سیاسی و مذہبی مضامین

   جمعہ کا دن ہو یا رات امت مسلمہ کے حالات بہت ہی خراب 

محمد مصطفی علی سروری
جمعہ کی رات تھی اور آٹھ بج رہے تھے۔ گھر میں اپنے شوہر اور تین بچوں کو چھوڑ کر 36 سالہ عمرانہ باہر چلی جاتی ہے اور جاتے وقت شوہر کو بتلاتی ہے کہ وہ اپنے ایک دوست سے ملنے جارہی ہے۔ 20؍ اگست 2021ء کی شام عمرانہ جاتے وقت تو خود اپنے پیروں پر چل کر گھر سے باہر نکلی ہے لیکن اس کے گھر میں دوبارہ اس کی نعش ہی پہنچتی ہے۔
قارئین کرام یہ عمرانہ کون تھی اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کا قتل کس نے کیا اور سب سے اہم سوال کہ آخر کونسا دوست تھا جس سے ملنے کے لیے وہ اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر گئی۔
ان سارے سوالات کے جوابات ہمیں چندی گڑھ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار دی ٹریبون انڈیا کی 22؍ اگست کی رپورٹ سے ملتے ہیں۔ ٹریبون کے رپورٹر سنجے یادو کی رپورٹ کے مطابق عمرانہ کا تعلق اترپردیش کے علاقے آگرہ سے تھا اور اس کی شادی محمد شاہد کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے بعد سال 2019ء سے عمرانہ گروگرام کے علاقے راجیو نگر کالونی میں قیام پذیر تھی۔ ان کے تین بچے تھے۔ 20؍ اگست بروز جمعہ شام 8 بجے عمرانہ اپنے ایک دوست سے ملنے کا ہے کہہ کر گھر سے روانہ ہوتی ہے لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں محمد شاہد کو آٹو ڈرائیور جس کے آٹو میں عمرانہ دوست سے ملنے گئی تھی آکر بتلاتا ہے کہ عمرانہ کو اس کے دوست نے قتل کردیا ہے۔ 
پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ عمرانہ اپنے گھر سے نکل کر ایک آٹو میں سوار ہو جاتی ہے اور اپنے دوست سچن سے ملنے کے لیے جاتی ہے۔ عمرانہ جب سچن سے ملتی ہے تو سچن عمرانہ کو لے کر گروگرام کے ہی ہوٹل میں جاتا ہے۔ دیکشا  ہوٹل میں سچن ایک فرضی نام سے کمرہ بک کرواتا ہے اور پھر سچن عمرانہ کے ساتھ دیکشا ہوٹل کے کمرہ نمبر 206 میں چلا جاتا ہے لیکن کمرے میں جانے کے پہلے تو سب نارمل رہتا ہے پھر اچانک سچن ہوٹل کا کمرہ چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
سچن کے کپڑوں پر خون کے نشانات دیکھ کر ہوٹل اسٹاف اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تیزی سے راہ فرار اختیار کرلیتا ہے۔ پولیس کے حوالے سے بتلایا گیا کہ عمرانہ کے جسم پر چاقو کے 12 ضربات موجود تھے اور حملے کے فوری بعد اس نے دم توڑ دیا تھا۔ گرو گرام سیکٹر 14 کی پولیس اب اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
قارئین اس واقعہ میں سب صرف وہی تفصیلات یہاں درج کر رہا ہوں جو ٹریبون اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھی ہیں۔ انگریزی کے دوسرے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی اس واقعہ کی رپورٹ لکھی ہے لیکن اس کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اخبار نے عمرانہ کے کردار پر شدید سوالات اٹھائے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کے واقعہ کا یہاں پر تذکرہ کیا معنی رکھتا ہے۔ قارئین دراصل مسلمانوں میں جس طرح سے دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات سے غفلت بڑھتی جارہی ہے اس کے بہت بھیانک نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ 
سوال یہ نہیں ہے کہ گروگرام کا واقعہ کوئی اس طرح کا اکلوتا واقعہ ہے۔ 24؍ اگست 2021ء کو شہر حیدرآباد کے اخبارات نے ایک مقامی عدالت کے فیصلے کی خبر شائع کی۔ پولیس کے حوالے سے خبر میں بتلایا گیا ، 19؍ جنوری 2019ء کو حفیظ پیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک خاتون کو نشے میں دھت 7 نوجوانوں نے اجتماعی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے تمام ملزم نوجوانوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور ایل بی نگر عدالت میں یہ مقدمہ چلتا رہا بالآخر فاضل مجسٹریٹ نے 6 مجرمین کو عمر قید کی سزا اور جرمانہ لگایا اور ان کے ساتھ جرم میں ملوث نابالغ لڑکے کے متعلق بتلایا گیا کہ اس کا مقدمہ علیحدہ سے عدالت میں ابھی زیر دوران ہے۔
قارئین کرام اس سارے واقعہ میں سب سے تشویشناک پہلو اخباری اطلاع کے مطابق تمام کے تمام چھ مجرمین مسلمان ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی عمر کا مجرم 36 سال کا ہے۔ دوسرے مجرم کی عمر 22 سال بتلائی گئی جبکہ چار مجرمین ایسے ہی جن کی عمریں صرف 20 برس ہے۔
ذرا غور کیجئے گا جس قوم پر چار چار شادیاں کرنے کا الزام لگتا ہے اسی قوم کے بچے جوان ہوجارہے ہیں اور ان کی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں اور وہ جنسی جرائم میں ملوث ہوتے جارہے ہیں۔ وہ قوم جو یہ کہتی ہے کہ مذہب اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے آج اسی قوم کے نوجوان عدالت کے کٹہرے میں جنسی جرائم کی پاداش میں سزا کے مستحق قرار پاتے ہیں تو اس صورتحال کا ہمیں تجزیہ کرنا ہوگا۔
یقین کیجئے گا کہ آج مسلم معاشرے میں اول تو دین اسلام سے ناواقفیت، دوم اولاد کی تربیت سے غفلت کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ مسلمان بے راہ روی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے سماج میں نکاح کو آسان بنانے کے لیے اور اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کے لیے فوری توجہ ناگزیر ہے۔
گذشتہ مہینے انڈیا ٹوڈے میگزین کی ایک رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اشیش پانڈے نے اس رپورٹ میں لکھا کہ کڑپہ، ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے الے وینکٹ سبا ریڈی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں علاج کے لیے شہر حیدرآباد میں لکڑی کے پل پر واقع ایک دواخانے سے رجوع کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے بتلایا کہ سبا ریڈی کی بیماری شدید ہے اور اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ کسی صحت مند انسان کے جگر کا عطیہ حاصل کیا جائے اور پھر سبا ریڈی کو اس جگر کی پیوند کاری کے ذریعہ بچایا جائے۔ 
سبا ریڈی کی زندگی بچانے کے لیے بہت سارے مسلمان لوگ بھی آگے آئے۔ ان سب میں سے ایک مسلم خاتون ممتاز بیگم کا جگر پیوند کاری کے لیے سب سے موزوں قرار پایا اور پھر ڈاکٹرز نے آپریشن کر کے پہلے تو ممتاز بیگم کے جگر کا ٹکرا نکالااور پھر اس کو سبا ریڈی کے جسم میں پیوند کردیا۔
قارئین خبر میں ہماری دلچسپی بڑھی کہ واقعی یہ تو ہند مسلم بھائی چارہ کو بڑھانے والی خبر ہے مگر خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ ممتاز کوئی اور نہیں بلکہ سبا ریڈی کی بیوی ہے۔ 
ممتاز نامی اس مسلم خاتون نے سبا ریڈی سے نہ صرف شادی کی بلکہ ان کے تین بچے بھی ہیں اور سبا ریڈی کو جگر کا عطیہ دینے کے لیے جو دیگر مسلمان رجوع ہوئے تھے وہ بھی کوئی اور نہیں بلکہ اس کے سسرال والے یعنی ممتاز کے گھر والے تھے۔ (بحوالہ indtoday.in ۔ 10؍ جولائی 2021ء کی رپورٹ)
قارئین مسلم معاشرے میں نکاح کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت پر خاص توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جب والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے سنجیدہ ہوتے ہیں تو بچے بھی والدین کی زیر نگرانی ہر میدان میں بفضل تعالیٰ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔
مغربی بنگال کے علاقے مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے شیخ رفیق اور ان کی اہلیہ جمعہ بی بی نے بہتر روزگار کی تلاش میں بنگال سے نکل کر کیرالا کا رخ کیا اور گذشتہ 12 برسوں سے یہ لوگ کوزی کوڈ کیرالا میں مقیم ہیں۔ شیخ رفیق کارخانے میں کام کرتے ہیں اور ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں بطور ملازمہ کام کرتی ہے جس سے ان کی معاشی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کا تعلق مغربی بنگال سے ہے تو ان کی مادری زبان بھی بنگالی ہی ہے۔
ماں باپ جب مرشد آباد سے کیرالا جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کی دو لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو 12 سال پہلے بنگال کے بنگالی میڈیم اسکول میں پڑھتی تھیں۔ کیرالا پہنچنے کے بعد ان بچیوں کو کیرالا کے اسکولس میں داخلہ دلوادیا گیا۔ اخبار دی انڈین ایکسپریس میں شائع 16؍ جولائی 2021ء کی ایک رپورٹ کے مطابق جب اس ہفتے کے دوران کیرالا کے دسویں جماعت کے امتحانات (SSLC) کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو اس بنگالی ماں باپ کی چھوٹی لڑکی رخصت خاتون نے (A+) گریڈ حاصل کیا۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

سارے مضامین میں (A+) گریڈ بہت سارے طلبہ نے حاصل کیا لیکن خاص بات یہ تھی کہ جو لڑکی فرسٹ کلاس میں بنگالی میڈیم سے پڑھتی تھی اس نے بھی ملیالی میڈیم سے A+  گریڈ حاصل کر کے ثابت کیا کہ والدین کی تربیت اور نگرانی مثبت نتائج برآمد کرتی ہے۔ رخصت خاتون نے ملیالی زبان کے پرچہ میں بھی سو فیصد مارکس حاصل کیے۔ انڈین ایکسپریس اخبار سے بات کرتے ہوئے رخصت خاتون نے بتلایا کہ مجھے ٹیچرس کے ساتھ ساتھ دوستوں سے بھی ملیالی سیکھنے میں بڑی مدد ملی۔ 
جمعہ بی بی نے اپنی لڑکی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو کہہ دیا تھا کہ انہیں صرف پڑھائی کرنی ہے اس لیے وہ اپنی پوری توجہ صرف پڑھائی پر مرکوز کریں۔ جمعہ بی بی کی بڑی لڑکی بھی بارہویں جماعت میں پڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے شوہر آج بھی ملیالی بولنے میں دقت محسوس کرتے ہیں مگر ان کی دونوں لڑکیاں فراٹے کے ساتھ ملیالی بولتی ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔
رخصت خاتون کو پہلے توملیالی میڈیم کے اسکول میں بھی دوبارہ فرسٹ کلاس میں داخلہ دیا گیا لیکن جس تیزی کے ساتھ رخصت خاتون پڑھ رہی تھی تو رخصت خاتون کو 4 کلاس میں ڈبل پرموشن دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ بنگالی اور ملیالی کے علاوہ رخصت ہندی زبان پر بھی عبور رکھتی ہے اور ڈسٹرکٹ سطح کے ہندی پروگراموں میں شرکت کرتی ہے۔ رخصت خاتون آگے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بینک میں ملازمت کرنا چاہتی ہے اور کامرس سے گریجویشن کرنا چاہتی ہے۔ 
قارئین کرام واقعات وہی ہیں جن پر میڈیا میں صحافیوں نے قلم اٹھایا ۔ ان واقعات کو خبروں کی طرح پڑھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امت مسلمہ کے یہ حالات ہماری توجہ کے متقاضی نہیں۔ یہ جو بے دینی اور اولاد کی تربیت سے غفلت کا ناسور ہے کل کے دن مسلم سماج کی پوری بنیادوں کو غیر مستحکم کرسکتا ہے۔ ذرا مسلم قوم اپنا محاسبہ کرے کہ آخر کیوں ہمارے ہاں لڑکیوں کی شادیاں مشکل ترین بنادی گئی ہیں۔ 
لڑکوں کی تربیت کے حوالے سے غفلت اس قدر بڑھ گئی کہ ہمارے لڑکے تعلیم سے دور ، دین سے دور، اخلاق و کردار سے عاری، نشے اور دیگر جرائم کی طرف راغب ہوتے جارہے ہیں۔ اگر ہمارے دلوں میں ایک دھڑکنے والا دل ہے تو وہ امت مسلمہ کے اس درد کو کیوں محسوس نہیں کرتا اور ہماری آنکھوں کا پانی سوکھا نہیں ہے تو اپنے رب کے حضور آنسوئوں کا نذرانے کے ساتھ دعا کے لیے ہمارے ہاتھ اٹھتے کیوں نہیں؟ کیا ہم زندہ بھی ہے یا نہیں؟ ذرا سونچئے۔ 
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button