مساجد میں شادی ہال کیوں نہیں؟✍️نقی احمد ندوی
خواتین سے درخواست ہے کہ وہ اسلامک کلچرل کے احاطے میں ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپے رہیں، اسکارف سیکورٹی ڈیسک سے لیا جاسکتا ہے۔احاطہ میں شراب، موسیقی، رقص یا سگریٹ نوشی مکمل طور پر ممنوع ہے۔تقریب کی فلم بنانے یا تصاویر کھینچنے کے لیے ایک فارم ہے جس کو بھرنے کے بعد اور اجازت ملنے کے بعد تصویر کی اجازت ہوگی۔
ہماری مساجد خاص طور پر بڑے شہروں میں عالی شان عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ان مساجد کو مختلف طریقوں سے استعمال کرکے قوم وملت کے لئے بہت سے مفید کام انجام دیئے جا سکتے ہیں تو بعض لوگوں کو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ مثلا ہم نے یہ کہا کہ مسجدوں کے ایک فلور پر شادی ہال کھولیں جہاں اسلامی طریقہ سے شادی کی تقریبات منعقد کی جاسکیں، اس سے ایک طرف مسجد کو مالی فائدہ ہوگا جس کو دیگر فلاحی اور تعلیمی کاموں میں صرف کیا جاسکے گا تو دوسری طرف شادی کی تقریبات میں جو ہندوانہ رسم ورواج پیدا ہوچکے ہیں ان سے بچنے کی ایک صورت نکل سکے گی۔ اپنے ملک میں یہ بات لوگوں کو عجیب لگتی ہے، جب کہ یورپ کے تمام ممالک میں مسجدوں کے اندر ہی یا اس کے احاطہ میں شادی ہال کا رواج ہے۔ وہاں عموما مسجدوں کی ویب سائٹ پر شادی ہال کے متعلق آپ کی معلومات مل جائیں گی۔
مثال کے طور پر ایک مسجد اپنے شادی ہال کے متعلق اس طرح اعلان کرتا ہے۔ نکاح کی تقریب کے لیے مخصوص ہال موجود ہے۔ جو مہمانوں کی بڑی تعداد کے لیے بھی کافی ہے۔ تقریب میں شریک ہونے والے تمام حضرات سے اپیل ہے کہ اسلامی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی لباس پہننے کی زحمت کریں۔ جو بھی اسلامی لباس کی خلاف ورزی کرے گا، انتظامیہ کو پوری طرح حق حاصل ہے کہ اس کے داخلہ پر پابندی لگادے۔“
لندن سنٹرل مسجد کے اس ہال میں شادی کی تقریبات منعقد کرنے کی بارہ شرائط ہیں جن میں بعض اہم شرطیں حسب ذیل ہیں:
خواتین سے درخواست ہے کہ وہ اسلامک کلچرل کے احاطے میں ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپے رہیں، اسکارف سیکورٹی ڈیسک سے لیا جاسکتا ہے۔احاطہ میں شراب، موسیقی، رقص یا سگریٹ نوشی مکمل طور پر ممنوع ہے۔تقریب کی فلم بنانے یا تصاویر کھینچنے کے لیے ایک فارم ہے جس کو بھرنے کے بعد اور اجازت ملنے کے بعد تصویر کی اجازت ہوگی۔
دیگر شرائط کے ساتھ مذکورہ بالا شرطوں پر نظر ڈالیں کہ وہاں کی مسجدوں کے احاطہ میں یا مسجدوں کے اندر جو شادی ہال موجود ہیں وہاں تقریبات کے کیسے ضواط نافذ کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم بھی اپنے اپنے علاقوں کی جامع مسجد میں اسی قسم کا انتظام کریں جن سے سماج کے اندر شادی کے متعلق مختلف قسم کے غیر شرعی رسم و رواج سے نہ صرف بچنے اور بچانے کا موقع ملے گا بلکہ اسلام کی تہذیب و ثقافت کی ترویج بھی ہوگی۔ یورپ کی تقریباً تمام مساجد میں اسی قسم کے شادی ہال آپ کو ملیں گے، چنانچہ برطانیہ کی برمنگھم سنٹرل مسجد اپنی مسجد کی مختلف خدمات کا تعارف کراتے ہوئے اپنے ویب سائٹ پر یوں رقم طراز ہے:
ہماری مسجد میں کرایہ پر لینے کے لیے مختلف سہولیات سے لیس کمرے موجود ہیں۔ جو مختلف سائز کے ہیں۔ ملاقاتوں، تربیتی کورسز، کانفرنس، نمائش، نجی تقریبات، شادی، جنازہ اور دیگر فیملی تقریبات کے لیے ایک مثالی سہولیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری مسجد کے کمیونٹی ہال میں تقریباً ۰۰۴ مہمانوں کے استقبال کا مکمل انتظام ہے۔
مسجد میں نکاح کرنا حدیث شریف سے ثابت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ فی المساجد الخ· (رواہ ترمذی:۱/۷۰۲) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو، اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند



