ایسی ہے جو انسان کو راہ راست پر لاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انعام
فرمایا: انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ مال میرا ہے، یہ زندگی میری ہے، یہ صلاحیت میری ہے، یہ خوبی میری ہے، یہ فصاحت وبلاغت میری ہے اور جو بھی میں اچھے کام کر رہا ہوں وہ خوبی میری اپنی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ودیعت فرمائے ہیں، کسی کو زبان کی سلاست عطا فرمائی اور کسی کو جسم اتنا لمبا چوڑا عطا فرما دیا، کسی کو خوبصورتی عطا فرمادی تو کسی کو مال عطا فرما دیا، کسی کو اولاد عطا فرمادی اور کسی کو بادشاہت عطا فرمادی، یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، کسی چیز کا ملنا یہ انسان کی اپنی اپنی صلاحیت پر منحصر نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا احسان ماننا چاہئے
فرمایا: اللہ تعالیٰ کا احسان بندہ کو ماننا چاہئے، حضور اکرم eنے اس چیز کو ارشاد فرمایا ’’انسان سب سے پہلے اپنے ایمان پر شکر ادا کرے، اے اللہ! آپ کا شکر ہے کہ آپ نے مجھے ایمان والا بنایا۔ اس کے بعد پھر اعمال صالحہ کو‘‘ قرآن نے فرمایا ’’وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ‘‘اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال، اچھے کام کئے۔ یعنی پہلے ایمان لانا شرط ہے اور اس کے بعد اچھے کام کرنا شرط ہے پھر اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم تمہیں ان اعمال کے بدلے جنت دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کی عظمت جب بندے کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے تو وہ گناہوں سے بچنے لگتا ہے اور نیکی کی توفیق اور اس کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہونے لگتی ہے۔
(ماخوذ از ملفوظات حضرت حبیب الامت جلد دوم صفحہ: ۱۵۲ تا۱۵۵)٭



